احوال مؤلف:
ولادت باسعادت :
آپ چھ شوال ۱۳۵۹ ھ میں ضلع لکی مروت صوبہ سرحد کے موضع ناورخیل میں پیداہوئے ،اپنے خاندانی حوالے سے آپ ایک علمی ومذہبی خاندان کے چشم وچراغ ہیں ،آپ کے والدگرامی حضرت مولانا نیاز محمدصاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے جیدعالم دین تھے،آپ مدرسہ امینیہ دہلی میں مفتی اعظم ہند مولانامفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ کے شاگردرشیدتھے ،آپ نے دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت کی بنیادرکھی تاحیات اہتمام کے فرائض بغیر مشاہرہ کے انجام دیتے رہے ، حضرت مفتی صاحب کے جدامجدحضرت مولاناجان محمدصاحب نے مسلسل اٹھارہ سال ڈیرہ اسماعیل خان کے موضع چودہواں میں علوم دینیہ کی تکمیل کی ،آپ کی والدہ محترمہ کاتعلق سادات خاندان سے تھا ۔
حضرت مفتی صاحب کے دونوں بڑے بھائی جلیل القدرعالم دین تھے،ان میں سے سب سے بڑے بھائی حضرت مولانا فضل احمدصاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ مدرسہ امینیہ کے فارغ التحصیل اورمفتی اعظم ہندمولانامفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ کے تلمیذرشیدتھے،وہ لکی مروت کے مشہور ومعروف علمی ادارے دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت کے صدرمدرس تھے،وفات سے ایک سال قبل اہتمام کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد یکم اپریل 1978ء کوخالق حقیقی سے جاملے ،ان کی وفات کے بعد اہل شوریٰ نے حضرت اقدس مولانافضل اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کودارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت کامہتمم اورحضرت اقدس مولانامفتی حبیب اللہ صاحب نوراللہ مرقدہ کوصدرمدرس مقررکیا ،حضرت مولانافضل اللہ صاحب ٹنڈوالہ یارمیں محدث کامل حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوری اورامام العصرفخرالمحدثین حضرت مولانا محمدیوسف بنوری ؒ کے تلمیذخاص رہے ، مولانافضل اللہ صاحب کی وفات کے بعد دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت کے اہتمام اورانتظام وانصرام کی ذمہ داری آپ پرڈال دی گئی،اورتاحال وہاں کااہتمام آپ کے پاس ہے ۔
حصول علم :
ابتدائی چندسال سکول میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ روایت کے مطابق حضرت مفتی صاحب نے قرآن مجید اپنی والدہ محترمہ سے پڑھا اوراس کے بعد اپنی بستی ناورخیل میں اپنے والدمحترم حضرت مولانانیاز محمدصاحب ؒ اوربڑے بھائی مولانافضل احمدصاحب ؒ سے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی،شوال ۱۳۷۱ ھ بمطابق ۱۹۵۱ ء سے دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت میں مروجہ دینی نصاب تعلیم کاباقاعدہ آغازکیا اوراس کے بعد مشہورمعروف اساطینِ علم
اور اساتذۂ فن سے علمی پیاس بجھائی اورتمام متداول علوم حاصل کیے،رأس الاتقیاء والاذکیاء حضرت مولانافضل احمدصاحب نوراللہ
