ادلہ اربعہ کی حجیت
جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ فقہ قرآن، سنت ،اجماع اورقیاس شرعی سے ماخوذہے تواسی مناسبت سے یہاں ادلہ اربعہ کی حجیت کوثابت کیاجائے گاتاکہ فقہ کی حجیت روزروشن کی طرح واضح ہوجائے اورفقہ کے حجت ہونے میں کوئی تأمل باقی نہ رہے ۔
(۱)قرآن کریم:
فقہ کاسب سے پہلاماخذقرآن کریم ہے ،جس کے حجت ہونے میں کسی کوشک ہوہی نہیں سکتا توجوچیزاس سے ثابت ہواس میں شک کس طرح ہوسکتاہے؟ اگرکوئی آدمی قرآن پاک میں شک کرے گا تووہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے ’’ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَارَیْبَ
فِیْہ‘‘ یہ قرآن ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے
(۲)سنت رسول اکرمﷺ:
فقہ کا دوسراماخذسنت رسول ﷺ جس کو خودقرآن پاک نے حجت قراردیا ہے ،اورمتعددآیات اس پرشاہدہیں ۔
(۱) فرمان باری تعالیٰ ہےوَمَایَنْطِقُ عَنِ الْہَویٰ، اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحیٰوہ نبی اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتا اس کی ہربات ایک وحی ہوتی ہے جو وحی کی جاتی ہے ۔
(۱) فرمان باری تعالیٰ ہےوَمَایَنْطِقُ عَنِ الْہَویٰ، اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحیٰوہ نبی اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتا اس کی ہربات ایک وحی ہوتی ہے جو وحی کی جاتی ہے ۔
(۲)
’’وَمَااٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا‘‘اوروہ رسول تمہیں جوچیزدے اس کو لے لو اورتمہیں جس چیزسے روکے اس سے رک جاؤ۔
(۳)
’’مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْْلَ فَقَدْاَطَاعَ اللّٰہَ‘‘
جس نے رسول کی اطاعت کی تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔
(۴) ’’
یٰاَیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوْااللّٰہَ وَاَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ ‘‘اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرواوررسول کی اطاعت کرو۔
(۵) ’’
وَاَنْزَلْنَااِلَیْکَ الذِّکْرَلِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ‘‘ہم نے آپ کی طرف اس قرآن کواتاراتاکہ آپ لوگوں کے لیے اس کی وضاحت کریں۔
(۶) ’’
اِنَّااَنْزَلْنَااِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ‘‘بے شک ہم نے آپ کی طرف کتاب کواتارا سچائی کے ساتھ تاکہ آپ فیصلہ کریں لوگوں کے
درمیان۔
(۷) ’’
فَلَاوَرَبِّکَ لَایُوؤمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَبَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْافِی اَنْفُسِہِمْ حَرَجاًمِّمَّاقَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً‘‘تیرے رب کی قسم وہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپ کو فیصل اور حکم تسلیم نہ کرلیں اپنے جھگڑوں میں پھروہ اپنے نفسوں میں کوئی کجی نہ پائیں آپ کے فیصلہ کے بارے میں اوروہ اپنے آپ کو سپردنہ کردیں سپردکرنا۔
(۸) ’’اَلنَّبِیُّ اَوْلیٰ بِالْمُوؤمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ ‘‘نبی زیادہ حق رکھتاہے مومنوں پر ان کی جانوں سے ۔
ان آیات مبارکہ میں حدیث پر عمل کرنے کولازمی قراردیاگیاہے ،اورخود آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنے فرامین میں سنت کولازم پکڑنے کی تاکیدفرمائی ہے ۔
ان آیات مبارکہ میں حدیث پر عمل کرنے کولازمی قراردیاگیاہے ،اورخود آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنے فرامین میں سنت کولازم پکڑنے کی تاکیدفرمائی ہے ۔
(۱) ’’
عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَآءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ‘‘میرے طریقے کو لازم پکڑو اورخلفاء راشدین کے طریقے کو لازم پکڑو ۔
(۲) ’’
(۲) ’’
فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَِ منِّیْ‘‘جس نے میرے طریقے سے اعراض کیا وہ میری جماعت سے نہیں ہے ۔
(۳) ’’
(۳) ’’
لَایُوؤمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہُ تَبَعاًلِّمَاجِءْتُ بِہٖ ‘‘کوئی آدمی تم میں سے اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتاجب تک کہ اس کی خواہشات اس چیزکے تابع نہ ہوجائیں جس کو میں لے کرآیاہوں۔
(۴) ’’
(۴) ’’
اذاامرتکم بشئ من دینکم فخذوہ‘‘جب میں تمہیں تمہارے دین میں سے کسی چیز کے بارے میں حکم دوں تواس کو لے لیاکرو۔
یہ چندنمونے ہیں قرآن وحدیث کے جن سے سنت کا حجیت ہونامعلوم ہوتاہے ۔
جس طرح یہ زمانہ دورنبوی ﷺ سے دورہوتاجارہاہے اسی طرح فتنوں کاظہوربھی اسی تیزی سے ہورہاہے ،
یہ چندنمونے ہیں قرآن وحدیث کے جن سے سنت کا حجیت ہونامعلوم ہوتاہے ۔
جس طرح یہ زمانہ دورنبوی ﷺ سے دورہوتاجارہاہے اسی طرح فتنوں کاظہوربھی اسی تیزی سے ہورہاہے ،
