Monday, April 6, 2026

منکرقرآن وسنت کا حکم:ؒؒ




(مسئلہ نمبر۱۱۱)
محترمی ومکرمی جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
مندرجہ ذیل عبارت کی روشنی میں قرآن وحدیث کے مطابق ان لوگوں کی شرعی حیثیت کیاہے؟جولوگ قرآن وحدیث کے مطابق دوسرے شرعی وارثوں میں ترکہ تقسیم ؒنہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم ترکہ میں شامل کوئی بھی چیز دوسرے وارثوں میں تقسیم نہیں کریں گے اور نہ قرآن پاک کے اس حکم کومانتے ہیں بلکہ قرآن پاک کے اس مسئلے  کو مذاق اور طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم صرف اپنے مرحوم والد صاحب کی وصیت پر عمل کرتے ہیں ترکہ میں شامل کوئی بھی چیز چھوٹی ہو یا بڑی کسی بھی وارث کو نہیں دیں گے،یہ لوگ قرآن وسنت کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ کھلم کھلا ان کا انکار کرتے ہیں،ایسے لوگوں کے بارے میں شرعی حکم کیاہے؟
واضح رہے کہ قرآن کریم کے کسی صریح حکم کا انکار اور مذاق کفرہے،اسی طرح علی الاطلاق سنت کاانکار    اور اس کا مذاق اڑانا بھی کفرہے کیونکہ بعض سنن کا من الدین ہونا قطعی اور متواترہے،لہذا صورت مسؤلہ میں بشرط صحت سوال مذکورہ لوگ کافرہیں۔

ؒؒ

”ولولم یرالسنۃ حقاکفر لانہ استخفاف اھ ووجھہ ان السنۃ احداحکام الشرعیۃ المتفق علی مشروعیتھا عندعلماء الدین فاذا انکر ذلک ولم یرھا شیئا ثابتا ومعتبرا فی الدین یکون قداستخف بہا واستھانہا وذلک کفر“ ……(ردالمحتار:۱/۰۵۳)

”قال العلامۃ انورشاہ کشمیری فی اکفارالملحدین فی ضروریات الدین بیانافی تقسیم التواتروقدیکون تواترعملی وتواتر توارث وقدتجتمع اقسام کما فی اشیاء من الوضوء کالسواک من المضمضۃ والاستنشاق ……واذا علمت ہنا فنقول الصلاۃ فریضۃ واعتقاد فرضیتہا فرض وتحصیل علمہافرض وجحدہاکفر وکذا جھلہا،والسواک سنۃ واعتقادسنیتہ فرض وتحصیل علمہ سنۃ وجحودہا کفر وجھلہ حرمان وترکہ عتاب اوعقاب“ ……(اکفار الملحدین علی رسائل کشمیری:۳/۶)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب  



 

Thursday, April 2, 2026

قرآن مجید کو عمدہ اور بہتر آواز سے پڑھنا

 





قرآن مجید کو عمدہ اور بہتر آواز سے پڑھنا 

مسئلہ نمبر110)  

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن مجید پڑھنے میں بے جاتکلف، غنائیت اورموسیقیت پیداکرنا کیساہے؟

الجواب باسم الملک الوہاب

          قرآن مجید کو عمدہ اور بہتر آواز سے پڑھنامطلوب اور دیدہ ہے،حضورﷺ کا ارشاد ہے۔

 ”عن البراء ابن عازب قال قال رسول اللہ زینواالقرآن باصواتکم“……(ابوداؤد:۱/۶۱۲)

ؒؒلیکن قرآن مجید میں بے جاتکلف اور غنائیت اور موسیقیت پیداکرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔

ؒ”قلت وفیہ حدیث اقرؤا القرآن بلحون العرب واصواتہاوایاکم ولحون اہل

الکتابین واہل الفسق فانہ سیجیء اقواما یرجعون بالقرآن ترجیع الغناء والرھبانیۃ لایجاوزحناجرہم مفتونۃ قلوبہم وقلوب من یعجبہم شانہم“ …… (زادالطالبین:۰۴،الاتقان فی علوم القرآن للسیوطی:۱/۹۱۲،۸۱۲)

واللہ تعالی اعلم بالصواب 


Wednesday, April 1, 2026

قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کو جلانے کاحکم

قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کو جلانے کاحکم:

(مسئلہ نمبر۹۰۱)            

              السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

            حضرات مفتیان کرام وعلمائے دین مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہمارے شہر چوک حجرہ شاہ مقیم میں ہمارے محلے کے امام مسجد صاحب کابیٹا جونابالغ بچہ ہے اس نے لاعلمی کی وجہ سے کچھ ردی کاغذات کے ساتھ نورانی قاعدوں     اور قرآن پاک کے کچھ بوسیدہ اوراق کو جلاکر ان کی راکھ کو محفوظ جگہ پر دفن کردیا، چنانچہ اہل محلہ کو خبر ہونے پرہر طرف شوروغل وفتنہ فساد پھیل چکاہے، آپ حضرات مذکورہ سوالات کے جوابات قرآن وسنت کی روشنی میں ارشاد فرماکر مشکور فرمائیں۔

(۱)      

مقدس بوسیدہ اوراق کو ضائع کرنے کا کیاطریقہ ہے؟ اور جو غلطی ہوگئی اب اس کی تلافی کی کیاصورت ہے؟

(۲)     

اس عیب کو نشانہ بناکر اس میں ملمع سازی کرکے،سارے شہرمیں ڈھنڈورہ پیٹنا،پروپیگنڈے کرنا،مؤمنین کی آبروریزی کرنامسجد چھیننے کے منصوبے بنانا،آیایہ سب کچھ شریعت کے دائرے میں جائزہے؟

الجواب باسم الملک الوہاب

          صورت مسؤلہ میں واضح رہے کہ بوسیدہ مقدس اوراق کو یاتوجاری پانی میں بہادیاجائے یاپاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی پاک جگہ دفن کردیا جائے،اور قرآن پاک کے اوراق کوجلانا شرعاً جائزنہیں،لیکن چونکہ بچہ احکام شریعت کا مکلف نہیں اور اس نے لاعلمی میں ایساکیاہے،اس وجہ سے اس مسئلہ کو انتشار وفساد کاسبب نہ بنایاجائے اور جو غلطی ہوئی ہے اس پر اللہ سے معافی مانگ لی جائے،ان شاء اللہ تعالی اللہ تعالی معاف کردیں گے۔

”والمصحف اذاصارخلقا وتعذرالقراء ۃمنہ لایحرق بالنار الیہ اشارمحمدوبہ ناخذ ولایکرہ دفنہ وینبغی ان یلف بخرقۃ طاہرۃ ویلحدلہ لانہ لوشق ودفن یحتاج الی اہانۃ التراب علیہ وفی ذلک نوع تحقیر الا اذاجعل فو قہ سقف وان شاء غسلہ بالماء اووضعہ فی موضع طاہر لاتصل الیہ یدمحدث ولاغبار ولاقذر تعظیما لکلام اللہ عزوجل“……(الفتاوی الشامیۃ:۵/۹۹۲)

”عن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ  رفع القلم عن ثلاثۃ عن النائم حتی یستیقظ وعن الصبی حتی یبلغ وعن المعتوہ حتی یعقل“……(مرقاۃ المفاتیح:۶/۴۹۳)

”وفی الشریعۃ ہی الندم علی المعصیۃ من حیث ہی معصیۃ مع عزم ان لایعودالیہا اذاقدرعلیہا“……(شرح الفقہ الاکبر:۸۵۱)

واللہ تعالی اعلم بالصواب




Monday, March 30, 2026

ڈیجیٹل قرآن پر بغیر متن کے ترجمہ کا حکم:







 

(مسئلہ نمبر۸۰۱)
            حضرت مفتی صاحب السلام علیکم،عرض کرتاہوں کہ میں (عبدالاحدعرفان)جس ادارے سے وابستہ ہوں وہ        ڈیجیٹل قرآن تیارکرتااور کرواتاہے،یہ موبائل کی طرح کا آلہ ہے جس پر قرآن سنا اور اس کی اسکرین پر قرآن کا متن اورترجمہ پڑھا جاسکتاہے، مندرجہ ذیل صورتوں میں سے کن صورتوں میں میرے لیے اس کمپنی میں ملازمت کرنا درست نہ ہوگا۔

            (۱)

اس آلہ کوانسان اپنے اختیارسے ایسے استعمال کرسکے کہ آیت کی تلاوت ہورہی ہو اور اسکرین پر صرف قرآن کاترجمہ دکھائی دے۔

            (۲)

اس آلہ کوانسان اپنے اختیارسے ایسے استعمال کرسکے کہ نہ قرآن کا متن اورنہ اس کی تلاوت ظاہرہواورانسان صرف اسکرین پر ایک آیت کے بعددوسری آیت کاترجمہ 