مرقدہ شیخ الحدیث حضرت مولانامعزالحق صاحب فاضل دیوبند، حضرت اقدس مفتی حبیب اللہ صاحب ؒ سابق صدرمدرس دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت اورمولانافضل اللہ صاحب ؒ سے کتابیں پڑھیں۔
معقولات کی تحصیل مشہور منطقی استاذ مولاناعبدالسلام چکیسری صاحب ؒ اورمولاناگل جعفری صاحب سے کی،موقوف علیہ کے ساتھ ساتھ آپ نے فقہ اورافتاء میں ماہرین فن خصوصی طورپر فقیہ کامل حضرت مولانا فضل احمدنوراللہ مرقدہ اورحضرت مفتی حبیب اللہ صاحب رحمہ اللہ سے تحقیقی اسباق پڑھے،جن میں قدوری(مکمل)شرح وقایہ(مکمل)ہدایہ(مکمل) اوردرمختار جلداول بالاستیعاب پڑھیں،آپ نے حصول علم میں نابغہ روزگار شیوخ سے استفادہ کیا،صحیح البخاری اورجامع ترمذی امام العصر حضرت مولانا سیدمحمدیوسف بنوری ؒ سے پڑھیں ،اورمسلم شریف علامہ انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ کے خصوصی شاگرد مجاہدملت مولانالطف اللہ صاحب (جہانگیرہ والے)سے سنن ابی داؤد ولی کامل مولانافضل محمدرحمۃ اللہ علیہ فاضل دیوبند ومہتمم مظہرالعلوم سوات اورشرح معانی الآثار وموطاامام مالک حضرت مولانا ادریس میرٹھی سے پڑھیں،اوراحادیث کی بقیہ کتب مسندامام احمد،سنن نسائی،مؤطاامام محمدکتاب الآثار،سنن ابن ماجہ استاذالحدیث حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھیں ، شعبان ۱۳۸۰ ھ بمطابق ۱۹۶۰ ء میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے درجہ عالمیہ (فرسٹ ڈویژن)پاس کیا۔
تدریس :
شوال ۱۳۸۰ ھ میں علوم دینیہ سے فراغت کے بعد آپ نے مادرعلمی دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت سے تدریس کاآغازکیا اور زندگی علوم دینیہ کی تعلیم وتدریس اورنشرواشاعت کے لیے وقف کردی ،پھر مختلف علمی مراکز میں پڑھایا ،اورپچیس سال تک اپنے علاقے میں افتاء اورتدریسی خدمات انجام دیتے رہے ، درمیان میں ایک سال دارالعلوم سرحدپشاور میں تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ سیکنڈری بورڈکی جامع مسجد میں خطیب بھی رہے،ایک سال کاعرصہ یہاں مکمل ہونے کے بعد آپ دارالعلوم ٹل ضلع ہنگو میں بحیثیت استاذالحدیث مقررہوئے،اسی سال یکم اپریل آپ کے بڑے بھائی حضرت اقدس مولانافضل احمدصاحب نوراللہ مرقدہ وفات پاگئے جس کی وجہ سے اراکین دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت نے آپ کو اپنے آبائی ادارہ میں افتاء وتدریس اورانتظامی امورسنبھالنے کی غرض سے آنے پرمجبورکیا۔
اوریہاں رمضان المبارک ۱۴۱۱ ھ تک خدمات سرانجام دیتے رہے ،اس کے بعدچھ سال دارالعلوم حنفیہ چکوال اوردوسال جامعہ مخزن العلوم کراچی میں شیخ الحدیث کے عہدے پرفائز رہ کر بخاری شریف کی دونوں جلدیں پڑھانے کے ساتھ ساتھ صدرمفتی کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے،اور شوال ۱۴۱۹ ھ سے جامعہ اشرفیہ لاہورمیں
