Sunday, April 22, 2018

فقہ کا موضوع :

فقہ کا موضوع :
’’فعل المکلف ثبوتااوسلبامن حیث انہ مکلف‘‘
یعنی مکلف آدمی کافعل اس حیثیت سے کہ تکلیف اس کے لیے ثابت ہے جیسے واجب اورحرام میں،یااس حیثیت سے کہ اس کی تکلیف اس سے سلب ہے جیسے مندوب اورمباح کہ ان کا آدمی مکلف نہیں ،یعنی مکلف ہونے کی حیثیت سے مکلف آدمی کافعل یہ فقہ کاموضوع ہے ،اوربعض حضرات نے فقہ کی جدیدتعریف کی طرف دیکھتے ہوئے کہاہے کہ فقہ کا موضوع انسان کے ظاہری اعمال ہیں ،یعنی یہ جاننا کہ ظاہری اعمال کے شرعی احکام کیاہیں یہی فقہ کا موضوع ہے ،اسی طرح فقہ کی قدیم تعریف کے مطابق فقہ کا موضوع صرف ظاہری اعمال نہیں ہوں گے بلکہ عقائد اورظاہری وباطنی اعمال سب فقہ کا موضوع ہیں،معلوم ہواکہ جدیداصطلاحی فقہ علم دین کا ایک تہائی حصہ ہے ،اوراس ایک تہائی کے لیے دوسرے دوتہائی کاہونابھی ضروری ہے ۔
فقہ کا مأخذ:
’’واستمدادہ من الکتاب والسنۃ والاجماع والقیاس‘‘
فقہ کا ماخذاصول اربعہ یعنی قرآن،حدیث،اجماع،اور قیاس ہیں،وہ قیاس جوان تینوں قسموں سے مستنبط
ہو،سابقہ امتوں کی شریعتوں کے مسائل کتاب اللہ کے تحت داخل ہیں ،اقوال صحابہؓ سنت کے تحت داخل ہیں ، تعامل ناس اجماع امت کے تحت داخل ہے ،تحری اوراستصحاب حال قیاس کے تحت داخل ہیں،اورقرآن وحدیث، اجماع امت اورقیاس کی حجیت کو آگے بیان کیاجائے گا ۔
جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ فقہ قرآن وسنت اوراجماع وقیاس سے ماخوذہے تومعلوم ہوگیاکہ فقہ قرآن وسنت کاہی دوسرانام ہے ،اورفقہ قرآن وسنت سے الگ کوئی تیسری چیزنہیں ہے،تیرہویں صدی ہجری کے بعض نادان لوگوں نے مسلمانوں کو فقہ سے دورکرنے کے لیے یہ شورمچایا اور یہ شوشاچھوڑا کہ فقہ قرآن وسنت کے خلاف ہے اوردلیل کے طورپر مجتہدفیہ مسائل اوران کے یکطرفہ دلائل کوایک طرف لاکر دوسری طرف فقہ حنفی کامسئلہ رکھا اورلوگوں کو اس زعم میں مبتلاکرنے کی کوشش کی کہ فقہ حدیث کے خلاف ہے ،آپ نے حدیث کی بات ماننی ہے یاامام اعظم کی فقہ کی ،جب کہ مجتہدفیہ مسئلہ میں دوسری جانب کے دلائل کو عوام کی نظروں سے بالکل اوجھل رکھا گیا ،اس بات کے نقلی دلائل توآگے وضاحت سے آجائیں گے لیکن یہاں مختصرایک عقلی دلیل سے اس بات کوواضح کرنا چاہتاہوں کہ فقہ قرآن وحدیث سے ہی ماخوذہے ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے نفع کے لیے جتنی چیزیں پیدافرمائی ہیں ان کا تعلق انسان کی زندگی کے جس شعبہ سے بھی ہومثلاً کھانے پینے کی اشیاء ،اجناس ،لکڑی ، پھل،سبزیاں ،کپڑا،اوراس کے علاوہ وہ تمام چیزیں جن کوانسان اپنی زندگی کے لیے استعمال کرتاہے وہ سب چیزیں بلاواسطہ یا بالواسطہ زمین سے ہی نکلتی ہیں ، اب اگر ایک آدمی کہتاہے کہ گندم زمین سے نکلتی ہے ،مکئی زمین سے نکلتی ہے ،کپڑازمین سے نکلتاہے ،کپاس زمین سے نکلتی ہے ،گنازمین سے نکلتاہے تمام پھل زمین سے نکلتے ہیں تواس کی اس بات پر کوئی واویلاکرناشروع کردے