سائنس اسلام کی نظر میں
مسئلہ نمبر۲۳:) امریکی خلاباز چاند پر پہنچ گئے ہیں ، جبکہ سائنس اور اسلام میں درج ذیل تفاوت پایاجاتاہے۔سائنس کے رو سے آسمانوں کاکوئی وجود نہیں ،بلکہ حدنظر ہے اور بلندی ہی مقصود ہے نیز چاند آسمان تلے معلق ہے ، اس کے علاوہ چاند بذات خود روشن نہیں ،جبکہ آیت کریمہ میں صاف ذکر کیاگیاہے کہ چاند روشن پیداکیاگیاہے ، لہذااگر امریکی خلابازوں کاچاند پر جانااور پہنچ جانامان لیاجائے تو پھر ان کانظریہ صحیح اور قرآن کامقصد غلط ثابت ہوگا۔۔۔؟وضاحت فرمائیں،اگر چاندروشن ثابت ہوتو کیااس کی روشنی میں تپش بھی ہے اور آدمی کو جلانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے یانہیں ، سائنس کے رو سے شہاب ثاقب زمین پر گرتے ہیں لیکن اکثر چاند میں گر کر جمع ہوتے ہیں اور چاند پر اکثرزلزلے انہیں شہاب ثاقب کی وجہ سے پیداہوتے ہیں جیساکہ امریکی خلابازوں نے دعوی کیاہے کہ انہوں نے وہاں زلزلے ریکارڈ کئے ہیں، اس کے برعکس شہاب ثاقب کے بارے میں قرآن میں صاف ذکر کیاگیاہے کہ کن کن مقاصد کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں، اگر امریکی انسان کاچاند پر جاناماناجائے تو پھر شہاب ثاقب کی وجہ سے وہاں کے زلزلے بھی صحیح ہوں گے ، اور نعوذباللہ قرآن کاحکم غلط ہو جائے گا، بمطابق رسالہ الحق اسلام میں ایساکوئی ذکر نہیں کہ ستاروں تک پہنچنے میں آسمانوں سے گزرناپڑتاہے ،اس کامطلب تو یہ ہواکہ ستارے آسمان کے تلے ہیں ، لیکن آیت کریمہ میں ہے کہ آسمانوں کو میں نے ستاروں سے زینت دی ہے ، کسی چیز کی کسی دوسری چیز سے زینت اس وقت ہو سکتی ہے جبکہ وہ چیزیں اس میں منسلک ہوں وضاحت بیان فرمائیں۔
الجواب باسم الملک الوہاب
آپ نے سوال میں جو سائنسدانوں کاآسمان سے انکار نقل کیاہے،اگر واقعتاانکار کیاہو تو اس کے لیے ان کے پاس اور کوئی دلیل نہیں ہوگی ،سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کافی جستجو اور تفتیش کے بعد بھی آسمانوں کاکوئی پتہ نہ چلااور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی چیز کاکسی کے علم میں نہ آنااس کی موجود نہ ہونے کی دلیل نہیں ، جیسے کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کو قدیم سائنسدان نہیں مانتے تھے مثلاالفاظ کافضامیں موجود ہونا، وہ نہیں مانتے تھے مگر جدید سائنسی تجربوں ریڈیو،وائرلیس کے ذریعہ اس کو غلط ثابت کیا۔
۲۔ آپ نے لکھاہے کہ سائنسدان چاند کو آسمان کے تلے معلق مانتے ہیں اور چاند کو بالذات روشن نہیں مانتے بلکہ بواسطہ سورج کے روشن مانتے ہیں، یہ دونوں باتیں اسلام کے خلاف نہیں ، اور جس آیت کریمہ کاتم حوالہ دے چکے ہو ، اس سے کھبی یہ ثابت نہیں ہوتاکہ چاند آسمان سے پیوست ہے اور بذات خودوشن ہے ، آیت کریمہ کے الفاظ ، ترجمہ،تفسیر درج ذیل ہے،آیت کریمہ کے الفاظ یہ ہیں
۲۔ آپ نے لکھاہے کہ سائنسدان چاند کو آسمان کے تلے معلق مانتے ہیں اور چاند کو بالذات روشن نہیں مانتے بلکہ بواسطہ سورج کے روشن مانتے ہیں، یہ دونوں باتیں اسلام کے خلاف نہیں ، اور جس آیت کریمہ کاتم حوالہ دے چکے ہو ، اس سے کھبی یہ ثابت نہیں ہوتاکہ چاند آسمان سے پیوست ہے اور بذات خودوشن ہے ، آیت کریمہ کے الفاظ ، ترجمہ،تفسیر درج ذیل ہے،آیت کریمہ کے الفاظ یہ ہیں
’’تبارک الذی جعل فی السماء بروجاوجعل فیہاسراجاوقمرامنیرا‘‘،(پ۱۹ ،سورۃ الفرقان
ترجمہ:’’ برکت والاہے وہ ذات جس نے آسمان مین برج پیدافرمائے، اور پیدافرمایااس میں چراغ(سورج) اور چاند روشن کرنے والا۔‘‘
