Monday, April 23, 2018

فقہ کی فضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں

فقہ کی فضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں
(۱) ’’
من یرداللہ بہ خیرایفقہہ فی الدین ‘‘ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اس کو دین کی سمجھ بوجھ عطافرمادیتے ہیں ۔
(۲) ’’

فقیہ واحداشدعلی الشیطان من الف عابد‘‘ایک فقیہ شیطان پر ہزارعابدوں سے زیادہ بھاری ہے ۔
(۳) ’’

نعم الرجل الفقیہ فی الدین ان احتیج الیہ نفع وان استغنی عنہ اغنی نفسہ ‘‘دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والا کتنا اچھاآدمی ہے اگرکسی کو اس کی طرف حاجت ہوتی ہے تو وہ اس کو نفع پہنچاتاہے اگرکوئی اس سے لاپروا ہوجاتاہے تووہ اپنے آپ کو غنی رکھتاہے ۔
(۴)

آپ علیہ الصلوۃ والسلام علم فقہ حاصل کرنے والوں کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ان الناس لکم تبع وان رجالایاتونکم من اقطارالارض یتفقہون فی الدین فاذااتوکم فاستوصوابہم خیرا‘‘ بے شک لوگ تمہارے تابع ہیں اورلوگ تمہارے پاس زمین کے کناروں سے فقہ حاصل کرنے کے لیے آئیں گے جب وہ تمہارے پاس آجائیں تو ان کے بارے میں خیرکی وصیت کو قبول کرو ۔
(۵)

آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے چچازادبیٹے کے لیے دعاکرتے ہوئے فرمایا’’اللہم فقہہ فی الدین‘‘اے اللہ !اس کو دین کی سمجھ بوجھ عطافرما۔
ان کے علاوہ اوربھی بہت ساری احادیث فقہ کی فضیلت پرموجودہیں اختصارکے پیش نظر انہی احادیث مبارکہ پر اکتفاء کیاجاتاہے ۔
فائدہ :
فضلیت فقہ میں ایک بات کی طرف توجہ دیناضروری ہے ،کہ قرآن وحدیث کی صحیح سمجھ انسان کو اسی وقت ہی آسکتی ہے جب کہ اس کو علم فقہ میں بصیرت ومہارت ہو ،یایہ بھی کہاجاسکتاہے کہ فقہ قرآن وحدیث کے معانی کو سمجھنے کا ہی دوسرانام ہے ، یہی وجہ ہے کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ تہذیب التہذیب میں فرماتے ہیں الفقہ فی الحدیث نصف العلم ‘‘ حدیث کے معانی میں غوروفکراورتدبرکرنااس موضوع کا نصف علم ہے ،اورامام ترمذی رحمہ اللہ علیہ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’کذلک قال الفقہاء وہم اعلم بمعانی الحدیث ‘‘امام ترمذی رحمہ اللہ ایک حدیث نقل کرکے اس کے معانی کی وضاحت کرتے ہیں اورفرماتے ہیں کہ لفظوں سے تواس کا یہ مطلب سمجھ میں آتاہے لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب اورصحیح محمل یہ ہے اوروہ فقہاء ہی حدیث کے معانی کوبہترجانتے ہیں ، اسی لیے تو۔۔۔۔۔۔محدث فرماتے ہیں ’’یامعشرالفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ‘‘اے فقہاء کی جماعت تمہاری مثال تو طبیبوں کی سی ہے اور ہماری مثال پنساری کی سی ہے ، یعنی جس طرح پنساری کے پاس ادویات سب ہوتی ہیں جب بھی کوئی آدمی اس سے طلب کرے گا اوراس دوائی کانام لے گا تووہ اس کو اسی نام کی دوائی دے دے گا، لیکن اگرکوئی پنساری کے پاس جائے کہ مجھے فلاں مرض ہے اس کی دوائی دے دو تووہ کہے گاکہ طبیب کے پاس جاؤ وہ تشخیص کرے گا کہ آپ کو کونسامرض ہے اور آپ کے لیے کونسی دوائی مؤثرہے تب میں دوائی دوں گا ، اورطبیب مرض بھی پہچانے گا اور دوائی بھی دے گا ،اسی طرح محدثین کے پاس احادیث توبہت ساری موجود ہیں لیکن اگران سے دریافت کریں گے کہ اس حدیث کا صحیح مطلب اور محمل بتادو تووہ کہیں کہ بھئی احادیث تو ہمارے پاس ہیں لیکن ان کاصحیح مطلب اور مفہوم کیاہے یہ فقہاء ہی بتائیں گے ۔