معقولات کی تحصیل مشہور منطقی استاذ مولاناعبدالسلام چکیسری صاحب ؒ اورمولاناگل جعفری صاحب سے کی،موقوف علیہ کے ساتھ ساتھ آپ نے فقہ اورافتاء میں ماہرین فن خصوصی طورپر فقیہ کامل حضرت مولانا فضل احمدنوراللہ مرقدہ اورحضرت مفتی حبیب اللہ صاحب رحمہ اللہ سے تحقیقی اسباق پڑھے،جن میں قدوری(مکمل)شرح وقایہ(مکمل)ہدایہ(مکمل) اوردرمختار جلداول بالاستیعاب پڑھیں،آپ نے حصول علم میں نابغہ روزگار شیوخ سے استفادہ کیا،صحیح البخاری اورجامع ترمذی امام العصر حضرت مولانا سیدمحمدیوسف بنوری ؒ سے پڑھیں ،اورمسلم شریف علامہ انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ کے خصوصی شاگرد مجاہدملت مولانالطف اللہ صاحب (جہانگیرہ والے)سے سنن ابی داؤد ولی کامل مولانافضل محمدرحمۃ اللہ علیہ فاضل دیوبند ومہتمم مظہرالعلوم سوات اورشرح معانی الآثار وموطاامام مالک حضرت مولانا ادریس میرٹھی سے پڑھیں،اوراحادیث کی بقیہ کتب مسندامام احمد،سنن نسائی،مؤطاامام محمدکتاب الآثار،سنن ابن ماجہ استاذالحدیث حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھیں ، شعبان ۱۳۸۰ ھ بمطابق ۱۹۶۰ ء میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے درجہ عالمیہ (فرسٹ ڈویژن)پاس کیا۔
تدریس :
شوال ۱۳۸۰ ھ میں علوم دینیہ سے فراغت کے بعد آپ نے مادرعلمی دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت سے تدریس کاآغازکیا اور زندگی علوم دینیہ کی تعلیم وتدریس اورنشرواشاعت کے لیے وقف کردی ،پھر مختلف علمی مراکز میں پڑھایا ،اورپچیس سال تک اپنے علاقے میں افتاء اورتدریسی خدمات انجام دیتے رہے ، درمیان میں ایک سال دارالعلوم سرحدپشاور میں تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ سیکنڈری بورڈکی جامع مسجد میں خطیب بھی رہے،ایک سال کاعرصہ یہاں مکمل ہونے کے بعد آپ دارالعلوم ٹل ضلع ہنگو میں بحیثیت استاذالحدیث مقررہوئے،اسی سال یکم اپریل آپ کے بڑے بھائی حضرت اقدس مولانافضل احمدصاحب نوراللہ مرقدہ وفات پاگئے جس کی وجہ سے اراکین دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت نے آپ کو اپنے آبائی ادارہ میں افتاء وتدریس اورانتظامی امورسنبھالنے کی غرض سے آنے پرمجبورکیا۔
اوریہاں رمضان المبارک ۱۴۱۱ ھ تک خدمات سرانجام دیتے رہے ،اس کے بعدچھ سال دارالعلوم حنفیہ چکوال اوردوسال جامعہ مخزن العلوم کراچی میں شیخ الحدیث کے عہدے پرفائز رہ کر بخاری شریف کی دونوں جلدیں پڑھانے کے ساتھ ساتھ صدرمفتی کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے،اور شوال ۱۴۱۹ ھ سے جامعہ اشرفیہ لاہورمیں
میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدموسیٰ روحانی البازی ؒ اوررئیس دارالافتاء مفتی جمیل احمدتھانوی دونوں کے مسند کوسنبھالتے ہوئے بطورمجمع البحرین علوم فقہ وحدیث دونوں کے تشنگان کو۱۳ سال تک سیراب کرتے رہے ،۔
اورشوال ۱۴۳۲ ھ سے جامعۃ الحمیدعظیم آبادرائیونڈروڈلاہورمیں تشریف لے آئے،اوراس وقت آپ اس ادارے کے بانی اورمہتمم ہیں،یہاں پہلے سال میں تخصص کی کلاسیں جاری رہیں، اس کے بعد ایک سال جامعہ مظاہرالعلوم آراے بازار میں بخاری شریف کادرس دیا ،اورشوال ۱۴۳۴ ھ سے تا حال اپنے ادارہ جامعۃ الحمیدمیں بخاری شریف اورترمذی شریف جیسے اہم اسباق آپ کے زیردرس ہیں،اس کے ساتھ ساتھ افتاء کی مکمل ذمہ داری اورجامعۃ الحمید کے اہتمام کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں۔