تو اس آیت سے صرف اتنامعلوم ہوتاہے کہ یہ چیزیں آسمان کے احاطہ میں ہیں ،یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں مرکوز ہیں یااس کے ساتھ متصل بلاواسطہ،اور آسمان کے ساتھ معلق ہے ، دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چاند دنیاکو روشن کرنے والاہے ، یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتاکہ چاند بذات خود روشن ہے ، یاکسی اورچیز سے روشنی لیکر دنیاکو روشن کرتاہے ، لہذاامریکی خلابازوں کاچاند تک پہنچ جانے سے قرآن کریم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔۳۔ شریعت مطہرہ نے چاند میں تپش ہونے یانہ ہونے سے بحث نہیں کی ہے ، بلکہ قرآن کریم نے اس قسم کے سوالات کو بے کار سمجھ کر علی اسلوب الحکیم فوائد سے جواب دیاہے، جیساکہ قرآن کریم پ۲،سورہ بقرہ میں اللہ کریم فرماتے ہیں
تو اس آیت سے صرف اتنامعلوم ہوتاہے کہ یہ چیزیں آسمان کے احاطہ میں ہیں ،یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں مرکوز ہیں یااس کے ساتھ متصل بلاواسطہ،اور آسمان کے ساتھ معلق ہے ، دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چاند دنیاکو روشن کرنے والاہے ، یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتاکہ چاند بذات خود روشن ہے ، یاکسی اورچیز سے روشنی لیکر دنیاکو روشن کرتاہے ، لہذاامریکی خلابازوں کاچاند تک پہنچ جانے سے قرآن کریم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔۳۔ شریعت مطہرہ نے چاند میں تپش ہونے یانہ ہونے سے بحث نہیں کی ہے ، بلکہ قرآن کریم نے اس قسم کے سوالات کو بے کار سمجھ کر علی اسلوب الحکیم فوائد سے جواب دیاہے، جیساکہ قرآن کریم پ۲،سورہ بقرہ میں اللہ کریم فرماتے ہیں
’’ویسئلونک عن الأہلۃ قل ہی مواقیت للناس والحج ‘‘۔۔۔(سورہ بقرہ : الآیۃ؍۱۸۹)
ترجمہ: (اے نبی)آپ سے ہلال(چاند) کی حقیقت پوچھنے ہیں(ان سے) کہدو کہ یہ تو لوگوں
کے معاملات اور حج کے اوقات بتلانے کے لیے ہیں ‘‘۔
تفسیر: ’’ بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہلال کے متعلق سوال کیاکہ اس میں کیاہے ،کہ ابتدائی راتوں میں چاندباریک خمدار ہوتاہے ،پھر آہستہ آہستہ بڑھ جاتاہے ، اور گھٹنے لگتاہے اور آخر پھر وہی باریک خمدار رہ جاتاہے ،چونکہ مسئلہ علم ہیئت سے متعلق تھاجس کے سمجھنے کی ان ان پڑھ لوگون کو لیاقت نہ تھی ،مفت الجھن میں پڑ جاتے اس لیے اس سے اعراض کرکے جوہلال کافائدہ تھاوہ بتلادیا،کہ یہ لوگوں کے معاملات اور اوقات بتاتے ہیں ،اس جواب سے دو باتوں کی تعلیم ہوگئی ،اول یہ کہ جن اشیاء کے حقائق واسرار سمجھنے کی لیاقت نہ ہو ان سے سوال کرکے اپنا اور مجیب کاوقت ضائع نہ کرناچاہیے بے کار باتوں میں مصروف ہوناتضیع اوقات ہے دوم یہ کہ اگر کوئی اس قسم کاسوال کرے بھی تو جہاں تک اس کے مفید مدعاہو ،بتلادیناچاہیے زجزوتوبیخ کرناخلاف اخلاق ہے۔‘‘ (از تفسیر حقانی ۳؍۳۴)
۴۔ اس سوال کاجواب وہ ہے جو جواب سوال نمبر ۳کاہے۔
