(مسئلہ نمبر۱۱۱)محترمی ومکرمی جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہمندرجہ ذیل عبارت کی روشنی میں قرآن وحدیث کے مطابق ان لوگوں کی شرعی حیثیت کیاہے؟جولوگ قرآن وحدیث کے مطابق دوسرے شرعی وارثوں میں ترکہ تقسیم ؒنہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم ترکہ میں شامل کوئی بھی چیز دوسرے وارثوں میں تقسیم نہیں کریں گے اور نہ قرآن پاک کے اس حکم کومانتے ہیں بلکہ قرآن پاک کے اس مسئلے کو مذاق اور طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم صرف اپنے مرحوم والد صاحب کی وصیت پر عمل کرتے ہیں ترکہ میں شامل کوئی بھی چیز چھوٹی ہو یا بڑی کسی بھی وارث کو نہیں دیں گے،یہ لوگ قرآن وسنت کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ کھلم کھلا ان کا انکار کرتے ہیں،ایسے لوگوں کے بارے میں شرعی حکم کیاہے؟واضح رہے کہ قرآن کریم کے کسی صریح حکم کا انکار اور مذاق کفرہے،اسی طرح علی الاطلاق سنت کاانکار اور اس کا مذاق اڑانا بھی کفرہے کیونکہ بعض سنن کا من الدین ہونا قطعی اور متواترہے،لہذا صورت مسؤلہ میں بشرط صحت سوال مذکورہ لوگ کافرہیں۔
”ولولم یرالسنۃ حقاکفر لانہ استخفاف اھ ووجھہ ان السنۃ احداحکام الشرعیۃ المتفق علی مشروعیتھا عندعلماء الدین فاذا انکر ذلک ولم یرھا شیئا ثابتا ومعتبرا فی الدین یکون قداستخف بہا واستھانہا وذلک کفر“ ……(ردالمحتار:۱/۰۵۳)
”قال العلامۃ انورشاہ کشمیری فی اکفارالملحدین فی ضروریات الدین بیانافی تقسیم التواتروقدیکون تواترعملی وتواتر توارث وقدتجتمع اقسام کما فی اشیاء من الوضوء کالسواک من المضمضۃ والاستنشاق ……واذا علمت ہنا فنقول الصلاۃ فریضۃ واعتقاد فرضیتہا فرض وتحصیل علمہافرض وجحدہاکفر وکذا جھلہا،والسواک سنۃ واعتقادسنیتہ فرض وتحصیل علمہ سنۃ وجحودہا کفر وجھلہ حرمان وترکہ عتاب اوعقاب“ ……(اکفار الملحدین علی رسائل کشمیری:۳/۶)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g