کہ تم جھوٹ بولتے ہو لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو ،میں نے تو تجربہ کیاہے ،میں نے کئی مرتبہ کسی لے کرزمین کوگہرائی تک کھوداہے نہ اس میں سے گندم نکلی ہے اورنہ اس میں سے کپڑانکلاہے نہ اس میں سے مکئی نکلی ہے اورنہ کوئی دوسری چیز ،وہاں تومٹی کے ڈھیلوں کے سوااورکچھ ہے ہی نہیں توتم کیسے کہتے ہوکہ یہ ساری چیزیں زمین سے نکلتی ہیں ،اب کیاکیاجائے اس جیسے آدمی کی عقل کا ؟اس کی عقل پر جتناماتم کیاجائے کم ہے،ارے بھائی توسمجھاہی نہیں ،یہ ساری چیزیں نکلتی زمین سے ہی ہیں لیکن ان کونکالنے کا ایک خاص طریقہ ہے جو تجھے نہیں آتااوراعتراض زمین داروں پر کرتاہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ سب چیزیں زمین سے نکلتی ہیں ،جس طرح تونکالناچاہتاہے اس طرح نہیں نکلیں گی ،اس کے لیے پہلے زمین کو نرم کرناپڑے گا، بیچ ڈالنا ہوگا ،پانی دیناہوگا اور اس کی حفاظت کرنی پڑے گی پھراس کے بعدبھی بہت ساری محنتیں اور مشقتیں ہیں جوکرنی پڑیں گی تب جاکر گندم نکلے گی ،مکئی نکلے گی، کپڑاحاصل ہوگا۔
اسی طرح جب فقہ کا انکارکرنے والوں کو کہاجاتاہے کہ فقہ کے تمام مسائل قرآن وحدیث سے ماخوذہیں گویافقہ قرآن وحدیث کا ہی دوسرانام ہے ،تووہ بھی فوراً شور مچاتے ہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو ،لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو یہ مسائل قرآن وحدیث میں نہیں ہیں ہم نے کئی باردیکھاہے،توسمجھدارآدمی ان کو بیوقوف نہیں کہے گاتواورکیاکہے گا ، وہ یہی کہے گا کہ بھئی نکلتے سارے مسائل قرآن وسنت سے ہی ہیں لیکن ان کے نکالنے کاایک خاص طریقہ ہے جوتجھے نہیں آتا اوراس طریقے کاعلم تیرے پاس نہیں ہے ،نکالنے کا طریقہ تجھے نہیں آتااوراعتراض فقہاء کرام پر کرتاہے ،
اسی طرح جب فقہ کا انکارکرنے والوں کو کہاجاتاہے کہ فقہ کے تمام مسائل قرآن وحدیث سے ماخوذہیں گویافقہ قرآن وحدیث کا ہی دوسرانام ہے ،تووہ بھی فوراً شور مچاتے ہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو ،لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو یہ مسائل قرآن وحدیث میں نہیں ہیں ہم نے کئی باردیکھاہے،توسمجھدارآدمی ان کو بیوقوف نہیں کہے گاتواورکیاکہے گا ، وہ یہی کہے گا کہ بھئی نکلتے سارے مسائل قرآن وسنت سے ہی ہیں لیکن ان کے نکالنے کاایک خاص طریقہ ہے جوتجھے نہیں آتا اوراس طریقے کاعلم تیرے پاس نہیں ہے ،نکالنے کا طریقہ تجھے نہیں آتااوراعتراض فقہاء کرام پر کرتاہے ، جس طرح اس آدمی کایہ اعتراض کہ اناج،پھل،سبزیاں وغیرہ زمین سے نہیں نکلتیں نقل وعقل اورمشاہدہ کے خلاف ہے ، اسی طرح فقہ کاانکارکرنے والوں کایہ کہنا کہ یہ مسائل قرآن وسنت کے خلاف ہیں یہ بھی نقل وعقل اور مشاہدہ کے خلاف ہے ،جس طرح وہ کہنے والا بے وقوف اسی طرح یہ کہنے والا اس سے بھی بڑابے وقوف ہے ۔

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g