کیامسلمان کے لیے کلمہ پڑھناضروری ہے؟
مسئلہ نمبر۴:) زیدکہتاہے کہ کلمہ پڑھنے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتاصرف کردارپر جزاوسزاکامعیار ہے کلمہ تو غیر مسلم اور انڈیاکے اداکار بھی پڑھتے ہیں۔
الجواب باسم الملک الوہاب
واضح رہے کہ ہر وہ شخص جو صدق دل سے تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتاہو تو ایساشخص مسلمان ہے اور اقرار باللسان اجراء احکام دنیوی کے لیے شرط ہے لہذاجو شخص عندالمطالبہ اقرار باللسان نہ کرے تو وہ یقیناکافر ہے اور عدم مطالبہ کی صورت میں محض صدق دل سے مان لینے سے وہ شخص مسلمان کہلائے گا۔
’’والایمان التصدیق بجمیع ماجاء بہ محمد ﷺ عن اللہ تبارک وتعالیٰ مماعلم مجیۂ بہ ضرورۃ وہل ہو فقط او ہو مع الاقرار ؟ قولان فاکثر الحنفیۃ علی الثانی والمحققون علی الاول۔ والاقرار شرط اجراء احکامالدنیابعد الاتفاق علی انہ یعتقد متی طولب بہ أتی بہ فان طولب بہ فلم یقرفہو کفر عناد الخ‘‘۔۔۔(البحر الرائق: ۵؍۲۰۲)
’’وعندنالابد من الاقرار ایضاإماشطر ااو شرطاقال التفتازانی :إن الاقرارلو کان شرطالاجراء الاحکام فلابد ان یکون علی وجہ الاعلان والاظہارللامام وغیرہ من اہل الاسلام۔۔۔وفی المسایرۃ وجعل الاقرار بالشہادتین رکنامن الایمان ہوالاحتیاط بالنسبۃ الی جعلہ شرطاخارجاعن حقیقۃ الایمان ثم أنہ شرطاکان او شطرالابد منہ عند المطالبۃ عند الکل فان طولب بہ ولم یقر فہو کافر کفر عنادوہو معنی ماقالوا:ان ترک العناد شرط فی الایمان کذاصرح بہ ابن الہمام رحمہ اللہ تعالیٰ‘‘۔۔۔(فیض الباری:۱؍۴۹،۵۰)

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g