ایک نیافرقہ اٹھ کھڑاہواجنہوں نے سنت اورحجیتِ حدیث کاانکارکیا ،اورانہوں نے کہاکہ ہدایت کے لیے رب کاقرآن ہی کافی ہے اوروہ کہتے ہیں کہ ہم توصرف قرآن پاک کوہی مانتے ہیں ،جوشخص حدیث کو چھوڑ کر یہ کہے کہ میں توبس قرآن کوہی مانتاہوں وہ اپنے دعویٰ میں ہرگز سچاثابت نہیں ہوسکتاہے،قرآن پاک توکہتاہے کہ نبی کی بات حجت ہے ،نبی جوحکم فرمائے اس کو لے لو ،نبی کی اطاعت ہی خداکی اطاعت ہے ،وہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپ کو فیصل نہ مان لیں ،توقرآن پاک میں توحدیث اورسنت کوماننے کاباربارحکم دیاگیا ہے توجو شخص حدیث اورسنت کو نہیں مانتاوہ درحقیقت قرآن پاک کوہی نہیں مانتا ،لہذا وہ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹاہے کہ میں قرآن پاک کومانتاہوں۔
جس طرح سنت ایک دلیل ہے اور اس سے احکام ثابت ہوتے ہیں اسی طرح آثارصحابہ بھی ایک دلیل ہے ، ان سے بھی احکام ثابت ہوتے ہیں اوریہ دلیل اسی دوسری دلیل سنت کاہی حصہ ہے ۔
جس طرح سنت ایک دلیل ہے اور اس سے احکام ثابت ہوتے ہیں اسی طرح آثارصحابہ بھی ایک دلیل ہے ، ان سے بھی احکام ثابت ہوتے ہیں اوریہ دلیل اسی دوسری دلیل سنت کاہی حصہ ہے ۔
(۳)اجماع امت :
فقہ کا تیسراماخذاجماع امت ہے ۔
اجماع کالغوی معنی :
اجماع کالغوی معنی ہے جمع ہوجانا،اتفاق کرلینا۔
اجماع کی شرعی واصطلاحی تعریف :
اورشرعی تعریف یہ ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد کسی وقت کے تمام مجتہدین وفقہاء کا کسی مسئلہ پر اکٹھے ہوجانا اجماع کہلاتاہے،یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے امت محمدیہ ﷺ کو ایک نعمت عطاکی گئی ہے ، اجماع کی تائید اوراس کی حجیت پربھی قرآن وحدیث میں دلائل موجودہیں ۔
حجیت اجماع قرآن کی روشنی میں :
اجماع کالغوی معنی :
اجماع کالغوی معنی ہے جمع ہوجانا،اتفاق کرلینا۔
اجماع کی شرعی واصطلاحی تعریف :
اورشرعی تعریف یہ ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد کسی وقت کے تمام مجتہدین وفقہاء کا کسی مسئلہ پر اکٹھے ہوجانا اجماع کہلاتاہے،یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے امت محمدیہ ﷺ کو ایک نعمت عطاکی گئی ہے ، اجماع کی تائید اوراس کی حجیت پربھی قرآن وحدیث میں دلائل موجودہیں ۔
حجیت اجماع قرآن کی روشنی میں :
(۱)’’
ومن یشاقق الرسول من بعدماتبین لہ الہدی ویتبع غیرسبیل المؤمنین نولہ ماتولی ونصلہ جہنم وساء ت مصیرا‘‘اورجوشخص رسول کی مخالفت کرے گا ہدایت کاراستہ واضح ہونے کے بعد اوروہ پیچھے چلے گا مؤمنین کے راستہ کوچھوڑکرکسی دوسرے راستہ کے ہم اس کو پھیردیں گے جدھروہ پھرااورہم اس کو داخل کریں گے جہنم میں اورجہنم براٹھکانہ ہے ۔
(۲)’’
(۲)’’
وکذلک جعلناکم امۃ وسطالتکونواشہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا‘‘اسی طرح ہم نے بنایاتم کومعتدل امت تاکہ تم گواہ ہوجاؤلوگوں پر اوررسول گواہ ہوجائے تم پر ،
(۳)’’
واعتصموبحبل اللہ جمیعاولاتفرقوا‘‘اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لو اورگروہ بندی نہ کرو۔
(۴)’’
(۴)’’
یایہاالذین آمنوا اتقوااللہ وکونوا مع الصادقین ‘‘اے ایمان والو!اللہ سے ڈرواورصادقین کے ساتھ ہوجاؤ۔
(۵)’’
(۵)’’
یایہاالذین آمنوا اطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامرمنکم ‘‘اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرواوراللہ کے رسول کی اطاعت کرو اوراولی الامرکی اطاعت کرو ،اس آیت سے ضمناً اجماع کاحجت ہونامعلوم ہوتاہے ۔
حجیت اجماع احادیث کی روشنی میں :
(۱)’’
حجیت اجماع احادیث کی روشنی میں :
(۱)’’
ان اللہ لایجمع امتی علی الضلالۃ ‘‘بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کوکبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا ۔
(۲)’’
(۲)’’
یداللہ علی الجماعۃ‘‘اللہ تعالیٰ کا ہاتھ(مدد)جماعت کے ساتھ ہے ۔
(۳)
(۳)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت کیاگیا کہ اگرکوئی ایسامسئلہ پیش آجائے جس کے بارے میں کوئی صریح حکم یاممانعت نہ ہوتوہم کیاکریں؟توآپ ﷺ نے ارشادفرمایا اس میں فقہاء اورعابدین سے مشورہ لو اورکسی خاص شخص کی رائے کونافذنہ کرو،معلوم ہواکہ اس کی مخالفت جائز نہیں ہے ۔
(۴)’’
(۴)’’
من شذشذفی النار‘‘جوجماعت سے جداہواوہ جداہواآگ میں ۔
(۵)’’
(۵)’’
فمن اراد منکم بحبوحۃ الجنۃ فیلزم الجماعۃ فان الشیطان مع الواحد وہومن اثنین ابعد‘‘تم میں سے جوشخص جنت کی خوشبوچاہتاہے وہ جماعت کولازم پکڑے کیونکہ ایک آدمی کے ساتھ شیطان ہوتاہے،اورشیطان دوآدمیوں سے دوربھاگتاہے ۔
حجیت اجماع آثارصحابہ کی روشنی میں :
(۱)
حجیت اجماع آثارصحابہ کی روشنی میں :
(۱)
حضرت عمرفاروقؓ نے ایک سرکاری فرمان اپنے دورمیں جاری کرواکرمختلف علاقوں کی طرف بھیجااس فرمان میں ہے ’’فان اتاک امرلیس فی کتاب اللہ فاقض بماسن رسول اللہ ﷺ فان اتاک امرلیس فی کتاب اللہ ولم یسنہ رسول اللہ ﷺفانظر لہ الذی اجتمع علیہ الناس ‘‘اگرتمہارے پاس ایسی بات آجائے جوکتاب اللہ میں نہیں ہے توپھر رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کرنا ،اوراگرکوئی ایسی بات (مسئلہ)آجائے جونہ کتاب اللہ میں ہے اورنہ سنت رسول اللہ میں ہے توپھر اس کا حل اس بات میں تلاش کرناجس پر لوگ جمع ہوچکے ہیں ۔
(۲)
(۲)
حضرت ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ کاارشادہے ’’اتقوا للہ وعلیکم بالجماعۃ ‘‘اللہ سے ڈرواورجماعت کو لازم پکڑو۔
