مقدمہ ارشادالمفتین
بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
فقہ کالغوی معنی :
لغوی اعتبارسے کسی چیزکے جاننے اور اس کی سمجھ رکھنے کو فقہ کہاجاتاہے ،اورلفظ فقہ کاغالب استعمال اس کی شرافت اورفضیلت کی وجہ سے علم دین پرہوتاہے ، اگریہ لفظ باب عَلِمَ سےَ توہوفَقِہ بمعنی جانناسمجھدارہونا،اوراگرباب کَرُمَ سے ہوتو فَقُہَ کا معنی ہوگافقیہ ہونا اوراگرباب تفعیل سے ہوفَقَّہَ یاافعال سے ہو تواَفْقَہَ کا معنی سکھانا ، اوراگرباب تفعُّل سے ہو تَفَقَّہَ تومعنی علم فقہ حاصل کرنا یاسیکھنا ،اورفقیہ سمجھدار،ذکی ذہین عالم اورعلم فقہ کے جاننے والے کوکہاجاتاہے،توخلاصہ یہ ہواکہ فقہ کااطلاق لغۃً علم،فہم،ذکاوۃ،ذہانت،تعلیم،علم کی گہرائی اوراس کے علاوہ اوربھی بہت سارے معانی پر ہوتاہے (لسان العرب :۲۰۶۵/ج۶،مصباح اللغات:۶۴۲،البحرالرائق: ۱۰/۱) اورعلامہ خیرالدین رملی رحمہ اللہ نے اپنے حاشیہ میں فقہ کے لغوی معنی کے متعلق ایک بہترین ترتیب یوں لکھی ہے کہ اگرفَقِہَ قاف کے کسرہ کے ساتھ ہوتومطلب کہ جب آدمی کو خودسمجھ آجائے،اورفَقَہَ قاف کے فتح کے ساتھ ہوتومطلب جب آدمی غیرتک اس فہم کو پہنچادے ،اوراگرفَقُہَ قاف کے ضمہ کے ساتھ ہوتومطلب جب فقہ اس آدمی کی خاصیت اورپہچان بن جائے (شامی:۲۷،۲۸/۱)
فقہ کااصطلاحی معنی :
فقہ کے اصطلاحی معنی دوہیں،ایک فقہ کااصطلاحی معنی ہے اصولیین کے نزدیک اورایک فقہ کااصطلاحی معنی ہے فقہاء کے نزدیک ۔
عندالاصولیین فقہ کااصطلاحی معنی :
’’العلم بالاحکام الشرعیۃ الفرعیۃ المکتسب من ادلتہاالتفصیلیۃ ‘‘
احکام شرعیہ اورفرعیہ کاوہ علم جوادلہ تفصیلیہ یعنی ادلہ اربعہ سے حاصل ہو ،یعنی اصولیین کے نزدیک فقہ احکام کو دلائل کے ساتھ جاننے کانام ہے ،تواس صورت میں اصولیین کے نزدیک فقیہ صرف مجتہدکوکہیں گے ،اوروہ مقلدجس کو بہت سارے مسائل یاد
احکام شرعیہ اورفرعیہ کاوہ علم جوادلہ تفصیلیہ یعنی ادلہ اربعہ سے حاصل ہو ،یعنی اصولیین کے نزدیک فقہ احکام کو دلائل کے ساتھ جاننے کانام ہے ،تواس صورت میں اصولیین کے نزدیک فقیہ صرف مجتہدکوکہیں گے ،اوروہ مقلدجس کو بہت سارے مسائل یادہوں اس پر فقیہ کااطلاق مجازاًہوگا(شامی:۲۸/۱)
عندالفقہاء فقہ کااصطلاحی معنی :
فقہاء کے نزدیک فقہ کے اصطلاحی معنی دوہیں،ایک ہے فقہ کا قدیم اصطلاحی معنی جومتقدمین فقہاء حضرات سے مروی ہے اوردوسرافقہ کا وہ اصطلاحی معنی جو متاخرین فقہاء کرام سے مروی ہے
عندالفقہاء فقہ کااصطلاحی معنی :
فقہاء کے نزدیک فقہ کے اصطلاحی معنی دوہیں،ایک ہے فقہ کا قدیم اصطلاحی معنی جومتقدمین فقہاء حضرات سے مروی ہے اوردوسرافقہ کا وہ اصطلاحی معنی جو متاخرین فقہاء کرام سے مروی ہے
اسلام کے قرونِ اولیٰ میں فقہ کااصطلاحی معنی:
قرونِ اولیٰ میں اصطلاحاً فقہ پورے دین کی گہری سمجھ کوکہاجاتاتھا،یعنی دین کی تمام تعلیمات کی گہری بصیرت اورمہارت حاصل کرنے کو فقہ کہتے ہیں ،چاہے ان تعلیمات کا تعلق دین کے کسی بھی شعبہ سے ہو،تواس صورت میں فقیہ اس شخص کوہی کہاجاسکتاہے جوپورے دین کی گہری بصیرت ومہارت رکھتاہو اوروہ اپنی پوری زندگی کواسلامی سانچے میں ڈھال چکاہو۔