صاحب خلاصۃ الفتاویٰ نے فقہ کی فضیلت کوبیان کرتے ہوئے فرمایاہے کہ ہمارے اصحاب یعنی فقہاء کی کتب کا مطالعہ کرنا اور ان کاپڑھنا قیام لیل سے بہترہے (یعنی ایک آدمی رات کو فقہی کتابوں کا مطالعہ کرے اور دوسراآدمی نوافل وغیرہ پڑھے ) یعنی نوافل وغیرہ سے بہترہے ورنہ رات کے وقت فقہاء کی کتب کا مطالعہ وہ قیام لیل ہی میں شامل ہے،اوریہ بھی لکھاہے کہ فقہ کوسیکھناقرآن پاک سیکھنے سے افضل ہے ،اس دوسری بات کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی نے کچھ وقت میں قرآن پاک سیکھاہے بعض قرآن اس نے سیکھ لیااور س کے پاس وقت فارغ ہے تواب اس کے لیے فقہ کا سیکھنا باقی قرآن سیکھنے سے افضل ہے،کیونکہ قرآن پاک کو حفظ کرنا فرض کفایہ ہے اوروہ مسائل فقہ جو ضروری ہیں وہ فرض عین ہیں اورفرض عین کادرجہ فرض کفایہ سے زیادہ ہے ،اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک ہی آدمی پر پوری فقہ کاحاصل کرنافرض عین ہے بلکہ ہر آدمی پر وہ جس حال میں اور جس شعبہ میں ہے تواس کے لیے اس حالت اور اس شعبہ کے تمام مسائل کایادکرناضروری ہے ،مثلاً نماز کے لیے نماز کے تمام مسائل اورروزے کے لیے روزے کے تمام مسائل ،حج کے لیے حج کے تمام مسائل ،کاروباری آدمی کے لیے بیع وشراء کے تمام مسائل کاسیکھنا فرض عین ہے ، علی ہذا القیاس ،توایک ایک وقت اورایک ایک شعبہ جن کے مسائل کا سیکھنا فرض عین ہے اگران سب کو اکٹھاکیاجائے توثابت ہوتاہے کہ پوری فقہ کا سیکھنا فرض عین ،اگرچہ الگ الگ حالات اور الگ الگ شعبہ جات کوملاکرہی،لیکن اگرقرآن پاک کو مکمل اسی طرح الگ الگ حالات اور الگ الگ شعبہ جات پرتقسیم کریں توپورے قرآن کا سیکھنا پھر بھی فرض کفایہ ہی رہتاہے ،یعنی پورے قرآن کاسیکھنافرض عین نہیں ہوتا ۔
فقہ کی فضیلت میں امام محمدرحمہ اللہ کا فرماتے ہیں کہ آدمی کے لئے یہ بات لائق نہیں کہ وہ شعروں کے ساتھ مشہورہو یعنی وہ شاعرہواورشعراس کی پہچان ہو ،کیونکہ اس کام کی انتہاء لوگوں سے سوال کرناہے ،یعنی وہ لوگوں کی مدحکرے گااورلوگوں سے پیسے وصول کرے اور وہ لوگ اس ڈرسے کہ اگر اس کو پیسے نہ دیے تو یہ شاعرہے کہیں ہماری ہجونہ بیان کردے ،اورآدمی کے لیے یہ بھی مناسب نہیں کہ وہ نحو میں مشہورہو کیونکہ اس کی انتہاء بچوں کو تعلیم دینا ہے ، اورنہ آدمی کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ علم حساب میں مشہورہوکیونکہ اس کی انتہاء زمینوں کی پیمائش ہے ،اورنہ آدمی کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ علم تفسیرمیں مشہورہو کیونکہ اس کی انتہاء وعظ ونصیحت اورواقعات کو بیان کرنا ہے ،بلکہ آدمی کوچاہیئے کہ وہ ایسے علم میں مشہورہوجس میں حلال وحرام اورضروری احکام کا پتہ چل سکے اوروہ علم علم فقہ ہے ،پیچھے جو کچھ گزرایہ فقہ کی فضیلت نثرمیں تھی شاعربھی پیچھے نہ رہے انہوں نے بھی اپنے اشعارمیں فقہ کی فضیلت کو اجاگرکیاہے۔
اذا مااعتزذوعلم بعلم
فعلم الفقہ اولی باعتزاز 
فکم طیب یفوح ولاکمسک
وکم طیریطیرولاکبازی 
جب کوئی علم والا کسی علم کی وجہ سے عزت حاصل کرے تو علم عزت حاصل کرنے کے زیادہ لائق ہے ،کتنی ہی خوشبوئیں ہیں جوخوشبودیتی ہیں لیکن وہ مسک کی طرح تونہیں ہیں اورکتنے ہی پرندے ہیں جو ہوامیں اڑتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بازکی مثل نہیں ہے ۔
وخیرعلوم علم فقہ
لانہ یکون الی کل العلوم توسلا 
فان فقیہاواحدامتورعا
علی الف ذی زہد تفضل واعتلی