(۳)
(۳)
آثارصحابہ میں سے ایک اثرہے ’’ماراٰہ المؤمنون حسنا فہوعنداللہ حسن ‘‘جس کام کو سب مؤمن اچھاخیال کریں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھاہے ۔
نوٹ :
اجماع سے مرادیہ ہے کہ قرآن وسنت کے جواحکام ہیں انہی کے مطابق کسی مسئلہ اورکسی حکم پر پوری امت جمع ہوجائے یہ اجماع حجت شرعی ہے ،اس کایہ مطلب ہرگزنہیں ہے کہ اگرلوگ قرآن وسنت کے خلاف کسی مسئلہ پر اکٹھے ہوجائیں توان کاجمع ہونابھی حجت ہے ،اس طرح کااجماع ہدایت کی بجائے گمراہی کی جڑاورجہنم کا راستہ ہے ، وہ مسئلہ جس پراجماع ہوا ہے اگروہ پہلے ظنی تھا تواجماع کے بعدوہ قطعی ہوجاتاہے ،اوراگروہ مسئلہ پہلے ہی قطعی تھا تواجماع سے اس کی قطعیت کومزیدتقویت حاصل ہوجاتی ہے ،علماء نے اجماع کی تین قسمیں لکھی ہیں ،(۱)اجماع قولی (۲)
نوٹ :
اجماع سے مرادیہ ہے کہ قرآن وسنت کے جواحکام ہیں انہی کے مطابق کسی مسئلہ اورکسی حکم پر پوری امت جمع ہوجائے یہ اجماع حجت شرعی ہے ،اس کایہ مطلب ہرگزنہیں ہے کہ اگرلوگ قرآن وسنت کے خلاف کسی مسئلہ پر اکٹھے ہوجائیں توان کاجمع ہونابھی حجت ہے ،اس طرح کااجماع ہدایت کی بجائے گمراہی کی جڑاورجہنم کا راستہ ہے ، وہ مسئلہ جس پراجماع ہوا ہے اگروہ پہلے ظنی تھا تواجماع کے بعدوہ قطعی ہوجاتاہے ،اوراگروہ مسئلہ پہلے ہی قطعی تھا تواجماع سے اس کی قطعیت کومزیدتقویت حاصل ہوجاتی ہے ،علماء نے اجماع کی تین قسمیں لکھی ہیں ،(۱)اجماع قولی (۲)
اجماع عملی(۳)اجماع سکوتی ۔
اجماع قولی :
اجماع قولی کامطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جن میں اجماع کی اہلیت ہے وہ اپنی زبان سے کسی دینی مسئلہ پر متفق ہوجائیں ،جیسے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ کی خلافت پر سب صحابہ کرام کا اجماع ہے ،سب صحابہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اورزبان سے ان کے خلیفہ برحق ہونے کااقراربھی کیا،اجماع کی یہ قسم کتاب اللہ کی آیت کی طرح قطعی ہوتی ہے اور اس کاانکارکرنے والا کافرہوتاہے۔
اجماع قولی کامطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جن میں اجماع کی اہلیت ہے وہ اپنی زبان سے کسی دینی مسئلہ پر متفق ہوجائیں ،جیسے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ کی خلافت پر سب صحابہ کرام کا اجماع ہے ،سب صحابہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اورزبان سے ان کے خلیفہ برحق ہونے کااقراربھی کیا،اجماع کی یہ قسم کتاب اللہ کی آیت کی طرح قطعی ہوتی ہے اور اس کاانکارکرنے والا کافرہوتاہے۔
اجماع عملی :
اجماع عملی یہ ہے کہ اجماع کی اہلیت رکھنے والے تمام حضرات کوئی عمل کریں پھراس کو بالاجماع جائز سمجھاجانے لگے ،یعنی کسی ایسے مسئلہ میں صحابہ کے بعد والے لوگوں کا اجماع جس میں پہلے اختلاف نہ ہو،یہ خبرمشہورکی طرح ہوتاہے،اس پر عمل کرناتوواجب ہے لیکن یقین رکھناضروری نہیں ہے ۔اجماع کی اس قسم سے صرف فعل کا مباح ہونایاسنت ہوناثابت ہوسکتاہے واجب کاثبوت اس سے نہیں ہوسکتا۔
اجماع سکوتی:
اجماع سکوتی یہ ہے کہ ایک مسئلہ پر اہلیت والے کچھ حضرات متفقہ طورپرزبانی یاعملی فیصلہ کردیں پھراس کے
اجماع عملی یہ ہے کہ اجماع کی اہلیت رکھنے والے تمام حضرات کوئی عمل کریں پھراس کو بالاجماع جائز سمجھاجانے لگے ،یعنی کسی ایسے مسئلہ میں صحابہ کے بعد والے لوگوں کا اجماع جس میں پہلے اختلاف نہ ہو،یہ خبرمشہورکی طرح ہوتاہے،اس پر عمل کرناتوواجب ہے لیکن یقین رکھناضروری نہیں ہے ۔اجماع کی اس قسم سے صرف فعل کا مباح ہونایاسنت ہوناثابت ہوسکتاہے واجب کاثبوت اس سے نہیں ہوسکتا۔
اجماع سکوتی:
اجماع سکوتی یہ ہے کہ ایک مسئلہ پر اہلیت والے کچھ حضرات متفقہ طورپرزبانی یاعملی فیصلہ کردیں پھراس کے
بعد جب باقی اہلیت والے حضرات کو اس کاپتہ چلے تووہ اس بات کا موقع ملنے کے باوجود کہ وہ اس کے بارے میں غوروفکراوربحث کرتے وہ خاموش رہیں اورسکوت اختیارکریں اوراس سے اختلاف نہ کریں ،جیساکہ مانعین زکوٰۃ کے خلاف قتال پرصحابہ کااجماع ہے ،اکثرصحابہ نے قول بھی کیا،اوربعض صحابہ اس میں خاموش رہے ،اس قسم پر بھی عمل کرنا واجب ہے اوریہ خبرمتواترکی طرح ہے لیکن اس کا منکرکافرنہیں ہے ،امام شافعی رحمہ اللہ اجماع کی اس قسم کواجماع
کرنا واجب ہے اوریہ خبرمتواترکی طرح ہے لیکن اس کا منکرکافرنہیں ہے ،امام شافعی رحمہ اللہ اجماع کی اس قسم کواجماع نہیں مانتے ۔
ان تین قسموں میں سے پہلی دوقسمیں توسب فقہاء کے نزدیک حجت ہیں اورتیسری قسم میں فقہاء کااختلاف ہے ،احناف کے اکثرحضرات کے نزدیک امام احمداوربعض شوافع اس کو حجتِ قطعیہ مانتے ہیں، اورمام شافعی،اکثرشوافع اوراکثرمالکیہ اس کوحجت ہی نہیں مانتے ،جب کہ بعض فقہاء نے اس کو حجتِ ظنیہ کہاہے ۔
