تدوین فقہ کا طریقہ کار
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے زمانہ کے ماہرین فی الفنون علماء جن کی تعداد تقریباً ایک ہزارتھی ان میں سے چالیس علماء کو منتخب فرمایا جوکہ مختلف علوم وفنون کے ماہر اورتقویٰ کے اعلی مقام پرفائزتھے ،ان میں سے بعض آپ کے شاگردبھی تھے ،آپ کی نظراس بات پرتھی کہ کتاب وسنت اوراقوال صحابہ کے پورے ذخیرہ کو سامنے رکھاجائےاوراس کی روشنی میں مسائل کومدون کیاجائے ،جونیامسئلہ پیش ہوتا تمام ماہرین فنون اس مسئلہ کا ہراعتبارسے جائزہ لیتے،پہلے اس کا صریح حل قرآن پاک میں تلاش کیاجاتا،اگرمل جاتاتوفبہا ورنہ اس کاحل حدیث مبارکہ سے تلاش کیاجاتااوراس کے بعداس مسئلہ کاحل اقوال صحابہ کی روشنی میں تلاش کیاجاتاپھراگرصحابہ کاعمل اس بارے میں مختلف ہوتا تودیکھاجاتاکہ کونساعمل اقرب الی القرآن والسنۃ ہے توجوعمل اقرب الی القرآن والسنۃ ہوتااس کو لے لیاجاتااوراگریہاں سے بھی کوئی صراحت نہ ملتی تواس مسئلہ میں قرآن وسنت کے اصول کی روشنی میں اجتہادکیاجاتا،اورجوذخیرہ امام صاحب کے پاس موجودتھا اس کو بھی سامنے رکھا جاتا اوراجتہادکرنے کے بعدتمام حضرات کے اتفاق سے اس مسئلہ کو لکھاجاتا،اس وقت تک کوئی مسئلہ نہ لکھاجاتاتھا جب تک کہ تمام حضرات کو اکٹھا نہ کرلیاجاتااورتمام حضرات اس میں غوروفکرنہ کرلیتے ،اورکبھی یہ غوروفکراورایک مسئلہ کی نشست ایک ماہ یااس سے بھی زائدعرصہ تک رہتی ،کہ اس مدت میں ایک ہی مسئلہ زیربحث رہتا پھراتفاق کے بعداس مسئلہ کو لکھاجاتا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک دفعہ امام صاحب نے امام ابویوسف رحمہ اللہ کو روکا کہ کسی مسئلہ کو فوراً نہ لکھاکرو،غوروفکرکرتے ہوئے کسی مسئلہ میں کسی دن کوئی رائے ہوتی ہے اوردوسرے دن وہ رائے تبدیل ہوجاتی ہے ، اس لیے مسئلہ جب تک منقح نہ ہوجائے اس وقت تک اس کونہ لکھاجائے ،توجب مسئلہ واضح ہوجاتاسب اس پر اتفاق کرلیتے تواس کے بعد امام ابویوسف کوحکم فرماتے کہ اس مسئلہ کو فلاں باب میں شامل کرلو۔انسانی طاقت ووسعت کے مطابق پوری کوشش رہتی کہ اس کو قرآن وسنت اوراجماع وقیاس کے اصولوں پر لکھاجائے ،لیکن چونکہ انسان میں غلطی کا شائبہ ہے اس لیے امام صاحب نے فرمادیاکہ اگرمیراکوئی قول قرآن وسنت کے مخالف نظرآئے تواس کو چھوڑدو اورقرآن وسنت پر عمل کرو،اورامام صاحب کایہ فرمان بھی تھاکہ جب حدیث حجیت کو پہنچ جائے تووہی میرامذہب ہے کیونکہ جوترتیب مسائل کی تدوین کی ہورہی تھی وہ قرآن وسنت اوراقوال صحابہ کی روشنی میں ہی ہورہی تھی،اوراتنے بڑے علم والے اورمتقی حضرات وہاں پر موجودتھے جنہوں نے پوری امت کے دینی مفاداورآنے والے وقت کی نزاکت کوسامنے رکھتے ہوئے ان مسائل کو مدون کیاتویہ کیسے ہوسکتاہے کہ وہ کوئی مسئلہ قرآن وسنت اوراقوال صحابہ کے خلاف لکھتے ۔
نیز امام صاحب نے تدوین فقہ میں مسئلہ کی بنیاد دلائل کی مضبوطی پر رکھی ،اسی لیے آپ نے اپنے اصحاب کوفرمایاتھا کہ جب کوئی دلیل تم کو مل جائے تو تم وہی قول اختیارکرلو ،َ