متاخرین فقہاء کرام کے نزدیک اصطلاحی معنی :
’’العلم بالاحکام الشرعیۃ العملیۃ المکتسبۃ من ادلتہاالتفصیلیۃ‘‘اوریہی اصولیین کے نزدیک بھی اصطلاحی معنی ہے جیساکہ پہلے اس کا ذکرکیاگیاہے۔
قرونِ اولیٰ میں اصطلاحاً فقہ پورے دین کی گہری سمجھ کوکہاجاتاتھا،یعنی دین کی تمام تعلیمات کی گہری بصیرت اورمہارت حاصل کرنے کو فقہ کہتے ہیں ،چاہے ان تعلیمات کا تعلق دین کے کسی بھی شعبہ سے ہو،تواس صورت میں فقیہ اس شخص کوہی کہاجاسکتاہے جوپورے دین کی گہری بصیرت ومہارت رکھتاہو اوروہ اپنی پوری زندگی کواسلامی سانچے میں ڈھال چکاہو۔
متاخرین فقہاء کرام کے نزدیک اصطلاحی معنی :
’’العلم بالاحکام الشرعیۃ العملیۃ المکتسبۃ من ادلتہاالتفصیلیۃ‘‘اوریہی اصولیین کے نزدیک بھی اصطلاحی معنی ہے جیساکہ پہلے اس کا ذکرکیاگیاہے۔
احکام شرعیہ فرعیہ کا وہ علم جو ادلہ تفصیلیہ سے حاصل ہو ،اس تعریف میں فقہ پر علم کااطلاق کیاگیاہے جب کہ علم قطعی ہوتا ہے اورفقہ ظنی ہے اوردلائل بھی ظنیہ ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مجتہدکاظن ہوگا تواس کے مقتضاپر اس مجتہدکے لیے اوراس کے مقلدین کے لیے عمل کرنا واجب ہوگا ،تواس اعتبارسے یہ علم کے قریب ہے اس لیے اس پر علم کااطلاق کردیا گیا ،دوسری وجہ یہ ہے کہ جس کوہم فقہ کہتے ہیں یہ تو وہ ہے جس کے بارے میں وحی نازل ہوئی ہے اورجس پراجماع منعقدہوچکاہے تواب فقہ ظنی نہ رہی بلکہ قطعی بن گئی تواب اس پر علم کااطلاق درست ہوا ،نیز علم کااطلاق کبھی ظنیات پربھی ہوتاہے تواس لحاظ سے بھی فقہ پرعلم کااطلاق درست ہوا ۔
درمختارمیں ہے کہ فقہاء کے نزدیک فقہ فروع کو یادکرنے کانام ہے اوراس کی کم سے کم تعدادتین مسائل ہیں چاہے وہ دلائل کے ساتھ یادہوں یابغیردلائل کے ۔
اورکتاب التعریفات میں علامہ سیدشریف جرجانی رحمہ اللہ نے بھی فقہ کی یہی تعریف کی ہے ،مزیدلکھتے ہیں کہ فقہ کہتے ہیں ایسے مخفی معنی تک پہنچنا اوراس پر واقفیت حاصل کرناجس کے ساتھ حکم متعلق ہے توفقہ وہ علم ہے جورائے اور اجتہادسے مستنبط ہو،جب رائے اور اجتہادسے حاصل ہوگا تومعلوم ہواکہ اس میں غوروفکرکرنے کی ضرورت ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر لفظ فقیہ کا اطلاق نہیں ہوسکتاکیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیزمخفی نہیں ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک فقہ کی تعریف:
’’معرفۃ النفس مالہا وماعلیہا‘‘یعنی فقہ نام ہے احکامات کو اس حیثیت سے پہچاننے کا کہ کونسے احکام انسان کے لیے جائز ہیں اور کونسے احکام انسان کے لیے ناجائزہیں بالفاظ دیگرامام صاحب کے نزدیک جائزناجائزاورحلال وحرام کے جاننے کو فقہ کہتے ہیں ۔
درمختارمیں ہے کہ فقہاء کے نزدیک فقہ فروع کو یادکرنے کانام ہے اوراس کی کم سے کم تعدادتین مسائل ہیں چاہے وہ دلائل کے ساتھ یادہوں یابغیردلائل کے ۔