امام المحدثین سیدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ نے اجماع کی ایک چوتھی قسم بھی بیان کی ہے،جس کو استاذمحترم حضرت اقدس مفتی حمیداللہ جان حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسالہ ’’زبدۃ الاصول‘‘میں ذکرفرمایاہے،وہ یہ ہے کہ صحابہ کے دورکے بعدوالے لوگ کسی ایسے مسئلے پر اجماع کرلیں جس میں پہلے دور میں اختلاف ہواوربعد والے لوگ اس میں اتفاق کرلیں، جیسے ام ولدکی بیع میں صحابہ کے اندرپہلے اختلاف تھا،حضرت عمرؓ کے نزدیک ناجائزتھی،اورحضرت علیؓ کے نزدیک جائز تھی، پھر پوری امت کا اجماع حضرت عمرؓ کے قول پر ہوگیا ۔
ان تین قسموں میں سے پہلی دوقسمیں توسب فقہاء کے نزدیک حجت ہیں اورتیسری قسم میں فقہاء کااختلاف ہے ،احناف کے اکثرحضرات کے نزدیک امام احمداوربعض شوافع اس کو حجتِ قطعیہ مانتے ہیں، اورمام شافعی،اکثرشوافع اوراکثرمالکیہ اس کوحجت ہی نہیں مانتے ،جب کہ بعض فقہاء نے اس کو حجتِ ظنیہ کہاہے ۔
امام المحدثین سیدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ نے اجماع کی ایک چوتھی قسم بھی بیان کی ہے،جس کو استاذمحترم حضرت اقدس مفتی حمیداللہ جان حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسالہ ’’زبدۃ الاصول‘‘میں ذکرفرمایاہے،وہ یہ ہے کہ صحابہ کے دورکے بعدوالے لوگ کسی ایسے مسئلے پر اجماع کرلیں جس میں پہلے دور میں اختلاف ہواوربعد والے لوگ اس میں اتفاق کرلیں، جیسے ام ولدکی بیع میں صحابہ کے اندرپہلے اختلاف تھا،حضرت عمرؓ کے نزدیک ناجائزتھی،اورحضرت علیؓ کے نزدیک جائز تھی، پھر پوری امت کا اجماع حضرت عمرؓ کے قول پر ہوگیا ۔
(۴)قیاس شرعی:
فقہ کا چوتھا ماخذ قیاس شرعی ہے ،جس طرح قرآن وحدیث اور اجماع امت حجت شرعی ہیں ، بالکل اسی طرح قیاس شرعی بھی حجت ہے۔
قیاس کی لغوی تعریف :
قیاس کالغوی معنی ہے اندازہ کرنا اور برابری کرنا ،یعنی کہ قیاس کے لغوی معنی میں دوقول ہیں ،علامہ ابن حاجب فرماتے ہیں کہ قیاس کا لغوی معنی مساوات اور برابری کے ہیں جیساکہ کہاجاتاہے’’ فلان یقاس بفلان‘‘ کہ فلاں فلاں کے مساوی ہے،اوراکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ قیاس کے لغوی معنی اندازہ کرنے کے ہیں جیسے کہاجاتاہے ’’قست الارض بالقصبۃ‘‘میں نے بانس سے زمین کا اندازہ کیایعنی اس کوناپا’’قاس الطبیب قعرالجرح‘‘طبیب نے زخم کی گہرائی کا اندازہ کیا یعنی اس کوناپا ’’قس النعل بالنعل ‘‘ایک جوتے کا دوسرے جوتے کے ساتھ اندازہ کر اورایک جوتے کو دوسرے جوتے کی نظیر اور مثل بنا ،اکثر علماء کہتے ہیں کہ تقدیراوراندازہ کرنا چونکہ ایسی دوچیزوں کا تقاضاکرتاہے جن میں سے ایک دوسرے کی طرف مساوات کے ساتھ منسوب ہو ،ا س لیے لفظ قیاس بمعنی تقدیر ،مساوات کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا ، چنانچہ ’’قس النعل بالنعل ‘‘کا مطلب یہ ہی ہے کہ ایک جوتے کو دوسرے جوتے کے برابرکر اورجب ایساہے تو ابن حاجب اوراکثر علماء کے اقوال کا مآل ایک ہوگا ۔
قیاس کی لغوی تعریف :
قیاس کالغوی معنی ہے اندازہ کرنا اور برابری کرنا ،یعنی کہ قیاس کے لغوی معنی میں دوقول ہیں ،علامہ ابن حاجب فرماتے ہیں کہ قیاس کا لغوی معنی مساوات اور برابری کے ہیں جیساکہ کہاجاتاہے’’ فلان یقاس بفلان‘‘ کہ فلاں فلاں کے مساوی ہے،اوراکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ قیاس کے لغوی معنی اندازہ کرنے کے ہیں جیسے کہاجاتاہے ’’قست الارض بالقصبۃ‘‘میں نے بانس سے زمین کا اندازہ کیایعنی اس کوناپا’’قاس الطبیب قعرالجرح‘‘طبیب نے زخم کی گہرائی کا اندازہ کیا یعنی اس کوناپا ’’قس النعل بالنعل ‘‘ایک جوتے کا دوسرے جوتے کے ساتھ اندازہ کر اورایک جوتے کو دوسرے جوتے کی نظیر اور مثل بنا ،اکثر علماء کہتے ہیں کہ تقدیراوراندازہ کرنا چونکہ ایسی دوچیزوں کا تقاضاکرتاہے جن میں سے ایک دوسرے کی طرف مساوات کے ساتھ منسوب ہو ،ا س لیے لفظ قیاس بمعنی تقدیر ،مساوات کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا ، چنانچہ ’’قس النعل بالنعل ‘‘کا مطلب یہ ہی ہے کہ ایک جوتے کو دوسرے جوتے کے برابرکر اورجب ایساہے تو ابن حاجب اوراکثر علماء کے اقوال کا مآل ایک ہوگا ۔
قیاس کی اصطلاحی تعریف :
قیاس کی اصطلاحی تعریف کئی طرح سے کی گئی ہے(۱)’’تقدیرالفرع بالاصل فی الحکم والعلۃ ‘‘ یعنی فرع کا اصل کے ساتھ اندازہ کرنا حکم اور علت میں ،اصل سے مراد مقیس علیہ ہے اورفرع سے مراد مقیس ہے ،(۲)’’ہوابانۃ مثل حکم احدالمذکورین بمثل علۃ فی الآخر‘‘یعنی اصل کی علت کی طرح علت کے پائے جانے کی وجہ سے فرع میں اصل کے حکم کے مثل حکم ظاہر کرنے کا نام قیاس ہے ،(۳)’’ہومساواۃ الفرع مع الاصل فی الحکم لمساواتہمافی علتہ‘‘فرع کو اصل کے برابر کرنا حکم میں اس وجہ سے کہ دونوں علت میں برابرہیں ،اس کے علاوہ بھی کچھ قیاس کی اصطلاحی تعریفات کی گئی ہیں ۔
حجیت قیاس قرآن پاک کی روشنی میں :
قیاس کاحجت ہونا آیت قرآنیہ سے ثابت ہے،چنانچہ ارشادربانی ہے ’’فاعتبروا یآاولی الابصار‘‘اعتبار کا معنی ہے کسی شئ کا اس کی نظیر پر ردکرنا پیش کرنا توگویااس کا مفہوم یہ ہوا’’قیسوا الشئ علی نظیرہ‘‘ایک شئ کو قیاس کیاجائے اس کی مثل شئ پراورلفظ اعتبار ہرنوع کے قیاس کو شامل ہے ،یعنی جو حکم نظیر کے لیے ہوتاہے وہ اس کے لیے ثابت کرتے ہیں اس لیے ایسی اصل کو جس پر اس کے نظائر کو پھیراجائے عبرت کہتے ہیں ،پس آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ شئ کا قیاس اس کی نظیر پر کرو اور یہ ہر قیاس کو شامل ہے خواہ ایسی چیز کا قیاس ہو ایسی چیز پر جس سے عبرت پکڑی جاتی ہے یافروع شرعیہ کا قیاس اصول پر ہو ،اورلحاظ عموم لفظ کا ہوتا ہے نہ کہ خصوص سبب کا اورلفظ عام ہے جوکہ نصیحت حاصل کرنے اورعبرت پکڑنے کوبھی شامل ہے اورہرشئ کو اس کی نظیر کی طرف پھیرنے کوبھی شامل ہے ،پس کسی شئ کے لیے وہ حکم ثابت کرنا جواس کی نظیر کے لیے ثابت ہے یہ بھی ’’فاعتبروا‘‘میں داخل ہے ۔
