Monday, April 23, 2018

فتوی کی لغوی تعریف

فتوی کی لغوی تعریف
لفظ’’فتویٰ‘‘فاء کے فتحہ کے ساتھ بھی منقول ہے اورفاء کے ضمہ کے ساتھ بھی ،لیکن صحیح فاء کے فتحہ کے ساتھ ہے :کسی بھی سوال کا جواب دینا،چاہے وہ شرعی سوال ہویا غیرشرعی،جیساکہ قرآن کریم میں ہے ،
’’یایہاالملأافتونی فی رؤیای ان کنتم للرؤیا تعبرون‘‘سورۃ یوسف:۱۲،۴۳
ترجمہ :اے دربار والو :اگرتم تعبیردے سکتے ہو تومیرے ا س خواب کے بارے میں مجھ کو جواب دو ۔
’’یوسف ایہاالصدیق افتنا فی سبع بقرات سمان‘‘سورۃ یوسف :۱۲،۴۱،
ترجمہ : ’’اے یوسف ! اے سچے ! اے صدق مجسم ! آپ ہم لوگوں کو اس کاجواب دیجئے۔
مذکور بالا آیات میں لفظ فتویٰ مطلق جواب حاصل کرنے کے لئے استعمال کیاگیا ہے،کوئی شرعی حکم دریافت کرنے کے لیے نہیں۔
لیکن بعدمیں لفظ ’’فتویٰ‘‘شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے خاص کیاگیا،یعنی شرعی مسئلہ پوچھنے کو فتویٰ کہا گیا اور قرآن کریم میں بھی اس معنی کے لئے استعمال ہواہے ،جیساکہ قرآن کریم میں ہے ۔
’’ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہن‘‘سورۃ النساء :۴،۱۲۷۔
ترجمہ: اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فتویٰ (حکم )دیتے ہیں ۔
’’یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ‘‘سورۃ النساء:۱۷۶۔
ترجمہ: لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں ،آپ فرمادیجئے کہ اللہ تعالی تم کو کلالہ کے بارے میں فتویٰ( حکم )دیتاہے ۔
احادیث مبارکہ میں بھی لفظ’’فتوی‘‘شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے استعمال کیاگیاہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے ۔
’’اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار ‘‘سنن دارمی :۱۵۷،۱،قدیمی:
’’الاثم ماحاک فی صدرک وان افتاک الناس افتوک ‘‘
فتویٰ کی اصطلاحی تعریف :
’’الاخبار بحکم اللہ تعالیٰ عن مسئلۃ دینیۃ بمقتضی الادلۃ الشرعیۃ لمن سئل عنہ فی امر نازل علی جہۃ العموم والشمول ،لاعلی وجہ الالزام ‘‘ ۔۔۔(المصباح :۱۶)

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g