 دیکھ سکے،یہ عرض کرتاچلوں کہ قرآن کا ترجمہ محکمہ اوقاف سے تصدیق شدہ ہے۔

الجواب باسم الملک الوہاب

صورت مسؤلہ میں اگرترجمہ قرآن مجید کے متن کے ساتھ ہے تو جائز ہے بغیر متن کے صرف قرآن مجید کا ترجمہ جائزنہیں ہے۔

”وفیہ (فی الکافی) ان اعتادالقراء ۃ بالفارسیۃ اوارادان یکتب مصحفا بہا یمنع وان فعل فی آیۃ اوآیتین لافان کتب القران وتفسیرکل حرف وترجمتہ جاز“……(فتح القدیر:۱/۸۴۲)

”وان اعتادالقراء ۃ بالفارسیۃ اوارادان یکتب المصحف بالفارسیۃ منع من ذلک علی اشدالمنع وان فعل ذلک فی آیۃ اوآیتین لایمنع من ذلک“……(تاتارخانیۃ:۱/۷۳۳)

”وفی الفتح عن الکافی ان اعتادالقراء ۃ بالفارسیۃ اوارادان یکتب مصحفابہایمنع وان فعل فی آیۃ اوآیتین لافان کتب القرآن وتفسیرکل حرف وترجمتہ جاز“……(ردالمحتار:۱/۹۵۳)

واللہ تعالی اعلم بالصواب




قرآن کی طرف پاؤں پھیلانا

 

قرآن کی طرف پاؤں پھیلانا:

(مسئلہ نمبر۷۰۱) 

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن پاک کی طرف پاؤں پھیلانا جب کہ قرآن پاک محاذات میں نہ ہو کیساہے؟جائز ہے یاناجائز؟

الجواب باسم الملک الوہاب

            قرآن مجید اگر پاؤں کے محاذات میں نہ ہوتواس کی طرف پاؤں پھیلانا بلاکراہت درست ہے۔

مدالرجلین الی جانب المصحف ان لم یکن بحذاۂ لایکرہ“……(ھندیۃ:۵/۲۲۳)

                                                                                    واللہ تعالی اعلم بالصواب

Thursday, March 19, 2026

Namaz Eidul Fiter



عید الفطر کی نماز کا مکمل طریقہ (حنفی فقہ کے مطابق):
نیت: دل میں نیت کریں کہ دو رکعت نماز عید الفطر 6 زائد تکبیروں کے ساتھ پڑھ رہا/رہی ہوں۔
پہلی رکعت:امام کے ساتھ 'اللہ اکبر' کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور ثناء (سبحانک اللھم...) پڑھیں۔
اس کے بعد امام کے ساتھ 3 بار 'اللہ اکبر' کہیں، ہر بار ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دیں (لٹکا دیں) اور چوتھی بار 'اللہ اکبر' کہہ کر ہاتھ باندھ لیں۔
امام صاحب سورہ فاتحہ اور سورت بلند آواز میں پڑھیں گے، پھر معمول کے مطابق رکوع اور سجدہ کریں۔
دوسری رکعت:دوسری رکعت میں امام صاحب پہلے سورہ فاتحہ اور سورت پڑھیں گے۔
رکوع میں جانے سے پہلے 3 بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر 'اللہ اکبر' کہیں اور ہاتھ چھوڑ دیں۔
چوتھی بار 'اللہ اکبر' کہہ کر (بغیر ہاتھ اٹھائے) رکوع میں جائیں۔
رکوع اور سجدے کے بعد قعدہ (التحیات) میں بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دیں۔
خطبہ: نماز کے بعد خطبہ سننا واجب ہے، جس میں خاموشی سے امام کی بات سنیں۔




 

Friday, October 27, 2023

جمعہ کے دن کرنے کے کام

 *جمعہ کے دن کرنے کے کام*


۱) نماز جمعہ کے لیے غسل کر کے جتنا جلدی جا سکیں 

۲) سورہ کہف کی تلاوت 

۳) درود شریف کا زیادہ سے زیادہ اہتمام

۴) غروب سے بیس منٹ پہلے دعا کا اہتمام

Saturday, June 17, 2023

Darts tarmezi mulana yousaf Khan sahib jamia ashrafia Lahore


Darts tarmezi mulana yousaf Khan sahib jamia ashrafia Lahore 




 


جامعہ اشرفیہ لاہور کے اساتذہ
مولانا یوسف خان صاحب
مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب
مولانا عبد الرحیم چترالی صاحب
مولانا فیاض الرحمن صاحب
اور
مفتی حمید اللہ جان صاحب نور اللہ مرقدہ
کے اسباق سماعت کرسکتے ہو
برائے مہربانی چینل کو سبسکرائب کرتے ہوئے بیل کی بٹن دبائیں جزاک اللہ خیرا 