حجیت قیاس احادیث مبارکہ کی روشنی میں :
جس طرح قیاس کاحجت ہونا کتاب اللہ سے ثابت ہے اسی طرح قیاس کا حجت ہونا احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے ۔
حدیث نمبر(۱):
رسول پاک ﷺ جس وقت حضرت معاذبن جبلؓ کو یمن کی طرف روانہ فرمارہے تھے،توآپ ﷺ نے حضرت معاذؓ سے پوچھا کہ کس دلیل شرعی سے تم احکام شرعی بیان کروگے ؟اورفتویٰ دوگے؟عرض کیا کہ کتاب اللہ سے ،فرمایاکہ اگرتم کو کتاب اللہ میں نہ ملے عرض کیا کہ سنت رسول ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایاکہ اگرحدیث رسول میں بھی وہ حکم نہ ملے تو،انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنے رائے سے اجتہادکروں گا،یہ سن کر آپ ﷺ نے پسندفرمایا اورکہاکہ خداکاشکرہے کہ اس نے اپنے رسول کے قاصد کواس بات کی توفیق دی جس کو وہ پسند کرتاہے اورجس سے وہ راضی ہے ،اس حدیث سے صاف معلوم ہوگیا کہ جب کسی مسئلہ میں صریح آیت اور صریح حدیث نہ ہوتو اس وقت قیاس شرعی سے اس مسئلہ کاحکم معلوم کیاجائے گا۔
اگرقیاس کتاب وسنت کے بعدحجت نہ ہوتا اورقابل عمل نہ ہوتا تورسول اللہ ﷺ اس کورد فرمادیتے اورجب کہ انہوں نے اللہ کا شکر اداکیا تواس سے معلوم ہوا قیاس حجت اور عمل کے قابل ہے جب نص موجودنہ ہو،اوراجماع کا ذکر حضرت معاذؓ نے اس وجہ سے نہیں کیا کہ سرورکائنات ﷺ کے عہدمبارک میں اجماع حجت نہ تھا،بلکہ آپ کی وفات کے بعد حجت مقررہواہے ۔
حدیث نمبر(۲):
حجیت قیاس پر دوسری حدیث جو ابن عباسؓ سے صحاح ستہ میں روایت کی گئی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عورت قبیلہ بنی خثعم سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئی اورعرض کیا کہ میراباپ بہت بوڑھاہے اوراس پر حج فرض ہے ،اونٹ پر بیٹھنے کی اس میں طاقت نہیں ہے کیایہ کافی ہے کہ میں اس کی طرف سے حج کروں؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ بتاؤکہ اگرتیرے باپ کے ذمہ قرض ہوتا تو تواس کو اداکرتی وہ کافی ہوتا ،اس نے عرض کیا کہ بلاشبہ اداکرتی اوروہ کافی ہوتا ،آپ ﷺ نے فرمایاکہ پس اللہ کے دین یعنی حج کو اس کی طرف سے اداکرنا زیادہ ضروری اور بہتر ہے،حضورﷺنے حج کو شیخ فانیہ کے حق میں حقوق مالیہ کے ساتھ ملادیا اورعلت مؤثرہ کی طرف اشارہ فرمایا جس سے جوازثابت ہوا اوروہ علت مؤثرہ قضاء ہے اور اسی کانام قیاس ہے ۔
قیاس کی اصطلاحی تعریف کئی طرح سے کی گئی ہے(۱)’’تقدیرالفرع بالاصل فی الحکم والعلۃ ‘‘ یعنی فرع کا اصل کے ساتھ اندازہ کرنا حکم اور علت میں ،اصل سے مراد مقیس علیہ ہے اورفرع سے مراد مقیس ہے ،(۲)’’ہوابانۃ مثل حکم احدالمذکورین بمثل علۃ فی الآخر‘‘یعنی اصل کی علت کی طرح علت کے پائے جانے کی وجہ سے فرع میں اصل کے حکم کے مثل حکم ظاہر کرنے کا نام قیاس ہے ،(۳)’’ہومساواۃ الفرع مع الاصل فی الحکم لمساواتہمافی علتہ‘‘فرع کو اصل کے برابر کرنا حکم میں اس وجہ سے کہ دونوں علت میں برابرہیں ،اس کے علاوہ بھی کچھ قیاس کی اصطلاحی تعریفات کی گئی ہیں ۔
حجیت قیاس قرآن پاک کی روشنی میں :
قیاس کاحجت ہونا آیت قرآنیہ سے ثابت ہے،چنانچہ ارشادربانی ہے ’’فاعتبروا یآاولی الابصار‘‘اعتبار کا معنی ہے کسی شئ کا اس کی نظیر پر ردکرنا پیش کرنا توگویااس کا مفہوم یہ ہوا’’قیسوا الشئ علی نظیرہ‘‘ایک شئ کو قیاس کیاجائے اس کی مثل شئ پراورلفظ اعتبار ہرنوع کے قیاس کو شامل ہے ،یعنی جو حکم نظیر کے لیے ہوتاہے وہ اس کے لیے ثابت کرتے ہیں اس لیے ایسی اصل کو جس پر اس کے نظائر کو پھیراجائے عبرت کہتے ہیں ،پس آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ شئ کا قیاس اس کی نظیر پر کرو اور یہ ہر قیاس کو شامل ہے خواہ ایسی چیز کا قیاس ہو ایسی چیز پر جس سے عبرت پکڑی جاتی ہے یافروع شرعیہ کا قیاس اصول پر ہو ،اورلحاظ عموم لفظ کا ہوتا ہے نہ کہ خصوص سبب کا اورلفظ عام ہے جوکہ نصیحت حاصل کرنے اورعبرت پکڑنے کوبھی شامل ہے اورہرشئ کو اس کی نظیر کی طرف پھیرنے کوبھی شامل ہے ،پس کسی شئ کے لیے وہ حکم ثابت کرنا جواس کی نظیر کے لیے ثابت ہے یہ بھی ’’فاعتبروا‘‘میں داخل ہے ۔
حجیت قیاس احادیث مبارکہ کی روشنی میں :
جس طرح قیاس کاحجت ہونا کتاب اللہ سے ثابت ہے اسی طرح قیاس کا حجت ہونا احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے ۔
حدیث نمبر(۱):
