Monday, April 23, 2018

مجتہدوفقہاء تابعین عظام


مجتہدوفقہاء تابعین عظام :
تابعین میں سے جو حضرات مجتہداورفقیہ تھے ان میں حضرت علقمہ بن قیس ،حضرت مسروق بن اجدع ، حضرت سعیدبن المسیب،حضرت سعیدبن جبیر ،حضرت ابراہیم نخعی ،حضرت عبداللہ مکحول الہذلی،علامہ شعبی ،حضرت سالم بن عبداللہ ،قاسم بن محمد،حمادبن سلیمان رحمہم اللہ شامل ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے فتاویٰ کاذخیرہ توبہت تھا لیکن مرتب نہ تھا ،جب کوئی شخص آکرسوال کرتاآپ جواب دیتے شاگرداس کو لکھ لیتے، آپ کے بعدوہ علمی ذخیرہ حضرت علقمہ رضی اللہ کے پاس پہنچا، انہوں نے ان مسائل کی وضاحت اور شرح اس اندازسے کی کہ ان مسائل میں ایک نکھاراورحسن پیداہوگیا ،پھراس کے بعدوہ علمی ذخیرہ حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے پاس آیا توانہوں نے تمام مسائل کو یکجاکرکے اس سے نفع لیناآسان بنادیا ،پھر ان کے جانشین حماد بن سلیمان ہوئے انہوں نے ان مسائل کی خوب تنقیح کی جس طرح غلہ کوبھوسہ سے الگ کرکے صاف کرلیاجاتاہے ۔
حضرت حمادرحمہ اللہ کی وفات کے بعدان کے علمی جانشین سراج الامۃ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہوئے ، اگرچہ اس وقت تک فقہ کے مسائل کافی حدتک مدون ہوچکے تھے لیکن ان کی کوئی ترتیب نہ تھی اوران کی حیثیت ایک فن کی نہ تھی ،اجتہادواستنباط کے مسائل کابھی تقررنہیں ہواتھا ،احادیث کے مراتب بھی مقررنہ ہوئے تھے ،اللہ تعالیٰ نے امام صاحب کوظاہری اورباطنی خوبیوں اورنعمتوں سے مالامال کیاہواتھا ،اعلیٰ درجہ کاحافظہ اوراعلیٰ درجہ کاتقویٰ تھا ،ناسخ منسوخ کاعلم وغیرہ اس کے علاوہ آپ کے مبشرات بہت مشہورہیں جوآپ کی زندگی اورمناقب پر لکھی جانے والی کتابوں میں تفصیل سے دیکھے جاسکتے ہیں ،آپ کی یہ سوچ تھی کہ جب یہ شریعت ہراعتبارسے مکمل ہے اورقیامت کی صبح تک کسی اورشریعت کی ضرورت نہیں ہے تواس کی روشنی میں کام بھی ایساہوناچاہیئے کہ جوقیامت تک پیش آمدہ مسائل کے لیے کافی وافی ہوپھرآپ نے یہ کام صرف خودہی نہیں کیا بلکہ اس وقت کے نامورمحدثین وفقہاء اور اپنے صاحب فن اورباکمال تلامذہ کو اس کام میں ساتھ شامل کیا ،چنانچہ وہ حضرات جوآپ کی اس فقہی مجلس کا حصہ تھے ان میں یحییٰ بن زکریا ،حفص بن غیاث ،قاضی ابویوسف ،دواؤدطائی ،حبان مندل ، امام زفر، قاسم بن معن، اسد بن عمرو، یوسف بن خالد،امام محمدرحمہم اللہ اوردیگر چالیس بڑے بڑے علماء اورصاحب فن اس عظیم کام میں آپ کے شانہ بشانہ تھے ۔
اسی لیے بعض فقہاء نے کہاہے کہ فقہ کو عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے کاشت کیا ،حضرت علقمہ نے اس کو پانی لگایا ،ابراہیم نخعی نے اس کوکاٹا،اورحضرت حمادنے اس کوگاہا امام ابوحنیفہ نے اس کوپیسا امام ابویوسف نے اس کاآٹاگوندھا، امام محمدرحمہ اللہ نے ا س کی روٹی پکائی اورسارے لوگ ان کی پکی ہوئی روٹیاں کھارہے ہیں ،کسی عربی شاعرنے اس بات کویوں بیان کیاہے ۔
الفقہ زرع ابن مسعود وعلقمۃ حصادہ ثم ابراہیم دواس 
نعمان طاحنہ یعقوب عاجنہ محمدخابز والاکل الناس

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g