یہی وجہ ہے کہ آپ کے تلامذہ نے اگرکسی جگہ پرکسی مسئلہ میں دلائل کی مضبوطی دوسری جانب دیکھی تواس دلیل کوسامنے رکھ کرانہوں نے اصحاب مذہب کے مخالف قول کردیا ،اس لیے بہت سارے مسائل ایسے ہیں جن میں بعدوالےحضرات کا اختلاف رہا ،خودامام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کاحال یہ تھا کہ اگرکسی متفقہ مسئلہ کے خلاف بعدمیں کوئی دوسری رائے قرآن وسنت کے زیادہ قریب معلوم ہوتی تواس پہلے مسئلہ کو چھوڑکر آپ دلائل کی قوت کی بناء پر دوسری رائے اختیارکرلیتے تھے، یہی وجہ ہے کہ بہت سارے مسائل میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا رجوع بھی ثابت ہے ،معلوم ہوگیا کہ آپ کی جو فقہی رائے ہوتی تھی وہ قرآن وسنت کی روشنی میں دلائل کی بنیادپرہوتی تھی ،وہ رائے ایسی نہیں ہوتی تھی کہ قرآن وسنت کوچھوڑکراس کے خلاف کوئی رائے قائم کرلی جائے ۔
بلکہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ توایسی رائے کی شدیدمذمت کیاکرتے تھے جوقرآن وسنت کے خلاف ہو ، اورآپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جب تک کسی بات کاثبوت قرآن وسنت سے نہ مل جائے اس وقت تک اس کو زبان پرلانابھی گناہ ہے ،اوریہ بات بھی واضح رہے کہ آپ کی مجلس علمی کااجتہاد غیرمنصوص وغیرصریح مسائل میں ہوتاتھا یعنی وہ مسائل جوصراحتاً قرآن وسنت اور اقوال صحابہ میں نہ ملتے تھے ان میں بحث وتمحیص ہوتی تھی نہ کہ منصوص مسائل میں۔
اوریہ بھی آپ کی خصوصیت اورخصوصی رحمت خداوندی ہے کہ فقہ کومدون کرنے میں آپ کو شرف اولیت حاصل ہے کہ سب سے پہلے آپ نے ہی اس کام کو قرآن وسنت اور اقوال صحابہ کی روشنی میں اس ترتیب پر شروع کیا کہ علم فقہ کی تدوین میں ابواب کی ترتیب فصلوں اورمسائل کی ترتیب لگائی ،جیساکہ آج مدون کی ہوئی پوری فقہ کاذخیرہ ہمارے سامنے ہے آپ سے پہلے یہ کام اس طرح مدون نہ ہواتھا ،اورآپ سے پہلے لوگوں کا اکثراعتماداپنے حافظہ پرہوتاتھا اوراگرکچھ لکھابھی ہوتاتھا تومرتب شکل میں نہ ہوتاتھا ۔
اوریہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ امام صاحب اورآپ کے اصحاب پہلے محدث تھے پھرفقیہ تھے ،خود امام صاحب نے چارہزارتابعین علماء ومشائخ سے کسب علم کیاتھا ،جواپنے وقت کے بڑے بڑے محدث تھے ،نیزجس زمانے میں امام صاحب پھلے پھولے ہیں اس وقت کوفہ علم حدیث کاخصوصاً اورباقی تمام علوم وفنون کا عموماً ایک مرکزاورمرجع تھا ،اورآگے علم حدیث کا سلسلہ انہی حضرات سے چلا اوربعدمیں آنے والے ائمہ حدیث اورمصنفین کتب حدیث انہی کے شاگردیاان کے شاگردوں کے شاگردتھے ،استاذمحترم حضرت اقدس مولانا مفتی حمیداللہ جان حفظہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق صحاح ستہ میں کوئی صفحہ بھی ایسانہیں ہے جس میں کوئی کوفی راوی موجودنہ ہو ، اوربخاری شریف کی ثلاثیات کی تعداد ۲۲ ہے ان میں سے ۲۰ احادیث کوفی راویوں سے مروی ہیں اوران ۲۰ روایات کے سب راوی حنفی ہیں، اسی طرح آپ کے اصحاب تلامذہ وغیرہ بھی علم حدیث میں ماہرتھے ،جیساکہ پہلے اس کی تفصیل گزرچکی ہے ۔
مدون مسائل کی تعداد:
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب نے جومسائل مدون کیے تھے ان کی تعدادکے بارے میں مختلف اقوال ہیں ،بعض نے کہاہے کہ ان مسائل کی تعدادتریاسی ہزارہے ،بعض نے کہاکہ ان کی تعدادچھ لاکھ ہے ، اوربعض نے کہاکہ ان کی تعدادبارہ لاکھ نوے ہزارہے ،اوربعض نے کہا کہ اس بات کااندازہ لگانا بہت دشوارہے کہ وہ کل مسائل کتنے تھے ،وہ تمام مسائل امام محمدرحمہ اللہ کی تصنیفات میں آئے ہیں ،نیزامام ابو یوسف رحمہ اللہ نے جن مسائل کا املاء کیا تھا جس کے مجموعے کو امالی ابویوسف کانام دیاگیاتھا وہ کتاب ۳۰۰ جلدوں میں تھی جوکہ سقوط بغدادکے وقت ضائع ہوگئی ۔

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g