رسول پاک ﷺ جس وقت حضرت معاذبن جبلؓ کو یمن کی طرف روانہ فرمارہے تھے،توآپ ﷺ نے حضرت معاذؓ سے پوچھا کہ کس دلیل شرعی سے تم احکام شرعی بیان کروگے ؟اورفتویٰ دوگے؟عرض کیا کہ کتاب اللہ سے ،فرمایاکہ اگرتم کو کتاب اللہ میں نہ ملے عرض کیا کہ سنت رسول ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایاکہ اگرحدیث رسول میں بھی وہ حکم نہ ملے تو،انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنے رائے سے اجتہادکروں گا،یہ سن کر آپ ﷺ نے پسندفرمایا اورکہاکہ خداکاشکرہے کہ اس نے اپنے رسول کے قاصد کواس بات کی توفیق دی جس کو وہ پسند کرتاہے اورجس سے وہ راضی ہے ،اس حدیث سے صاف معلوم ہوگیا کہ جب کسی مسئلہ میں صریح آیت اور صریح حدیث نہ ہوتو اس وقت قیاس شرعی سے اس مسئلہ کاحکم معلوم کیاجائے گا۔
اگرقیاس کتاب وسنت کے بعدحجت نہ ہوتا اورقابل عمل نہ ہوتا تورسول اللہ ﷺ اس کورد فرمادیتے اورجب کہ انہوں نے اللہ کا شکر اداکیا تواس سے معلوم ہوا قیاس حجت اور عمل کے قابل ہے جب نص موجودنہ ہو،اوراجماع کا ذکر حضرت معاذؓ نے اس وجہ سے نہیں کیا کہ سرورکائنات ﷺ کے عہدمبارک میں اجماع حجت نہ تھا،بلکہ آپ کی وفات کے بعد حجت مقررہواہے ۔
حدیث نمبر(۲):
حجیت قیاس پر دوسری حدیث جو ابن عباسؓ سے صحاح ستہ میں روایت کی گئی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عورت قبیلہ بنی خثعم سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئی اورعرض کیا کہ میراباپ بہت بوڑھاہے اوراس پر حج فرض ہے ،اونٹ پر بیٹھنے کی اس میں طاقت نہیں ہے کیایہ کافی ہے کہ میں اس کی طرف سے حج کروں؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ بتاؤکہ اگرتیرے باپ کے ذمہ قرض ہوتا تو تواس کو اداکرتی وہ کافی ہوتا ،اس نے عرض کیا کہ بلاشبہ اداکرتی اوروہ کافی ہوتا ،آپ ﷺ نے فرمایاکہ پس اللہ کے دین یعنی حج کو اس کی طرف سے اداکرنا زیادہ ضروری اور بہتر ہے،حضورﷺنے حج کو شیخ فانیہ کے حق میں حقوق مالیہ کے ساتھ ملادیا اورعلت مؤثرہ کی طرف اشارہ فرمایا جس سے جوازثابت ہوا اوروہ علت مؤثرہ قضاء ہے اور اسی کانام قیاس ہے ۔
اورکہاکہ خداکاشکرہے کہ اس نے اپنے رسول کے قاصد کواس بات کی توفیق دی جس کو وہ پسند کرتاہے اورجس سے وہ راضی ہے ،اس حدیث سے صاف معلوم ہوگیا کہ جب کسی مسئلہ میں صریح آیت اور صریح حدیث نہ ہوتو اس وقت قیاس شرعی سے اس مسئلہ کاحکم معلوم کیاجائے گا۔
اگرقیاس کتاب وسنت کے بعدحجت نہ ہوتا اورقابل عمل نہ ہوتا تورسول اللہ ﷺ اس کورد فرمادیتے اورجب کہ انہوں نے اللہ کا شکر اداکیا تواس سے معلوم ہوا قیاس حجت اور عمل کے قابل ہے جب نص موجودنہ ہو،اوراجماع کا ذکر حضرت معاذؓ نے اس وجہ سے نہیں کیا کہ سرورکائنات ﷺ کے عہدمبارک میں اجماع حجت نہ تھا،بلکہ آپ کی وفات کے بعد حجت مقررہواہے ۔
حدیث نمبر(۲):
حجیت قیاس پر دوسری حدیث جو ابن عباسؓ سے صحاح ستہ میں روایت کی گئی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عورت قبیلہ بنی خثعم سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئی اورعرض کیا کہ میراباپ بہت بوڑھاہے اوراس پر حج فرض ہے ،اونٹ پر بیٹھنے کی اس میں طاقت نہیں ہے کیایہ کافی ہے کہ میں اس کی طرف سے حج کروں؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ بتاؤکہ اگرتیرے باپ کے ذمہ قرض ہوتا تو تواس کو اداکرتی وہ کافی ہوتا ،اس نے عرض کیا کہ بلاشبہ اداکرتی اوروہ کافی ہوتا ،آپ ﷺ نے فرمایاکہ پس اللہ کے دین یعنی حج کو اس کی طرف سے اداکرنا زیادہ ضروری اور بہتر ہے،حضورﷺنے حج کو شیخ فانیہ کے حق میں حقوق مالیہ کے ساتھ ملادیا اورعلت مؤثرہ کی طرف اشارہ فرمایا جس سے جوازثابت ہوا اوروہ علت مؤثرہ قضاء ہے اور اسی کانام قیاس ہے ۔
حدیث نمبر (۳):
ایک شخص سرورکائنات ﷺ کے پاس جو بدوی معلوم ہوتاتھا عرض کیا یانبی اللہ اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں کہ ایک اگرکسی شخص نے وضو کرنے کے بعد اپنے عضوتناسل کو ہاتھ لگالیا توکیا اس کا وضوٹوٹ جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ نہیں ہے مگرایک ٹکڑا گوشت کا ، اوریہ بھی قیاس ہے ،آپ ﷺ نے اس عضوکودوسرے اعضاء پر قیاس فرمایا کہ جیسے اور اعضاء کو ہاتھ لگانے سے وضونہیں ٹوٹتا اسی طرح عضو خاص کو ہاتھ لگانے سے بھی وضونہیں ٹوٹتا۔
حجیت قیاس آثار صحابہ کی روشنی میں :
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہرمتعین نہیں کیا اورخلوت سے پہلے خاوند مرگیا توکیااس صورت میں پورامہرلازم ہوگا یاآدھامہر لازم ہوگا؟توحضرت ابن مسعودؓ نے ایک مہینے تک کچھ جواب نہ دیا پھر فرمایاکہ میں اس مسئلہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اگرصواب اور درست ہواتومنجانب اللہ ہے اور اگرخطا ہو اتوابن مسعود کی طرف سے ہے ،پھرفرمایاکہ اس کو مہرمثل ملے گا کمی اور نقصان نہ ہوگا ،اس عورت پروفات کی عدت لازم ہے اور اس عورت کے لیے میراث بھی ہے ،جب انہوں نے اپنے اجتہادکوظاہر کیا تو صحابہ کرام کا ہجوم تھاکسی صحابی نے بھی ان کی رائے سے اختلاف نہیں کیا ۔
حجیت قیاس پر واردہونے والے اعتراضات اوران کے جواب:
اعتراض نمبر(۱):
قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد گرامی ہے ’’نزلنا علیک الکتاب تبیانالکل شئ ‘‘ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی جس میں ہر چیز کا بیان ہے ،اور دوسری جگہ قرآن کریم میں ہے ’’ولارطب ولا یابس الافی کتاب مبین‘‘یعنی رطب ویابس ہر چیز کتاب اللہ میں موجودہے ،جب ہر چیز کتاب اللہ میں موجودہے تو قیاس کی کیاضرورت ہے ؟