علوم میں سے بہترین علم وہ علم فقہ ہے کیونکہ یہ باقی تمام علوم کاذریعہ بنتاہے،کیونکہ ایک متقی فقیہ ہزارعابدوں پر فضیلت رکھتاہے اورمرتبہ میں ان سے بلندہے ۔
تفقہ فان الفقہ افضل قائد 
الی البروالتقوی واعدل قاصد 
وکن مستفیداکل یوم زیادۃ 
من الفقہ واسبح فی بحورالفوائد 
فان فقیہا واحدامتورعا 
اشدعلی الشیطان من الف عابد
فقہ ضرورحاصل کروکیونکہ فقہ نیکی اورتقوی کی طرف بہترین راہنمائی کرنے والی ہے ۔۔۔۔۔۔اورہردن توفقہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے والابن جا اورتوغوطہ خوری کر فوائد کے سمندروں میں ،کیونکہ ایک متقی فقیہ شیطان پر ہزارعابدوں سے زیادہ بھاری ہے ۔
یہی ہیں جن کے سونے کوفضیلت ہے عبادت پر یہی ہیں جن کے ارتقاء پرنازکرتی ہے مسلمانی 
فضیلت فقہاء :
فقہ کی مذکورہ عظمت سے فقہاء کی عظمت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے،لیکن اس بارے میں چندباتوں کا ذکرمناسب معلوم ہوتاہے۔(۱) فقہاء کرام رحمہم اللہ نے لکھاہے انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی انسان بھی یہ نہیں جانتاکہ اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں کیاارادہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ایک غیب کی چیز ہے ،البتہ فقہاء کرام جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کاان کے بارے میں بھلائی کاارادہ ہے کیونکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی صحیح حدیث مبارکہ میں یہ بات آئی ہے ’’من یرداللہ بہ خیرایفقہہ فی الدین ‘‘ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کاارادہ کرتے ہیں اس کو دین کی سمجھ بوجھ عطافرمادیتے ہیں تومعلوم ہوگیا کہ فقہاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ کاارادہ بھلائی کا ہے ۔
(۲) فقہاء کرام نے لکھاہے کہ قیامت کے دن انسان سے ہرچیزکے بارے میں سوال ہوگا سوائے اس علم نافع کے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ بناہو ،وجہ اس کی یہ ہے کہ خوداللہ رب العزت نے اپنے نبی کو اس علم میں زیادتی طلب کرنے کا حکم دیا اورفرمایا ’’وقل رب زدنی علما ‘‘ اے نبی آپ کہہ دوکہ اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما،جب خوداللہ تعالیٰ اس بات کاحکم دے رہے ہیں تواس کے بارے میں قیامت میں سوال کس طرح ہوگا ؟
(۳) اہل علم کے لیے علم ایک ایسی دولت ہے کہ جس سے معزول ہونا اور ریٹائرڈہونا نہیں ہے ،یعنی اہل علم کبھی بھی اپنے اس عہدے سے معزول نہیں ہوتے بلکہ ان کا یہ اعزازہمیشہ رہتاہے ،جب بادشاہ کسی امیرکومعزول کرتاہے تو اس کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے اب یہ امارت توحقیقت میں امارت نہ ہوئی بلکہ یہ امارت توایک عارضی ہے ،اورحقیقت کے اعتبارسے امیر وہ ہے کہ اگراس کو اس کے عہدے سے ہٹابھی دیاجائے تووہ تب بھی امیرہو،فقیہ اورعالم کی امارت ایسی ہے اگربادشاہ اس کو کسی ظاہری عہدے سے معزول بھی کردے تو اس کی اپنی امارت باقی رہتی ہے اوروہ اپنے فضل اورمرتبے میں ہوتا ہے ۔
تدوین فقہ قدم بقدم :
اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہبری ورہنمائی کے لیے جس طرح انبیاء علیہم السلام کوبھیجا اسی طرح ان کے ساتھ ایک قانون اورکتاب بھی بھیجی ،یامختلف صحیفے اتارے ،امت محمدیہ کو قرآن پاک جیسی عظیم الشان کتاب عطاکی گئی ، اوراس کے ساتھ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقوال وافعال کوحجت اورمشعل راہ قراردیاگیا ،جیساکہ حجیت حدیث کی بحث میں تفصیل گزرچکی،چنانچہ فرمایا ’’وماینطق عن الہوی ان ہوالاوحی یوحی‘‘وہ نبی اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ ایک وحی ہے جووحی کی جاتی ہے ‘‘تواللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت پر دوقسم کی وحی آئی ہے ایک ہے وحی متلواوردوسری ہے وحی غیرمتلو،یعنی حدیث مبارکہ اورقرآن پاک میں قرآن پاک کے بارے میں ہی ارشادربانی ہے’’تبیانالکل شء‘‘کہ یہ قرآن ہرچیز کی وضاحت کرنے والا ہے اور ہرچیزکوکھول کربیان کرنے والا ہے ،توجس طرح قرآن پاک میں ہرچیز کی وضاحت ہے اوریہ ہر چیزکوکھول کربیان کرنے والا ہے اسی طرح قرآن پاک میں ہیمتعددمقامات پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آپ ﷺ اس قرآن کے معانی کے وضاحت کرنے والے ہیں اوراس کے معانی کوبیان کرنے والے ہیں’’لتبین للناس مانزل الیہم‘‘جس سے پتہ چلتاہے کہ قرآن پاک میں اگرچہ ہرچیزکی وضاحت ہے لیکن اس کے باوجودقرآن پاک کے معانی کو سمجھنے کے لیے وضاحت نبویﷺ کی ضرورت ہے ۔
بہرحال قرآن پاک اوراحادیث مبارکہ کے الفاظ میں جامعیت ہے کہ ان کے اندر اس طرح کے اصول بیان کردیے گئے کہ قیامت تک آنے والے انسان ان اصولوں کی روشنی میں چل کرکامیابی کی راہ پرگامزن رہ سکتے ہیں،لیکن ان میں زیادہ تراصول اورکلیات اوربعض مقامات پر جزئیات کے احکام بھی آئے،تودورنبوی میں اگرکوئی ایسامسئلہ پیش آتاجس کاواضح حکم قرآن وسنت میں نہ ہوتا توصحابہ وہ بات آپ ﷺ سے دریافت کرلیتے تھے ،اوراس کا جواب مل جاتاتھا ،آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہوتے ہوئے کسی کو اجتہاد کی ضرورت نہ تھی ،ہاں غیرمنصوص مسائل میں اجتہادکرکے اس کاحکم نکالنے کی ضرورت یاتواس صحابی کومحسوس ہوئی جومدینہ منورہ سے دور کسی دوسری جگہ چلے گئے تھے یاآپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے غیرمنصوص مسائل میں اجتہادکیا۔
لیکن جب اسلام پھیلناشروع ہوا اوردین عرب سے نکل کر عجم اور اطراف عالم میں پھیلناشروع ہوا اورصحابہ کرام معلم بن کر مختلف علاقوں میں گئے تووہاں پر مختلف مسائل پیش آنے لگے توصحابہ کاطریقہ یہی رہاکہ اگروہ حکم قرآن وحدیث میں صراحۃً ہوتا تووہی جواب دے دیاجاتا ،اوراگروہ حکم قرآن وحدیث میں صراحتاً نہ ہوتا توقرآن وحدیث کے اصول کی روشنی میں اجتہادسے اس کاحکم معلوم کرلیاجاتا،حضرت معاذرضی اللہ عنہ کوجب حضورﷺ نے یمن کاقاضی بناکربھیجا توان سے پوچھا تھاکہ اے معاذ!تم کس چیز کے ذریعہ فیصلہ کروگے توحضرت معاذرضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی کتاب سے ،آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا اگراللہ کی کتاب میں وہ حکم نہ ملے توپھر؟حضرت معاذرضی اللہ عنہ نے فرمایا توپھرسنت رسول اللہ ﷺ سے ،آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اگروہ حکم سنت رسول اللہ میں بھی نہ ملے توپھر؟حضرت معاذرضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھرمیں اپنی رائے سے اجتہادکروں گا اورکسی قسم کی کوتاہی نہیں کروں گا،توآپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا ہاتھ حضرت معاذرضی اللہ عنہ کے سینہ پرمارکرفرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے رسول کے قاصدکواس کام کی توفیق دی ہے جس سے اللہ اوراللہ کارسول راضی ہے ،اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوگیا کہ ایسے مسائل بھی ہیں جوصراحتاً قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہیں اوران کے حل کا راستہ اجتہادہے ۔