اورکتاب التعریفات میں علامہ سیدشریف جرجانی رحمہ اللہ نے بھی فقہ کی یہی تعریف کی ہے ،مزیدلکھتے ہیں کہ فقہ کہتے ہیں ایسے مخفی معنی تک پہنچنا اوراس پر واقفیت حاصل کرناجس کے ساتھ حکم متعلق ہے توفقہ وہ علم ہے جورائے اور اجتہادسے مستنبط ہو،جب رائے اور اجتہادسے حاصل ہوگا تومعلوم ہواکہ اس میں غوروفکرکرنے کی ضرورت ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر لفظ فقیہ کا اطلاق نہیں ہوسکتاکیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیزمخفی نہیں ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک فقہ کی تعریف:
’’معرفۃ النفس مالہا وماعلیہا‘‘یعنی فقہ نام ہے احکامات کو اس حیثیت سے پہچاننے کا کہ کونسے احکام انسان کے لیے جائز ہیں اور کونسے احکام انسان کے لیے ناجائزہیں بالفاظ دیگرامام صاحب کے نزدیک جائزناجائزاورحلال وحرام کے جاننے کو فقہ کہتے ہیں ۔
اہل حقیقت کے نزدیک فقہ کی تعریف:
’’الجمع بین العلم والعمل‘‘یعنی علم اورعمل کے جمع کرنے کوفقہ کہتے ہیں ،یعنی شریعت اورطریقت کوجمع کرنے کانام فقہ ہے ۔
’’الجمع بین العلم والعمل‘‘یعنی علم اورعمل کے جمع کرنے کوفقہ کہتے ہیں ،یعنی شریعت اورطریقت کوجمع کرنے کانام فقہ ہے ۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک فقیہ کی تعریف :
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے دریافت کیاگیا کہ فقیہ کون ہوتاہے؟توآپ نے فرمایا ’’وہل رأیت فقیہا بعینک انما الفقیہ الزاہد فی الدنیاالراغب فی الآخرۃ البصیربدینہ المداوم علی عبادۃ ربہ الورع الکاف عن اعراض المسلمین العفیف عن اموالہم الناصح لجماعتہم ‘‘ کیاتم نے اپنی آنکھ سے کبھی کوئی فقیہ دیکھابھی ہے ؟فقیہ تووہ ہوتاہے جودنیاسے بے رغبتی اختیارکرنے والاہواورآخرت کاطلب گارہووہ اپنے دین کی بصیرت رکھتاہواورہمیشہ اپنے رب کی عبادت میں لگارہے ،متقی ہو،مسلمانوں کی عزت وآبروکی حفاظت کرنے والا ہو،ان کے مال ودولت سے مستغنی ہواورتمام مسلمانوں کاخیرخواہ ہو ۔
حاوی القدسی میں ہے کہ لغت میں فقہ واقف ہونے اوراطلاع پانے کانام ہے ،اورشریعت میں خاص واقفیت کو فقہ کہاجاتاہے ،اوروہ ہے نصوص کے معانی اور اس کے اشارات اوراس کے مدلول اور اس میں چھپی ہوئی چیزوں اوراس کے تقاضوں پر واقفیت رکھنا توفقیہ اس شخص کو کہیں گے جوان تمام چیزوں کی واقفیت رکھنے والا ہو ، اورفقہی مسائل یادکرنے والے کو مجازاً فقیہ کہیں گے ۔
خلاصہ:
فقہ کی مختلف تعریفیں مختلف الفاظ میں مختلف حضرات کے نزدیک سامنے آئی ہیں ،سوال یہ ہے کہ ان میں اختلاف کیوں ہے؟اس کے جواب سے پہلے ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ دینی احکام تین قسم پر ہیں (۱)پہلی قسم وہ ہے جن کاتعلق عقائد سے ہے جیسے ایمان مفصل اور ایمان مجمل وغیرہ(۲)دوسری قسم وہ ہے جس کاتعلق ظاہری اعمال سے ہے یعنی وہ اعمال جوانسان کے اعضاء ظاہری سے وجودمیں آتے ہیں جیسے نماز،روزہ،حج وغیرہ(۳)تیسری قسم احکام کی وہ ہے جس کا تعلق باطنی اعمال سے ہے یعنی جن کوانسان کاباطن سرانجام دیتاہے ، مثلاً اللہ اوراس کے رسول کی محبت ،اللہ کی رضاپرراضی رہنا،پہلی قسم کے احکام کو عقائد اوردوسری قسم کے احکام کو عبادات اورتیسری قسم کے احکام کو اخلاقیات کہاجاتاہے ،پھراخلاقیات کی بھی دوقسمیں ہیں ،اخلاقِ حسنہ اوراخلاقِ رذیلہ ، قناعت،صبر،حوصلہ،دینی غیرت وحمیت وغیرہ اخلاق حسنہ ہیں اورحسد،کینہ ،بغض وغیرہ رذائل میں سے ہیں ،