بیعت وسلوک :
رمضان المبارک ۱۳۸۶ ھ کے آخری عشرے میں حضرت اقدس مولاناعبدالعزیز رائے پوری ؒ سے اصلاحی تعلق قائم کیاجوحضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے خلیفہ مجازاورجانشین تھے،آپ نے اپنے استاذ مولاناسیدمحمدیوسف بنوری ؒ کے حکم پریہ بیعت کی تھی ،سب سے پہلے حضرت مولانا مفتی حبیب اللہ قدس سرہ (صدرمدرس دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت )نے نقشبندی سلسلے میں خلعت خلافت سے نوازا،اس کے بعد حضرت مولانا حافظ عبدالوحید رائے پوری نے چاروں سلسلوں میں آپ کوبیعت وارشاد کی اجازت عطافرمائی،جوکہ حضرت مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوری کے بھانجے اورچاروں سلاسل میں خلیفہ مجازتھے۔
بشارت:
ایک دفعہ آپ اپنے ایک مرید،بھائی مولانامحمدجاوید صاحب کی دعوت پرپاکپتن کے قریب ایک بستی ملکہ ہانس میں وعظ کے لیے تشریف لے گئے ، دوران وعظ ایک شخص آپ کو بارباربڑی توجہ سے دیکھتارہا وعظ ختم ہونے پرآپ کے قریب آکرکہنے لگاحضرت میرانام ماسٹرعبدالقیوم ہے میں نے کچھ عرصہ پہلے خواب میں دیکھاکہ ایک مجلس لگی ہوئی ہے حضور ﷺ تشریف فرماہیں،ساتھ میں کوئی بزرگ تشریف رکھتے ہیں میں نے عرض کیایارسول اللہ میں آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوناچاہتاہوں آپ نے اس بزرگ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوجاؤ،نیندسے بیدارہونے پر بزرگوں کی مجالس میں جاتارہا مگروہ چہرہ نہ ملا مجھے آج بھی وہ چہرہ اچھی طرح یادہے ، آج میں نے آپ کودیکھاتوفوراً پہچان لیا وہ آپ ہی کاچہرہ تھا،لہٰذاآپ مجھے بیعت کرلیں۔
ایک دفعہ آپ تخصص فی الافتاء کی کلاس میں تشریف فرماتھے کہ دوران سبق آپ کی صاحبزادی کا فون آیا جوکہ اس وقت دورہ حدیث شریف کی طالبہ تھیں ،اورانہوں نے بتایاکہ ایک عورت جوکہ میرے ساتھ مدرسہ میں دورہ حدیث شریف کی شریکہ ہے اس کاابھی تھوڑی دیرپہلے فون آیا تھا اوروہ کہہ رہی تھی کہ مجھے رات خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی ہے آپ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ حمیداللہ جان کومیراسلام کہہ دو،اوران کو یہ بتلادوکہ میں ان
اورشوال ۱۴۳۲ ھ سے جامعۃ الحمیدعظیم آبادرائیونڈروڈلاہورمیں تشریف لے آئے،اوراس وقت آپ اس ادارے کے بانی اورمہتمم ہیں،یہاں پہلے سال میں تخصص کی کلاسیں جاری رہیں، اس کے بعد ایک سال جامعہ مظاہرالعلوم آراے بازار میں بخاری شریف کادرس دیا ،اورشوال ۱۴۳۴ ھ سے تا حال اپنے ادارہ جامعۃ الحمیدمیں بخاری شریف اورترمذی شریف جیسے اہم اسباق آپ کے زیردرس ہیں،اس کے ساتھ ساتھ افتاء کی مکمل ذمہ داری اورجامعۃ الحمید کے اہتمام کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں۔