جواب : اس کاجواب یہ ہے کہ قیاس سے مستقل طور پر قرآن کریم سے الگ کوئی حکم ثابت نہیں کیاجاتا ،بلکہ قرآن پاک میں جو احکام مذکور ہیں قیاس ان کو ظاہر کرتاہے یعنی قیاس مثبت احکام نہیں ہوتا بلکہ مظہر احکام ہوتاہے ،اور جب ایساہے توقرآن پاک میں ہر چیز موجودہونے کے باوجود قیاس کی ضرورت ہے ، اور قیاس قرآن کے منافی نہیں ہے ۔
اعتراض نمبر(۲):اگرقیاس کتاب وسنت کے بعدحجت نہ ہوتا اورقابل عمل نہ ہوتا تورسول اللہ ﷺ اس کورد فرمادیتے اورجب کہ انہوں نے اللہ کا شکر اداکیا تواس سے معلوم ہوا قیاس حجت اور عمل کے قابل ہے جب نص موجودنہ ہو،اوراجماع کا ذکر حضرت معاذؓ نے اس وجہ سے نہیں کیا کہ سرورکائنات ﷺ کے عہدمبارک میں اجماع حجت نہ تھا،بلکہ آپ کی وفات کے بعد حجت مقررہواہے ۔
حدیث نمبر(۲):
حجیت قیاس پر دوسری حدیث جو ابن عباسؓ سے صحاح ستہ میں روایت کی گئی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عورت قبیلہ بنی خثعم سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئی اورعرض کیا کہ میراباپ بہت بوڑھاہے اوراس پر حج فرض ہے ،اونٹ پر بیٹھنے کی اس میں طاقت نہیں ہے کیایہ کافی ہے کہ میں اس کی طرف سے حج کروں؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ بتاؤکہ اگرتیرے باپ کے ذمہ قرض ہوتا تو تواس کو اداکرتی وہ کافی ہوتا ،اس نے عرض کیا کہ بلاشبہ اداکرتی اوروہ کافی ہوتا ،آپ ﷺ نے فرمایاکہ پس اللہ کے دین یعنی حج کو اس کی طرف سے اداکرنا زیادہ ضروری اور بہتر ہے،حضورﷺنے حج کو شیخ فانیہ کے حق میں حقوق مالیہ کے ساتھ ملادیا اورعلت مؤثرہ کی طرف اشارہ فرمایا جس سے جوازثابت ہوا اوروہ علت مؤثرہ قضاء ہے اور اسی کانام قیاس ہے ۔
حدیث نمبر (۳):
ایک شخص سرورکائنات ﷺ کے پاس جو بدوی معلوم ہوتاتھا عرض کیا یانبی اللہ اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں کہ ایک اگرکسی شخص نے وضو کرنے کے بعد اپنے عضوتناسل کو ہاتھ لگالیا توکیا اس کا وضوٹوٹ جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ نہیں ہے مگرایک ٹکڑا گوشت کا ، اوریہ بھی قیاس ہے ،آپ ﷺ نے اس عضوکودوسرے اعضاء پر قیاس فرمایا کہ جیسے اور اعضاء کو ہاتھ لگانے سے وضونہیں ٹوٹتا اسی طرح عضو خاص کو ہاتھ لگانے سے بھی وضونہیں ٹوٹتا۔
حجیت قیاس آثار صحابہ کی روشنی میں :
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہرمتعین نہیں کیا اورخلوت سے پہلے خاوند مرگیا توکیااس صورت میں پورامہرلازم ہوگا یاآدھامہر لازم ہوگا؟توحضرت ابن مسعودؓ نے ایک مہینے تک کچھ جواب نہ دیا پھر فرمایاکہ میں اس مسئلہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اگرصواب اور درست ہواتومنجانب اللہ ہے اور اگرخطا ہو اتوابن مسعود کی طرف سے ہے ،پھرفرمایاکہ اس کو مہرمثل ملے گا کمی اور نقصان نہ ہوگا ،اس عورت پروفات کی عدت لازم ہے اور اس عورت کے لیے میراث بھی ہے ،جب انہوں نے اپنے اجتہادکوظاہر کیا تو صحابہ کرام کا ہجوم تھاکسی صحابی نے بھی ان کی رائے سے اختلاف نہیں کیا ۔
حجیت قیاس پر واردہونے والے اعتراضات اوران کے جواب:
اعتراض نمبر(۱):
قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد گرامی ہے ’’نزلنا علیک الکتاب تبیانالکل شئ ‘‘ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی جس میں ہر چیز کا بیان ہے ،اور دوسری جگہ قرآن کریم میں ہے ’’ولارطب ولا یابس الافی کتاب مبین‘‘یعنی رطب ویابس ہر چیز کتاب اللہ میں موجودہے ،جب ہر چیز کتاب اللہ میں موجودہے تو قیاس کی کیاضرورت ہے ؟
جواب : اس کاجواب یہ ہے کہ قیاس سے مستقل طور پر قرآن کریم سے الگ کوئی حکم ثابت نہیں کیاجاتا ،بلکہ قرآن پاک میں جو احکام مذکور ہیں قیاس ان کو ظاہر کرتاہے یعنی قیاس مثبت احکام نہیں ہوتا بلکہ مظہر احکام ہوتاہے ،اور جب ایساہے توقرآن پاک میں ہر چیز موجودہونے کے باوجود قیاس کی ضرورت ہے ، اور قیاس قرآن کے منافی نہیں ہے ۔
سرورکائنات ﷺ کی حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک زمانہ تک راہ راست پر رہے یہاں تک کہ فتوحات کی وجہ سے جب ان کے قیدیوں کی نسل بڑھی توانہوں نے موجودہ احکام پر غیر موجودہ احکام کو قیاس کرنا شروع کردیا جس سے وہ خود توگمراہ ہوئے ہی دوسروں کوبھی گمراہ کردیا ،قیاس کرنے پر آپ ﷺ کا بنی اسرائیل کی مذمت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ قیاس حجت شرعیہ نہیں ہے ۔
جواب : اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا قیاس سرکشی اور عناد کے طورپر تھا اس لیے ان کی مذمت کی گئی ، اورہماراقیاس احکام شرعیہ کے اظہار کے لیے ہے لہذا ہمارا قیاس مذموم نہ ہوگا ۔
اعتراض نمبر(۳):
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ قیاس کی بنیاد چونکہ عقل پر ہوتی ہے اس لیے اس کی اصل ہی میں شبہ ہے کیونکہ یقینی طورپر کوئی نہیں بتاسکتا کہ اس حکم کی علت وہی ہے جس کو ہم نے قیاس سے نکالاہے پس جب قیاس کی اصل میں شبہ ہے توقیاس حجت شرعی کیسے ہوسکتاہے؟جواب : اس کا جواب یہ ہے کہ علت میں شبہ کا ہونا اگرچہ علم ویقین کے منافی ہے لیکن عمل کے منافی نہیں ہے اورایساہوسکتاہے کہ عمل واجب ہو اور علم یقینی حاصل نہ ہو۔