خلاصہ:
فقہ کی مختلف تعریفیں مختلف الفاظ میں مختلف حضرات کے نزدیک سامنے آئی ہیں ،سوال یہ ہے کہ ان میں اختلاف کیوں ہے؟اس کے جواب سے پہلے ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ دینی احکام تین قسم پر ہیں (۱)پہلی قسم وہ ہے جن کاتعلق عقائد سے ہے جیسے ایمان مفصل اور ایمان مجمل وغیرہ(۲)دوسری قسم وہ ہے جس کاتعلق ظاہری اعمال سے ہے یعنی وہ اعمال جوانسان کے اعضاء ظاہری سے وجودمیں آتے ہیں جیسے نماز،روزہ،حج وغیرہ(۳)تیسری قسم احکام کی وہ ہے جس کا تعلق باطنی اعمال سے ہے یعنی جن کوانسان کاباطن سرانجام دیتاہے ، مثلاً اللہ اوراس کے رسول کی محبت ،اللہ کی رضاپرراضی رہنا،پہلی قسم کے احکام کو عقائد اوردوسری قسم کے احکام کو عبادات اورتیسری قسم کے احکام کو اخلاقیات کہاجاتاہے ،پھراخلاقیات کی بھی دوقسمیں ہیں ،اخلاقِ حسنہ اوراخلاقِ رذیلہ ، قناعت،صبر،حوصلہ،دینی غیرت وحمیت وغیرہ اخلاق حسنہ ہیں اورحسد،کینہ ،بغض وغیرہ رذائل میں سے ہیں ،
اورقرآن پاک میں سورۃ العصر میں اوراسی طرح احادیثِ مبارکہ میں سے حدیثِ جبرئیل میں ان تینوں قسموں کابیان ہے ،تودین ان تینوں قسموں کے احکام کوبجالانے کانام ہے اورانہی تینوں قسموں کے احکام کی گہری بصیرت کوقرون اولیٰ میں فقہ کہاجاتاتھا،اسی لیے امام اعظم رحمہ اللہ نے عقائد پرجوکتاب لکھی تھی اس کانام بھی الفقہ الاکبر رکھا ، اورحسن بصری رحمہ اللہ کی تعریف سے بھی معلوم ہورہاہے کہ فقہ صرف جاننے کانام نہیں بلکہ پوری زندگی کودین کے مطابق ڈھالنے کانام ہے،اورحدیث ’’مَنْ یُّرِدِاللّٰہُ بِہٖ خَیْراًیُّفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ‘‘میں کسی خاص شعبہ کی تخصیص نہیں بلکہ سب شعبوں کو شامل ہے،لیکن جب ان علوم کی ترتیب وتدوین کی ضرورت محسوس کی گئی تو تدوین کرنے والوں نے عوام کی سہولت کے لیے تینوں قسم کے احکام کوالگ الگ کردیا، پہلی قسم کے احکام کو علمِ کلام دوسری قسم کے احکام کو علمِ فقہ اورتیسری قسم کے احکام کو علمِ تصوف کانام دیدیاگیا،اسی لیے متقدمین فقہاء نے جو تعریف کی ہے وہ ان تینوں قسموں کو شامل ہے کیونکہ اس زمانے میں فقہ کا اطلاق ان تینوں قسموں پرہوتاتھا ،اورمتاخرین فقہاء کی تعریف صرف احکام کی اس قسم کو شامل ہے جس کاتعلق انسان کے ظاہری بدن اورظاہری اعمال سے ہے ،اسی لیے متاخرین فقہاء نے اپنی تعریف میں العملیۃ کی قید لگائی ہے ،تواب فقہ کا اطلاق احکام کی صرف اس قسم پرہوگا جس کاتعلق ظاہری اعمال سے ہے ،یہی وجہ ہے کہ مختلف فقہاء کرام اورمختلف حضرات نے فقہ کی تعریف مختلف کی ہے
No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g