مجتہدوفقہاء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:
صحابہ کرام میں سے جوحضرات اجتہادکیاکرتے تھے یامجتہدتھے اورباقی حضرات مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے گویاباقی صحابہ کرام میں ان کی حیثیت ایک مرجع اورایک مرکزکی تھی ان میں حضرت عمررضی اللہ عنہ،حضرت علی رضی اللہ ،حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ،حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ،حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ ،ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا،حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ،حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ،حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ خاص طورپرقابل ذکر ہیں ،اس کے علاوہ جوصحابی جہاں بھی موجودتھا وہ مرکزہدایت تھا ۔
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دورمیں کوفہ تشریف لے گئے ،اوراس کے بعدکوفہ کو علم کے لحاظ سے ایک مرکزیت حاصل ہوگئی ،اورحضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کسی مسئلہ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کی مخالفت نہ کرتے تھے،جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ کوفہ تشریف لائے اورکوفہ دارالخلافہ بنا توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی محنت کو دیکھ کر فرمایا کہ عبداللہ کے تلامذہ تواس بستی کے چراغ ہیں ،حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ایک عرصہ تک وہاں قرآن وحدیث وفقہ کی تعلیم دیتے رہے ،اوریہی وہ صحابی ہیں جن کے اصول فتاویٰ اورمسائل آگے چل کر فقہ حنفی کی ایک مضبوط بنیادثابت ہوئے ،اوربعدمیں آنے والے حضرات نے ’’اصلہاثابت وفرعہافی السماء‘‘کے عملی نمونہ کو انہی بنیادوپراستوارکیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دورمیں کوفہ تشریف لے گئے ،اوراس کے بعدکوفہ کو علم کے لحاظ سے ایک مرکزیت حاصل ہوگئی ،اورحضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کسی مسئلہ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کی مخالفت نہ کرتے تھے،جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ کوفہ تشریف لائے اورکوفہ دارالخلافہ بنا توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی محنت کو دیکھ کر فرمایا کہ عبداللہ کے تلامذہ تواس بستی کے چراغ ہیں ،حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ایک عرصہ تک وہاں قرآن وحدیث وفقہ کی تعلیم دیتے رہے ،اوریہی وہ صحابی ہیں جن کے اصول فتاویٰ اورمسائل آگے چل کر فقہ حنفی کی ایک مضبوط بنیادثابت ہوئے ،اوربعدمیں آنے والے حضرات نے ’’اصلہاثابت وفرعہافی السماء‘‘کے عملی نمونہ کو انہی بنیادوپراستوارکیا۔

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g