فقہ کی غرض وغایت :
’’الفوزبسعادۃ الدارین ‘‘
فقہ کی غرض دنیاوآخرت دونوں جہانوں کی کامیابی ہے ،وہ اس طرح کہ انسان علم فقہ حاصل کرکے جہالت کے اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آجاتاہے ، اورلوگوں کے جھگڑوں کوختم کرنے کے لیے ان کے لیے نفع مند اورنقصان دہ چیزوں کوبیان کرتاہے ،اورآخرت کی کامیابی وہ آخرت کی نعمتیں ہیں ۔
تفقہ فی الدین کی حیثیت :
فقہ حاصل کرنے کی شرعی کیاحیثیت سمجھنے سے پہلے ایک فائدہ سمجھ لیناچاہیئے ، وہ یہ ہے کہ علم سیکھنے کی چھ قسمیں ہیں ۔
(۱) فرض عین ،علم کی پہلی قسم جس کاسیکھنافرض عین ہے یعنی اتناعلم سیکھنا ہر آدمی پر ضروری ہے جس کا وہ اپنی زندگی میں زندگی گزارنے کے لیے محتاج ہے، جیسے فرض نماز،روزہ ،حج،زکوٰۃ اوردیگرفرائض کا علم ،اسی طرح آدمی جس شعبہ میں بھی ہے تواس شعبہ میں زندگی گزارنے کے لیے جودینی احکام ہیں ان کاسیکھنا فرض عین ہے ۔
(۲) فرض کفایہ:علم کی دوسری قسم فرض کفایہ ہے یعنی اتناعلم سیکھنا جوفرض عین سے زیادہ ہوتاکہ اس سے دوسرے لوگ بھی مستفیدہوسکیں ۔
(۳) مندوب ،علم کی تیسری قسم مندوب ہے جیسے فقہ میں تبحر(مہارت)حاصل کرنا ،یعنی ہرحکم کی گہرائی اوراس میں پوشیدہ حکمتوں تک پہنچنا ،اورعلم قلب کا حاصل کرنابھی مندوب ہے ،علم قلب سے مرادہے فضائل کاعلم اوران کو حاصل کرنے کاطریقہ ،رذائل کا علم اوران سے بچنے کاطریقہ وغیرہ۔
(۴) حرام،علم کی چوتھی قسم جس کاسیکھناحرام ہے ،وہ ہے علم فلسفہ اورشعبدہ بازی کاعلم ،ستاروں کاعلم ،علم رمل ، اورجسم کے احوال کاعلم جب کہ وہ فلسفیوں کے طریقہ پر ہو اسی طرح جادو،کہانت،قدیم منطق ،علم کیمیااورعلم موسیقی ان سب کا سیکھنا حرام ہے ۔
(۵) مکروہ،علم کی پانچویں قسم جس کا حاصل کرنا مکروہ ہے ،جیسے نئے شعراء کی غزلیں اور اشعارکاعلم ۔
(۶) مباح،علم کی چھٹی قسم جس کا سیکھنا مباح ہے ،جیسے ان اشعارکاسیکھنا جن میں مسلمانوں کی تذلیل نہ ہو ، اسی طرح حمدونعت اورنظمیں ۔
علم کی ان تمام اقسام کی تفصیل کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تفقہ فی الدین کا درجہ فرض کفایہ کا ہے ، یعنی اتناعلم حاصل کرنا جس سے آدمی دوسرے لوگوں کوبھی فائدہ پہنچائے اوردوسرے لوگ بھی اس سے مستفیدہوں فرض کفایہ ہے ،اورقرآن پاک کی آیت سے بھی یہی معلوم ہوتاہے ’’فلولانفرمن کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدیں ولینذروا قومہم اذارجعوا الیہم ‘‘ہرجماعت سے ایک گروہ پیچھے کیوں نہیں رہ جاتاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اوروہ اپنی قوم کوڈرائیں جب وہ ان کے پاس لوٹ کرآئیں۔
علم فقہ کی اورفقہاء کی فضیلت :
علم فقہ کی فضیلت قرآن کریم اوراحادیث مبارکہ میں بہت سے مقامات پر اللہ رب العزت نے اور آپعلیہ السلام نے بیان فرمائی ہے ،قرآن پاک کے اندر اس علم فقہ کو حکمت سے تعبیرکیاگیاہے اوراسی کے بارے میں فرمان باری تعالیٰ ہے’’ومن یوت الحکمۃ فقداوتی خیراکثیرا‘‘جس شخص کو حکمت عطاکردی گئی گویا اس کوخیرکثیر عطاکردی گئی،اورکہیں فرمایا ’’ہل یستوی اللذین یعلمون واللذین لایعلمون‘‘اہل علم اور غیراہل علم برابرنہیں ہوسکتے ،ایک جگہ ارشادربانی ہے ’’یایہاالذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعواالرسول واولی الامرمنکم‘‘ اے ایمان والو! اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرواوراولی الامرکی اطاعت کرو ،مفسرین کے ایک طبقہ کے نزدیک اولی الامر سے مراد فقہاء ہیں ،اسی طرح ایک جگہ ارشادہے ’’ولوردوہ الی الرسول والی اولی الامرمنہم لعلمہ اللذین یستنبطونہ منہم‘‘ اوراگروہ اس بات کو رسول اور اولی الامر کی طرف لوٹاتے توان میں سے استنباط کرنے والے لوگ جان لیتے ،اسی طرح ایک جگہ فرمایا ’’فلولانفرمن کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ‘‘کیوں نہیں پیچھے رہ جاتی ہرفرقہ سے ایک جماعت تاکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں ۔
یہ چندنمونے تھے ان آیات قرآنیہ کے جن میں فقہ اورفقہاء کی فضیلت کوبیان کیاگیاہے ورنہ فضیلت فقہ کے لیے یہی بات کافی ہے کہ قرآن پاک ایک جامع اورمکمل ترین نصاب ہے ،پیدائش سے لے کر وفات کے بعد تک زندگی کے ہرشعبہ کے بارے میں اس نے انسان کی خوب رہنمائی کی ہے ،بعض شعبہ جات ایسے جن کے بارے میں قرآن پاک کی صرف ایک آیت نازل ہوئی اوروہ ایک آیت ہی ایسی جامع تھی کہ اس سے اس شعبہ کے مکمل مسائل اورقواعداخذکرلیے گئے ،اوروہ آیت اس شعبہ کے تمام مضامین کے لیے کفایت کرتی ہے ،کسی موضوع پر قرآن پاک کی دس آیات ہیں اور کسی موضوع پر قرآن پاک کی بیس آیات ہیں ،لیکن وہ آیات جن کا تعلق فقہی احکام سے ہے ان کی تعدادایک دو یاپانچ دس اوربیس نہیں بلکہ ان کی تعدادپانچ سوہے ،اس سے اس موضوع کی فضیلت کااندازہ لگایاجاسکتاہے ۔
No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g