Thursday, June 15, 2023

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک کے منکر کا حکم:Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) ordered the denial of Afiq:

 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک کے منکر کا حکم:

Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) ordered the denial of Afiq:

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ ایک آدمی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے واقعہ افک کے بارے میں کہتاہے کہ ان پر کوئی تہمت نہیں لگی،یہ ساراواقعہ ان کی طرف غلط منسوب ہے،    وہ شخص کیساہے؟

الجواب باسم الملک الوہاب 

اگر یہ شخص اس واقعہ تہمت سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کی بنیاد پر انکار کرتاہے     یا جہل کی بنیاد پراس تفصیل کا انکار کرتاہے جو قرآن پاک میں مذکور ہے توکافر نہیں ہوگا، اگر علم کے باوجود اس تفصیل کا انکار کرتاہے جو قرآن پاک میں مذکورہے توکافر ہوجائے گا۔

”واذا قال لغیرہ خانہ چناں پاک کردہ کہ چون والسماء والطارق قیل یکفر وقال الامام ابوبکر اسحاق رحمہ اللہ تعالی ان کان القائل جاہلا لایکفر وان کان عالما یکفر“……(الھندیۃ:۲/۷۶۲)

”اذا انکر الرجل آیۃ من القرآن اوتسخربآیۃ من القرآن وفی الخزانۃ اوعاب کفرکذافی التتارخانیۃ“……(الھندیۃ:۲/۶۶۲)

”ان اللذین جاؤا بالافک عصبۃ منکم لاتحسبوہ شرالکم بل ہوخیرلکم لکل امریء منہم مااکتسب من الاثم والذی تولی کبرہ منہم لہ عذابعظیم،لولااذسمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنات بانفسہم خیرا وقالوا ہذا افک مبین“……(سورۃ النور: ۱۱،۲۱)

واللہ تعالی اعلم بالصواب 





 What do religious scholars say about the fact that a man says about the Afiq incident of Umm al-Mu'minin Hazrat Aisha Siddiqa (RA) that there is no slander on her, this entire incident is wrongly attributed to her, what is that person like?

Answer by Basim al-Mulk al-Wahhab

If this person denies this incident of slander on the basis of the purity of Hazrat Aisha Siddiqa, or on the basis of ignorance, he denies the details that are mentioned in the Holy Qur'an, then he will not be a disbeliever. Those mentioned in the Holy Quran will become infidels.

”واذا قال لغیرہ خانہ چناں پاک کردہ کہ چون والسماء والطارق قیل یکفر وقال الامام ابوبکر اسحاق رحمہ اللہ تعالی ان کان القائل جاہلا لایکفر وان کان عالما یکفر“……(الھندیۃ:۲/۷۶۲)

”اذا انکر الرجل آیۃ من القرآن اوتسخربآیۃ من القرآن وفی الخزانۃ اوعاب کفرکذافی التتارخانیۃ“……(الھندیۃ:۲/۶۶۲)

”ان اللذین جاؤا بالافک عصبۃ منکم لاتحسبوہ شرالکم بل ہوخیرلکم لکل امریء منہم مااکتسب من الاثم والذی تولی کبرہ منہم لہ عذابعظیم،لولااذسمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنات بانفسہم خیرا وقالوا ہذا افک مبین“……(سورۃ النور: ۱۱،۲۱)

واللہ تعالی اعلم بالصواب 

Saturday, June 3, 2023

آیات قرانی کی بے حرمتی کرنا: Desecration of Quranic verses:

 آیات قرانی کی بے حرمتی کرنا:

Desecration of Quranic verses:

 الحمدللہ رب العلمین،اللہ رب العزت نے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے سلسلے میں،

 FIRs14

کراچی، لاہور، اسلام آباد، سماج دشمن عناصر کے خلاف کٹوانے کی توفیق عطافرمائی، اور اس کے ری ایکشن نے 

295/B

 قرآن کی بے حرمتی کا کیس مجھ پر بنوادیاجو کہ جھوٹاہے کہ میں نے جو ردی فروخت کی تھی اس میں سے قرآن مجید دینی کتب جو میری تھیں، اس ردی میں سے بر آمدکرواکرعرصہ پانچ ماہ سے زائد جیل میں بندہوں۔