بیعت وسلوک :
رمضان المبارک ۱۳۸۶ ھ کے آخری عشرے میں حضرت اقدس مولاناعبدالعزیز رائے پوری ؒ سے اصلاحی تعلق قائم کیاجوحضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے خلیفہ مجازاورجانشین تھے،آپ نے اپنے استاذ مولاناسیدمحمدیوسف بنوری ؒ کے حکم پریہ بیعت کی تھی ،سب سے پہلے حضرت مولانا مفتی حبیب اللہ قدس سرہ (صدرمدرس دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت )نے نقشبندی سلسلے میں خلعت خلافت سے نوازا،اس کے بعد حضرت مولانا حافظ عبدالوحید رائے پوری نے چاروں سلسلوں میں آپ کوبیعت وارشاد کی اجازت عطافرمائی،جوکہ حضرت مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوری کے بھانجے اورچاروں سلاسل میں خلیفہ مجازتھے۔
بشارت:
ایک دفعہ آپ اپنے ایک مرید،بھائی مولانامحمدجاوید صاحب کی دعوت پرپاکپتن کے قریب ایک بستی ملکہ ہانس میں وعظ کے لیے تشریف لے گئے ، دوران وعظ ایک شخص آپ کو بارباربڑی توجہ سے دیکھتارہا وعظ ختم ہونے پرآپ کے قریب آکرکہنے لگاحضرت میرانام ماسٹرعبدالقیوم ہے میں نے کچھ عرصہ پہلے خواب میں دیکھاکہ ایک مجلس لگی ہوئی ہے حضور ﷺ تشریف فرماہیں،ساتھ میں کوئی بزرگ تشریف رکھتے ہیں میں نے عرض کیایارسول اللہ میں آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوناچاہتاہوں آپ نے اس بزرگ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوجاؤ،نیندسے بیدارہونے پر بزرگوں کی مجالس میں جاتارہا مگروہ چہرہ نہ ملا مجھے آج بھی وہ چہرہ اچھی طرح یادہے ، آج میں نے آپ کودیکھاتوفوراً پہچان لیا وہ آپ ہی کاچہرہ تھا،لہٰذاآپ مجھے بیعت کرلیں۔
ایک دفعہ آپ تخصص فی الافتاء کی کلاس میں تشریف فرماتھے کہ دوران سبق آپ کی صاحبزادی کا فون آیا جوکہ اس وقت دورہ حدیث شریف کی طالبہ تھیں ،اورانہوں نے بتایاکہ ایک عورت جوکہ میرے ساتھ مدرسہ میں دورہ حدیث شریف کی شریکہ ہے اس کاابھی تھوڑی دیرپہلے فون آیا تھا اوروہ کہہ رہی تھی کہ مجھے رات خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی ہے آپ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ حمیداللہ جان کومیراسلام کہہ دو،اوران کو یہ بتلادوکہ میں ان
سے محبت کرتاہوں اوران کی حاضری کے لیے اللہ تعالی سے دعاگوہوں،یہ بات سن کر استاذمحترم آبدیدہ ہوگئے ، اسی دن ایک آدمی آیاکہ حضرت آپ نے عمرہ کے سفرپرجاناہے اوراس کا ساراانتظام ہوچکاہے ،اوراس کے چنددن کے بعد آپ سفرعمرہ پرروانہ ہوئے ۔
ایں سعادت بزوربازونیست
سیاسی زندگی :
امت مسلمہ کے انحطاط کے اس زمانے میں حضرت مفتی صاحب نے جہاں تعلیم وتدریس،تصنیف وتالیف اوروعظ وارشادکی خدمات انجام دیں وہاں آپ نے سیاست کی خارداروادی میں اپنے دامن کوآرائشوں سے بچاتے ہوئے قدم رکھا اورمحرک کرداراداکیا،آپ ابتداء ہی میں جمیعت علماء اسلام سے وابستہ رہے حضرت مولاناعبداللہ درخواستی کی قیادت میں متحدہ جمہوری محاذکے پلیٹ فارم سے سرگرم عمل رہے ،پاکستان قومی اتحاد P,N,A)اوردیگرتمام اسلامی تحریکوں میں اپنے اکابرکے ساتھ بڑھ چڑھ کرحصہ لیا،مختلف عہدوں پرکام کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سے لے کرمرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدوں پررہ کرشاندار کردار اداکیا۔
