نمازسے استہزاء کرنا
مسئلہ نمبر۲۲:) کیافرماتے علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کو کھڑاکرکے مزاحاً نماز پر کھڑاکردیتے ہیں پھر مختلف قسم کے مسخرے اڑاتے ہیں، کبھی نماز توڑتے ہیں کبھی بے وضو شروع کردیتے ہیں ، تاکہ لوگوں کو ہنسایاجائے، اسی طرح نماز کے استہزاء اور مسخرے کاشرع شریف میں کیاحکم ہے۔
الجواب باسم الملک الوہاب
شریعت مقدسہ میں اسلام کے سنت اور مستحب عمل کااستخفاف اور استہزاء بھی باعث کفر ہے ،(نعوذباللہ من ذلک)اور سوال مسؤلہ میں ایک اعلیٰ رکن اسلام نماز کاتمسخر کیاگیاہے ،لہذایہ تو بطریق اولیٰ کفر ہے ، ان ڈرامہ کرنے والوں اور ڈرامہ پر جمع ہوکر خوش ہونے اور ہنس کر دیکھنے والوں سب کاایک حکم ہے کہ رضاء الکفرکفر فقہاء کرام کاایک کلیہ قضیہ ہے۔
’’وکذاالاستہزاء مع الشریعۃ۔؟تو رہتک رنگ من امارات تکذیب الانبیاء علہیم السلام‘‘۔۔۔(شرح فقہ اکبر لملاعلی قاری:۱۸۲)
’’إذاوصف اللہ تعالیٰ بمالایلیق بہ أو سخراسم من أسماۂ تعالٰی أو بأمر من أوامرہ أو أنکر وعداووعیدایکفر‘‘۔۔۔(بزازیۃعلی ھامش الھندیۃ :۶؍۳۲۳)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
’’إذاوصف اللہ تعالیٰ بمالایلیق بہ أو سخراسم من أسماۂ تعالٰی أو بأمر من أوامرہ أو أنکر وعداووعیدایکفر‘‘۔۔۔(بزازیۃعلی ھامش الھندیۃ :۶؍۳۲۳)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g