Monday, April 30, 2018

قبرستان میں مردوں کو سلام کرنا

قبرستان میں مردوں کو سلام کرنا
مسئلہ نمبر۲۱:) کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مشہور ہے کہ جب قبرستان یاکسی قبر پر جاؤ تو ’’السلام علیکم یااہل القبور ‘‘ کہو قبر والے لوگ آپ کاسلام سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں ، قرآن کے مطابق یہ بات صحیح نہیں لگتی ، براہ کرم وضاحت فرمائیں۔
الجواب باسم الملک الوہاب
۱
۔ ’’عن بریدۃؓ قال کان رسول اللہ ﷺ یعلمہم إذاخرجوالی المقابر ’’السلام علیکم اہل الدیار من المؤمنین والمسلمین وإناإن شاء اللہ بکم لاحقون نسأل اللہ لناولکم العافیۃ ‘‘۔۔۔(مشکوۃ:۱؍۱۵۶)

۲

۔’’کیف اقول یارسول اللہ تعنی؟ فی زیارۃ القبور قال قولی ’’السلام علی اہل الدیار من المؤمنین والمسلمین ویرحم اللہ المستقدمین مناوالمستأخرین وإناإن شاء اللہ بکم لاحقون‘‘۔۔۔(ایضا
جمہور علمائے اہل سنت والجماعت اور علمائے دیوبند کثر اللہ جماعتہم کابھی یہی عقید ہ ہے کہ مردے اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور قبر پر حاضر ہونے والے شخص کاسلام بھی سنتے ہیں اور کلام بھی، بصراحتِ حدیث قبر پر آنے والوں کی جوتی کی آہٹ بھی سنتے ہیں ،مردوں کے قبر میں زندہ ہوناقرآن کریم کے خلاف نہیں ،بلکہ متعدد روایات صحیحہ سے ثابت ہیں جو کہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں ، چنانچہ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیۃ ؒ فرماتے ہیں:
’’وسماع المیت للأصوات من السلام والقرأۃ حق ‘‘
مردہ کاسلام اور قرأت کی آوازوں کاسنناحق ہے۔(اقتضاء الصراط المستقیم:ص:۱۸۱)

اور علامہ سید محمود آلوسی ؒ حنفی فرماتے ہیں:

’’والحق أن الموتی یسمعون فی الجملۃ ‘‘
حق بات یہ ہے کہ مردے فی الجملہ سنتے ہیں۔

اسی لیے شیخ الاسلام مولاناشبیر احمد عثمانی ؒ فرماتے ہیں:

’’قال العبد الضعیف عفااللہ عنہ والذی تحصل لنامن مجموع النصوص واللہ اعلم أن سماع الموتی ثابت فی جملۃ بالاحادیث الکثیرۃ الصحیحۃ ‘‘ ۔۔۔(فتح الملہم ۲؍۴۷۹)
’’بندہ ضعیف(اللہ تعالیٰ کی ان لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے)کہتاہے کہ جو چیز ہمیں مجموعہ احادیث سے حاصل ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتاہے کہ سماع موتی فی الجملہ احادیث کثیرہ صحیحہ سے ثابت ہے۔‘‘

اسی طرح ابن حجر عسقلانی ؒ اور حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیری ؒ صاحب فرماتے ہیں۔

’’أقول والأحادیث فی سماع الأموات قد بلغت مبلغ التواتر ‘‘ ۔۔۔(فیض الباری:۲؍۴۶۷)
میں کہتاہوں کہ مردوں کے سماع کی حدیثیں تواتر کے درجہ پرپہنچی ہوئی ہیں۔‘‘

اسی طرح دوسرے مقام پر بھی فرماتے ہیں

’’ظاہرحدیث الباب وغیرہ من کثیر الاحادیث یدل علی سماع الموتی‘‘۔۔۔ (العرف الشذی علی جامع الترمذی:۱/۳۲۹مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور)
حدیث کاذخیرہ سماع موتی پر دلالت کرتاہے ،‘‘

علامہ ابن کثیر ؒ سماع موتی پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں

’’والسلف مجموعون علی ہذاوقد تواترت الآثار عنہم بأن المیت یعرف بزیارۃ الحی لہ یستبشرالخ‘‘
’’اور سلف صالحین کااس بات پر اجماع ہے اور بلاشبہ تواتر کے ساتھ ان سے مروی ہے کہ مردہ اس زندہ کو جو اسکی زیارت کرتاہے پہچانتاہے اور اس سے خوش ہوتاہے۔‘‘

اسی طرح علامہ ابن القیم ؒ اپنے مشہور قصیدہ نونیہ میں لکھتے ہیں۔

’’من زار قبر اخ لہ فاتی بتسلیم علیہ وہو ذوایمان

ردہ الہ علیہ حقا روحہ حتی یرد رد بیان‘‘

’’جس شخص نے اپنے کسی مؤمن بھائی کی قبر کی زیارت کی اور سلام کہا ؛ تو پروردگار یقینی طور سے اس پر روح کو لوٹادیتاہے یہاں تک کہ وہ واضح بیان سے اس کاجواب لوٹادیتاہے ‘‘ (قصیدہ نونیہ:۱۴۵)
تو ان جملہ روایات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مردے اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور قبر پر حاضر ہونے والوں کے کلام کو نہ صرف سنتے ہیں بلکہ جواب بھی دیتے ہیں اگر چہ حاضر ہونے والااس جواب کے الفاظ نہیں سن سکتا، إلاماشاہء اللہ اور یہی قول امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کاہے کہ مردے اپنی قبروں میں سنتے ہیں جیساکہ علامہ سمہودی ؒ نے اس کی صراحت کی ہے۔
’’والمحقق أن أباحنیفۃ لاینکر سماع الأموات‘‘(وفاء الوفاء للسمہودی)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g