1

برائے مہربانی قرآن واحادیث کی روشنی میں اگر واقعی کسی سے قرآن کی بے حرمتی ہو جائے تو اس         کو کیاسزادی جاسکتی ہے،کیونکہ یہ دفعہ 1982سے نافذہے اور اس کے تحت عمر قیدکی سزامقرر ہے جو قرآن واحادیث مبارکہ کے خلاف کسی کی بھی زندگی کو برباد وتباہ کرنا۔ 

2

اگر کوئی سچی توبہ کرلے تو کیااس طرح کے واقعے میں اسکو معاف کیاجاسکتاہے، یانہیں۔

Alhamdulillah, Lord of Knowledge, Allah, the Most High, has given the opportunity to file 14 FIRs Karachi, Lahore, Islamabad, against anti-social elements, and his reaction is 295/B case of desecration of Quran. But I made it a lie that out of the garbage I had sold, the Qur'an, religious books, which were mine, should be taken out of this garbage and I should be imprisoned for more than five months.

1. Please, in the light of the Quran and Hadith, if someone really desecrates the Quran, what can be done about it, because this section has been in force since 1982 and under it, the punishment of life imprisonment is prescribed, which is against the Holy Quran and Hadith and destroys the life of anyone. to do

2. If someone truly repents, can he be forgiven in such an incident, or not.

الجواب باسم الملک الوہاب 

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قرآن مجید کی بے حرمتی کرے تو وہ مرتد ہوجاتاہے۔

”(باب)المرتدہولغۃ الراجع مطلقاوشرعاالراجع عن دین الاسلام“ورکنہاإجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد الایمان ……وفی الفتح من ہزل بلفظ کفر ارتد وإن لم یعتقدہ وقال الشامی تحتہ(قولہ من ہزل بلفظ کفر) ای تکلم بہ باختیارہ غیر قاصد معناہ وہذالاینافی مامر من ان الایمان ہو التصدیق فقط أو مع الاقرار لأن التصدیق وإن کان موجوداحقیقۃ لکنہ زائل حکمالأن الشارع جعل بعض المعاصی امارۃ علی عدم وجودہ کالہزل المذکور وکمالو سجدلصنم أو وضع مصحفافی قاذورۃ فانہی کفر“……(الدرمع الرد:۳/۰۱،۹۰۳)

حکومت وقت کو چاہیے اس کے مرتکب کو فوراگرفتار کرکے علماء کے ذریعے سے تین دن تک سمجھائے،     اگر وہ توبہ کرلے تو فبہاونعم،بصورت دیگر حکومت اس کو قتل کردے۔
”وإذاارتد المسلم عن الإسلام والعیاذباللہ عرض علیہ الإسلام فإن کانت لہ شبہۃ کشفت عنہ ویحبس ثلاثۃ أیام فإن أسلم وإلاقتل“……(الہدایۃ:۴۸۵/۲)
مگر یہ ساری باتیں اس وقت ہیں جب اس پر قرآن مجید کی بے حرمتی کافقط الزام نہ ہور بلکہ وہ واقعی اس فعل شنیع کامرتکب ہواہو اور اگر وہ سچی توبہ کرلے تو اس کی توبہ کو قبول کیاجائے گا۔ 
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

Answer by Basim al-Mulk al-Wahhab

If a person deliberately desecrates the Holy Quran, he becomes an apostate.

 ہزل بلفظ کفر ارتد وإن لم یعتقدہ وقال الشامی تحتہ(قولہ من ہزل بلفظ کفر) ای تکلم بہ باختیارہ غیر قاصد معناہ وہذالاینافی مامر من ان الایمان ہو التصدیق فقط أو مع الاقرار لأن التصدیق وإن کان موجوداحقیقۃ لکنہ زائل حکمالأن الشارع جعل بعض المعاصی امارۃ علی عدم وجودہ کالہزل المذکور وکمالو سجدلصنم أو وضع مصحفافی قاذورۃ فانہی کفر“……(الدرمع الرد:۳/۰۱،۹۰۳)

The government needs time to immediately arrest the perpetrator and explain it to him through the scholars for three days. If he repents, then the government should kill him.
”وإذاارتد المسلم عن الإسلام والعیاذباللہ عرض علیہ الإسلام فإن کانت لہ شبہۃ کشفت عنہ ویحبس ثلاثۃ أیام فإن أسلم وإلاقتل“…(الہدایۃ:۴۸۵/۲)
But all these things are when he is not only accused of desecrating the Holy Qur'an, but he has really committed this heinous act and if he repents truly, his repentance will be accepted.
And Allah knows best