۵۔ رسالہ الحق آپ نے شاید غور سے دیکھانہیں یاپھر اس کے مضمون کی حقیقت کو آپ سمجھے نہیں ،ورنہ آپ کے اس اعتراض کاجواب الحق میں صاف موجود ہے اس کو دوبارہ غور سے دیکھیں۔نوٹ: ایک پاکستانی ہفتوار اخبار نے(شعبان:۱۴۳۰ھ)انگریزی میگزین کے حوالہ سے یہ لکھاتھاکہ امریکہ کے خلابازوں کاچالیس سالہ قدیم(چاندپر قدم رکھنے کا) دعوی جھوٹاثابت ہوا،جس میں جدید محققین نے ان کے دعوے کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے دس دلائل دئیے تھے ،کہ چاند پر جاکر خلابازوں نے جو ویڈیو تصاویر بناکر(جعلی) فلم جاری کی ہے اس فلم میں واضح غلطیاں ہیں ،مثلاجب امر یکی خلاباز چاندپر امریکی جھنڈاگھاڑتاہے تو وہ تیز ی سے لہراتاہے ،حالانکہ چاندمیں کوئی ہواموجود نہیں ،نمبر۲خلائی جہاز کاوزن کئی ٹن تھا ،اور وہ چاندکی زمین میں گھساتک نہیں، اور دوسری طرف خلاباز کے پاؤں کے نشانات واضح نظر آرہے ہیں ،بلکہ اس کے پاؤں سے ریت اٹھتی ہوئی واضح محسوس ہوتی ہیں ، نمبر۳،خلابازکے بیک گراؤنڈ میں آسمان کارنگ بالکل بلیک(کالا)دیکھائی دیاگیاہے ، اس میں کسی قسم کی تاروں کی چمک تک نہیں ،حالانکہ آسمان ستاروں سے بھراہواہے ، نمبر۴، چاندپر موجودگھڑوں کے نشانات بالکل نہیں ہے ،اور جوپہاڑیاں دیکھائی گئی ہیں ،وہ انٹارکٹیکاکی پہاڑیوں اور چٹانوں کے بہت مشابہ ہیں، وغیرذلک من الدلائل(فافہم)
کے معاملات اور حج کے اوقات بتلانے کے لیے ہیں ‘‘۔
تفسیر: ’’ بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہلال کے متعلق سوال کیاکہ اس میں کیاہے ،کہ ابتدائی راتوں میں چاندباریک خمدار ہوتاہے ،پھر آہستہ آہستہ بڑھ جاتاہے ، اور گھٹنے لگتاہے اور آخر پھر وہی باریک خمدار رہ جاتاہے ،چونکہ مسئلہ علم ہیئت سے متعلق تھاجس کے سمجھنے کی ان ان پڑھ لوگون کو لیاقت نہ تھی ،مفت الجھن میں پڑ جاتے اس لیے اس سے اعراض کرکے جوہلال کافائدہ تھاوہ بتلادیا،کہ یہ لوگوں کے معاملات اور اوقات بتاتے ہیں ،اس جواب سے دو باتوں کی تعلیم ہوگئی ،اول یہ کہ جن اشیاء کے حقائق واسرار سمجھنے کی لیاقت نہ ہو ان سے سوال کرکے اپنا اور مجیب کاوقت ضائع نہ کرناچاہیے بے کار باتوں میں مصروف ہوناتضیع اوقات ہے دوم یہ کہ اگر کوئی اس قسم کاسوال کرے بھی تو جہاں تک اس کے مفید مدعاہو ،بتلادیناچاہیے زجزوتوبیخ کرناخلاف اخلاق ہے۔‘‘ (از تفسیر حقانی ۳؍۳۴)
۴۔ اس سوال کاجواب وہ ہے جو جواب سوال نمبر ۳کاہے۔
۵۔ رسالہ الحق آپ نے شاید غور سے دیکھانہیں یاپھر اس کے مضمون کی حقیقت کو آپ سمجھے نہیں ،ورنہ آپ کے اس اعتراض کاجواب الحق میں صاف موجود ہے اس کو دوبارہ غور سے دیکھیں۔نوٹ: ایک پاکستانی ہفتوار اخبار نے(شعبان:۱۴۳۰ھ)انگریزی میگزین کے حوالہ سے یہ لکھاتھاکہ امریکہ کے خلابازوں کاچالیس سالہ قدیم(چاندپر قدم رکھنے کا) دعوی جھوٹاثابت ہوا،جس میں جدید محققین نے ان کے دعوے کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے دس دلائل دئیے تھے ،کہ چاند پر جاکر خلابازوں نے جو ویڈیو تصاویر بناکر(جعلی) فلم جاری کی ہے اس فلم میں واضح غلطیاں ہیں ،مثلاجب امر یکی خلاباز چاندپر امریکی جھنڈاگھاڑتاہے تو وہ تیز ی سے لہراتاہے ،حالانکہ چاندمیں کوئی ہواموجود نہیں ،نمبر۲خلائی جہاز کاوزن کئی ٹن تھا ،اور وہ چاندکی زمین میں گھساتک نہیں، اور دوسری طرف خلاباز کے پاؤں کے نشانات واضح نظر آرہے ہیں ،بلکہ اس کے پاؤں سے ریت اٹھتی ہوئی واضح محسوس ہوتی ہیں ، نمبر۳،خلابازکے بیک گراؤنڈ میں آسمان کارنگ بالکل بلیک(کالا)دیکھائی دیاگیاہے ، اس میں کسی قسم کی تاروں کی چمک تک نہیں ،حالانکہ آسمان ستاروں سے بھراہواہے ، نمبر۴، چاندپر موجودگھڑوں کے نشانات بالکل نہیں ہے ،اور جوپہاڑیاں دیکھائی گئی ہیں ،وہ انٹارکٹیکاکی پہاڑیوں اور چٹانوں کے بہت مشابہ ہیں، وغیرذلک من الدلائل(فافہم)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g