پاکستان میں شریعت بل کی جو تحریک چلی تھی اوربالآخر ’’سینٹ‘‘نے اس بل کومنظوربھی کرلیاتھااس تحریک میں مفتی صاحب صف اول کے قائدین میں سے تھے آپ نے شریعت بل کی تحریک کوتیزکرنے اوراس میں روح ڈالنے میں اساسی کردارکیالیکن شومئی قسمت کہ مسلم لیگ حکومت نے اس بل کوسبوتاژ کیا،یادرہے کہ یہ وہ بل تھاجس پرتمام مکاتب فکر کااتفاق ہوچکاتھااس بل کی اہم دفعہ یہ تھی کہ ملک کی تمام عدالتیں تمام فیصلوں میں شریعت کی پابندہوں گی،عام آدمی سے لیکر صدرتک تمام لوگ عدالت کے سامنے جواب دہ ہوں گے،اس بل کے لیے مختلف کانفرنسوں کے انعقاد کاسہرابھی مفتی صاحب کے سرہے۔
۱۹۷۴ ء تحریک ختم نبوت میں مفتی صاحب نے مرکزمیں حضرت مولاناسیدمحمدیوسف بنوری ؒ اورضلعی سطح پرحضرت مولانامفتی حبیب اللہ ؒ کی زیرقیادت بھرپور حصہ لیا اورختم نبوت کی تحریک کوکامیاب کرنے کے لیے انتھک سعی اورجدوجہدکی،مگربالآخر سیاسی جمہوری تنظیموں سے مایوس ہوکرانقلابی تنظیموں کی سرپرستی شروع کی اورجمہوری سیاست کوخیربادکہا۔
چنانچہ ان تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ آپ ہمیشہ سے اہل حق کی جہادی تنظیموں کی عملی سرپرستی فرماتے
ایں سعادت بزوربازونیست
سیاسی زندگی :
امت مسلمہ کے انحطاط کے اس زمانے میں حضرت مفتی صاحب نے جہاں تعلیم وتدریس،تصنیف وتالیف اوروعظ وارشادکی خدمات انجام دیں وہاں آپ نے سیاست کی خارداروادی میں اپنے دامن کوآرائشوں سے بچاتے ہوئے قدم رکھا اورمحرک کرداراداکیا،آپ ابتداء ہی میں جمیعت علماء اسلام سے وابستہ رہے حضرت مولاناعبداللہ درخواستی کی قیادت میں متحدہ جمہوری محاذکے پلیٹ فارم سے سرگرم عمل رہے ،پاکستان قومی اتحاد P,N,A)اوردیگرتمام اسلامی تحریکوں میں اپنے اکابرکے ساتھ بڑھ چڑھ کرحصہ لیا،مختلف عہدوں پرکام کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سے لے کرمرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدوں پررہ کرشاندار کردار اداکیا۔
پاکستان میں شریعت بل کی جو تحریک چلی تھی اوربالآخر ’’سینٹ‘‘نے اس بل کومنظوربھی کرلیاتھااس تحریک میں مفتی صاحب صف اول کے قائدین میں سے تھے آپ نے شریعت بل کی تحریک کوتیزکرنے اوراس میں روح ڈالنے میں اساسی کردارکیالیکن شومئی قسمت کہ مسلم لیگ حکومت نے اس بل کوسبوتاژ کیا،یادرہے کہ یہ وہ بل تھاجس پرتمام مکاتب فکر کااتفاق ہوچکاتھااس بل کی اہم دفعہ یہ تھی کہ ملک کی تمام عدالتیں تمام فیصلوں میں شریعت کی پابندہوں گی،عام آدمی سے لیکر صدرتک تمام لوگ عدالت کے سامنے جواب دہ ہوں گے،اس بل کے لیے مختلف کانفرنسوں کے انعقاد کاسہرابھی مفتی صاحب کے سرہے۔