نیزایک اورحدیث مبارکہ ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ نے صحابہ کوحکم دیا کہ بنوقریظہ کامحاصرہ کرنا ہے ،سب لوگ نمازعصربنوقریظہ میں پڑھیں،صحابہ کرام روانہ ہوگئے درمیان میں عصرکاوقت ہوگیا اب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دوگروہ ہوگئے ،بعض صحابہ کرام نے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری ارشاد کی رعایت رکھی اور نماز عصر بنی قریظہ میں جاکرپڑھی ،اوربعض صحابہ کرام کی رائے یہ تھی کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کا مقصد یہ تھاکہ کوشش کروکہ عصرکی نمازوہاں جاکرپڑھو یہ مقصدنہ تھا کہ اگردرمیان میں نمازکاوقت ہوجائے تو نمازمیں دیرکردو،بہرحال بعض صحابہ کرام نے نمازراستہ میں پڑھ لی اوربعض نے بنی قریظہ میں پہنچ کر پڑھی جب آپ ﷺ کواس بات کا علم ہوا توآپ ﷺ نے کسی کوبھی ملامت نہ فرمائی، چونکہ آپ ﷺ کے فرمان کے دونوں مطلب مرادہوسکتے تھے توبعض صحابہ کرام نے اجتہاد سے ایک مطلب سمجھا اوربعض صحابہ کرام نے اجتہاد سے دوسرامطلب سمجھا توصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی آپ ﷺ کی زندگی میں بعض مسائل میں اجتہادکاراستہ اختیارکیا۔
جب اسلامی مملکت کا دائرہ کاروسیع ہوگیا اورافرادزیادہ ہوگئے ،کئی سوچیں اورفکریں جمع ہونے لگیں ، واقعات اورمسائل کی کثرت ہوگئی تو اس چیزکی ضرورت محسوس کی جانے لگی کہ قرآن وحدیث کے اصول اورکلیات میں اجتہاد اوراستنباط کرکے نئی جزئیات اورنئے مسائل کاحل تلاش کیاجائے ،مثلاً اگرکسی نے غلطی سے نماز کے کسی عمل کو چھوڑدیاتواس کی نمازکاکیاحکم ہے؟اب ایساتونہیں ہوسکتاتھاکہ نمازکے تمام مسائل کولازمی قرادیے دیاجاتا،اوریہ بھی نہیں ہوسکتاتھاکہ تمام مسائل کو مستحب قراردے دیاجاتاکہ اگراس رکن کو چھوڑدیاجائے تو کوئی نقصان نہ ہو ،کیونکہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بعض مقامات پر نمازمیں سجدہ سہوکرنابھی ثابت ہے ،اس لیے ضرورت پیش آئی کہ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں غوروفکرتدبروتأمل کرکے تمام احکام کی تفصیل اورتمام ارکان کاحکم معلوم کیاجائے کہ کونساعمل فرض ،اورکونساعمل واجب، اورکونساعمل سنت ،اورکونساعمل مستحب ہے ،کس حکم کے چھوڑنے سے نقصان ہے اور کس کے چھوڑنے سے نقصان نہیں ہے ،اورچونکہ صحابہ کرام تمام اطراف عالم میں معلم اورمبلغ بن کرپھیل چکے تھے اورہرعلاقہ میں مختلف مسائل پیش آئے اس لیے یہ بھی ممکن نہ تھا کہ تمام صحابہ کرام کاطریقہ اجتہاد ایک جیساہوتا، چنانچہ بہت سارے مسائل میں اختلاف بھی واقع ہوا کیونکہ بعض مسائل میں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی مختلف عمل منقول ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجتہادمیں بھی مسائل میں اختلاف واقع ہوا اوریہ اختلاف ’’اختلاف العلماء رحمۃ ‘‘کامصداق ثابت ہوا ،بہرحال جونئے مسائل درپیش ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن وحدیث میں غوروفکرکرکے اجتہادسے ان مسائل کاحل معلوم کیا ،اوران تمام مسائل کویکجاکیاجاتارہا ،یوں دورِصحابہ میں ہی مسائل کا ایک بہت بڑاذخیرہ تیارہوچکاتھا۔

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g