فتویٰ کاتاریخی پس منظر
نبی کریم ﷺ کے دور میں فتویٰ:
رسالت مآب ﷺ کے زمانے میں حضورنبی اکرم ﷺ خود منصب افتاء پر فائز تھے ، وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتویٰ دیاکرتے تھے ،اورآپ کے فتاویٰ جوامع الکلم تھے اورحضرات صحابہ کرامؓ آپ ﷺ سے پیش آنے والے مسائل سے متعلق سوالات کرتے تو آپ ﷺ وحی کے ذریعے سے ان کے جوابات مرحمت فرماتے تھے ، چنانچہ قرآن کریم میں آیاہے ’’ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہن‘‘(لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان عورتوں کے بارے میں فتویٰ دیتاہے )اسی طرح قرآن وسنت میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے سوالات اورآپ ﷺ کی طرف سے دیے گئے جوابات (فتاویٰ)مذکور ہیں،آپ ﷺ کے یہ فتاویٰ (یعنی احادیث)اسلام کے احکام کا دوسر اماخذ ہیں،ہرمسلمان کے لیے ان پرعمل کرناضروری ہے ،اوراس سے کسی کوانحراف کرنے کی اجازت نہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے ۔
’’مااتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتہوا ‘‘
رسول تم کو جوچیز دیدیاکریں وہ لے لیا کرو اور جس چیزسے تم کو روک دیں تم رک جایاکرو۔
اسی طرح ارشادباری تعالیٰ ہے۔
’’فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی اللہ والرسول ‘‘
پھر اگرکسی امر میں باہم اختلاف کرنے لگو تواس امر کو اللہ اوررسول کے حوالہ کردیا کرو۔
آپ ﷺ کے عہد مبارک میںآپ کے علاوہ کوئی دوسرا فتویٰ دینے والا نہیں تھا ،ہاں آپ ﷺ کسی صحابی کودوردراز علاقوں کے لیے کبھی کبھی مفتی بناکر بھیج دیتے تووہ منصب قضاء اور افتاء پر فائز ہوتے ،جیسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف قاضی اورمفتی بناکر روانہ فرمایا توآپ ﷺ نے ان کو قرآن وحدیث اور قیاس واجتہادکے ذریعے سے فتویٰ دینے کی اجازت عطافرمائی،اسی طرح آپ ﷺ کی اجازت سے بعض مہاجر اوربعض انصارصحابہ بھی فتویٰ دیاکرتے تھے ۔
رسالت مآب ﷺ کے زمانے میں حضورنبی اکرم ﷺ خود منصب افتاء پر فائز تھے ، وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتویٰ دیاکرتے تھے ،اورآپ کے فتاویٰ جوامع الکلم تھے اورحضرات صحابہ کرامؓ آپ ﷺ سے پیش آنے والے مسائل سے متعلق سوالات کرتے تو آپ ﷺ وحی کے ذریعے سے ان کے جوابات مرحمت فرماتے تھے ، چنانچہ قرآن کریم میں آیاہے ’’ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہن‘‘(لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان عورتوں کے بارے میں فتویٰ دیتاہے )اسی طرح قرآن وسنت میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے سوالات اورآپ ﷺ کی طرف سے دیے گئے جوابات (فتاویٰ)مذکور ہیں،آپ ﷺ کے یہ فتاویٰ (یعنی احادیث)اسلام کے احکام کا دوسر اماخذ ہیں،ہرمسلمان کے لیے ان پرعمل کرناضروری ہے ،اوراس سے کسی کوانحراف کرنے کی اجازت نہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے ۔
’’مااتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتہوا ‘‘
رسول تم کو جوچیز دیدیاکریں وہ لے لیا کرو اور جس چیزسے تم کو روک دیں تم رک جایاکرو۔
اسی طرح ارشادباری تعالیٰ ہے۔
’’فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی اللہ والرسول ‘‘
پھر اگرکسی امر میں باہم اختلاف کرنے لگو تواس امر کو اللہ اوررسول کے حوالہ کردیا کرو۔
آپ ﷺ کے عہد مبارک میںآپ کے علاوہ کوئی دوسرا فتویٰ دینے والا نہیں تھا ،ہاں آپ ﷺ کسی صحابی کودوردراز علاقوں کے لیے کبھی کبھی مفتی بناکر بھیج دیتے تووہ منصب قضاء اور افتاء پر فائز ہوتے ،جیسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف قاضی اورمفتی بناکر روانہ فرمایا توآپ ﷺ نے ان کو قرآن وحدیث اور قیاس واجتہادکے ذریعے سے فتویٰ دینے کی اجازت عطافرمائی،اسی طرح آپ ﷺ کی اجازت سے بعض مہاجر اوربعض انصارصحابہ بھی فتویٰ دیاکرتے تھے ۔

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g