۱۹۷۴ ء تحریک ختم نبوت میں مفتی صاحب نے مرکزمیں حضرت مولاناسیدمحمدیوسف بنوری ؒ اورضلعی سطح پرحضرت مولانامفتی حبیب اللہ ؒ کی زیرقیادت بھرپور حصہ لیا اورختم نبوت کی تحریک کوکامیاب کرنے کے لیے انتھک سعی اورجدوجہدکی،مگربالآخر سیاسی جمہوری تنظیموں سے مایوس ہوکرانقلابی تنظیموں کی سرپرستی شروع کی اورجمہوری سیاست کوخیربادکہا۔
چنانچہ ان تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ آپ ہمیشہ سے اہل حق کی جہادی تنظیموں کی عملی سرپرستی فرماتے
رہے ہیں ،آپ کاتعلق مجاہدین سے ہمیشہ مربی ومحسن کارہا،۱۹۸۸ ء میں علماء کرام کے ایک وفد کے ساتھ باقاعدہ افغانستان کے جہاد اول میں عملی حصہ لیا،جس میں دیگر حضرات کے علاوہ ،مولانازاہدالراشدی صاحب، مولاناعبدالرؤف فاروقی صاحب،مرزاغلام نبی جانباز مرحوم ،ڈاکٹرغلام محمداورمولانایحییٰ نارووال شامل تھے۔
تصنیف وتالیف:
حضرت مفتی صاحب کی مصروفیات کااندازہ دیکھ کرہی لگایاجاسکتاہے،چنانچہ بے پناہ مصروفیات کے باعث اگرچہ تصنیف وتالیف کی طرف توجہ نہ دے سکے، لیکن اس فن میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ملکہ دیاہے،نوجوانی میں ہی آپ نے عربی زبان میں علم اصول فقہ میں ’’زبدۃ الاصول‘‘کے نام سے ایک رسالہ لکھاجوزیور طبع سے آراستہ ہوکرمنظرعام پرآگیاہے،اس رسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پرمحقق العصرمولاناسیدمحمدیوسف بنوری کی تقریظ ثبت ہے،جب کہ فضائل علم پر’’الفیوضات الالہیۃ فی الوراثۃ النبویۃ‘‘ کے نام سے رسالہ لکھا یہ بھی چھپ چکاہے۔
آپ کی مشہورزمانہ درس ترمذی کی تقریر’’زبدۃ المعارف ‘‘بھی چھپ کر منظر عام پرآچکی ہے اوراہل علم خصوصاً درس ترمذی دینے والے حضرات اس سے خوب مستفیدہورہے ہیں ،اورموجودہ دورمیں اسلامی نظام معیشت کے تناظر میں بینکنگ پرایک تحقیقی فتویٰ رسالہ کی صورت میں بھی چھپ چکاہے،اسی طرح ذکربالجہرپر’’القول الاظہر فی الذکربالجہر‘‘بھی چھپ چکاہے افتاء کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یدطولیٰ دیاہے،اس بات کی دلیل حضرت مفتی صاحب پرآپ کے استاذافتاء مفتی حبیب اللہ صاحب ؒ کاوہ اعتماد ہے کہ شاگردہونے کے باوجودآپ سے فتاویٰ کے بارے میں مشورہ فرمایاکرتے تھے،چنانچہ اپنے استاذکے دست راست ہوکر آپ نے ہزاروں فتاویٰ جاری کیے۔
آپ کے مکمل فتاویٰ کاصحیح اندازہ تونہیں لگایاجاسکا صرف کراچی،چکوال اورلکی مروت اورجامعہ اشرفیہ میں رہ کرجوفتاویٰ جاری کیے ان کی تعدادپچاس ہزار سے متجاوزہے،اس کے علاوہ دارالافتاء والارشاد اورجامعۃ الحمید میں رہ کرجوفتاویٰ جات دس سال کے اندر جاری ہوئے ہیں وہ ان کے علاوہ ہیں ،اورفتاویٰ کا یہ سلسلہ الحمدللہ تادم تحریر جاری وساری ہے ، اورآپ نے کبھی بھی فتویٰ اورشرعی حکم کے مقابلہ میں کسی کے خوف اورلالچ کی کوئی پرواہ نہیں کی ، بقول شاعر
موحد چہ برپائے ریزی زرش چہ شمشیر ہندی نہی برسرش
تصنیف وتالیف:
حضرت مفتی صاحب کی مصروفیات کااندازہ دیکھ کرہی لگایاجاسکتاہے،چنانچہ بے پناہ مصروفیات کے باعث اگرچہ تصنیف وتالیف کی طرف توجہ نہ دے سکے، لیکن اس فن میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ملکہ دیاہے،نوجوانی میں ہی آپ نے عربی زبان میں علم اصول فقہ میں ’’زبدۃ الاصول‘‘کے نام سے ایک رسالہ لکھاجوزیور طبع سے آراستہ ہوکرمنظرعام پرآگیاہے،اس رسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پرمحقق العصرمولاناسیدمحمدیوسف بنوری کی تقریظ ثبت ہے،جب کہ فضائل علم پر’’الفیوضات الالہیۃ فی الوراثۃ النبویۃ‘‘ کے نام سے رسالہ لکھا یہ بھی چھپ چکاہے۔
آپ کی مشہورزمانہ درس ترمذی کی تقریر’’زبدۃ المعارف ‘‘بھی چھپ کر منظر عام پرآچکی ہے اوراہل علم خصوصاً درس ترمذی دینے والے حضرات اس سے خوب مستفیدہورہے ہیں ،اورموجودہ دورمیں اسلامی نظام معیشت کے تناظر میں بینکنگ پرایک تحقیقی فتویٰ رسالہ کی صورت میں بھی چھپ چکاہے،اسی طرح ذکربالجہرپر’’القول الاظہر فی الذکربالجہر‘‘بھی چھپ چکاہے افتاء کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یدطولیٰ دیاہے،اس بات کی دلیل حضرت مفتی صاحب پرآپ کے استاذافتاء مفتی حبیب اللہ صاحب ؒ کاوہ اعتماد ہے کہ شاگردہونے کے باوجودآپ سے فتاویٰ کے بارے میں مشورہ فرمایاکرتے تھے،چنانچہ اپنے استاذکے دست راست ہوکر آپ نے ہزاروں فتاویٰ جاری کیے۔
آپ کے مکمل فتاویٰ کاصحیح اندازہ تونہیں لگایاجاسکا صرف کراچی،چکوال اورلکی مروت اورجامعہ اشرفیہ میں رہ کرجوفتاویٰ جاری کیے ان کی تعدادپچاس ہزار سے متجاوزہے،اس کے علاوہ دارالافتاء والارشاد اورجامعۃ الحمید میں رہ کرجوفتاویٰ جات دس سال کے اندر جاری ہوئے ہیں وہ ان کے علاوہ ہیں ،اورفتاویٰ کا یہ سلسلہ الحمدللہ تادم تحریر جاری وساری ہے ، اورآپ نے کبھی بھی فتویٰ اورشرعی حکم کے مقابلہ میں کسی کے خوف اورلالچ کی کوئی پرواہ نہیں کی ، بقول شاعر
موحد چہ برپائے ریزی زرش چہ شمشیر ہندی نہی برسرش
امید وہراسش نہ باشدزکس ہمیں است بنیادتوحیدوبس
جس کامشاہدہ ہم نے اپنی زندگی میں بے شماراوران گنت دفعہ کیاہے ،یہی وجہ ہے کہ آپ کا شماران اکابرین امت میں ہوتاہے جواعلی درجہ کے حق گوہیں ،
آئین جواں مرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
اسی لیے آپ حدیث مبارکہ ’’افضل الجہاد کلمۃ حق عندسلطان جائر ‘‘کے مصداق اتم ہیں ، آخرمیں اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ حضرت مفتی صاحب کاسایہ عاطفت امت مسلمہ پرتادیرقائم رکھ کر آپ کے فیوضات وبرکات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کی توفیق عطاء فرمائے (آمین)
آئین جواں مرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
اسی لیے آپ حدیث مبارکہ ’’افضل الجہاد کلمۃ حق عندسلطان جائر ‘‘کے مصداق اتم ہیں ، آخرمیں اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ حضرت مفتی صاحب کاسایہ عاطفت امت مسلمہ پرتادیرقائم رکھ کر آپ کے فیوضات وبرکات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کی توفیق عطاء فرمائے (آمین)
*******
No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g