Thursday, May 17, 2018

مختلف نظریات کے حامل شخص کاحکم ؟

مختلف نظریات کے حامل شخص کاحکم ؟
مسئلہ نمبر۴۹) حضرت مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
گذارش ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات قرآن وسنت کی روشنی میں تحریرفرماکرمشکورفرمائیں۔
(۱)
جوشخص یہ عقیدہ رکھتاہے کہ نبی کریم ﷺ حاضرناظرعالم الغیب اورنورہیں توکیاایسے شخص کو مشرک قراردیاجاسکتاہے ؟اگرنہیں تواس کی کیاوجہ ہے ؟
(۲)
ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں؟
(۳)
 ایساعقیدہ رکھنے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرنایاان کی نمازجنازہ میں شریک ہوناجائزہے یانہیں؟
(۴)
کچھ عرصہ سے دیوبندی حضرات میں ایک نیافرقہ مماتی کے نام سے پیداہوچکاہے کیاان کے پیچھے نمازپڑھناجائزہے یانہیں؟اگرنہیں تواس کی کیاوجہ ہے؟حالانکہ یہ لوگ شرک نہیں کرتے ،بالفرض وہ غلطی پرہیں تو ان کی اس غلطی کواخلاص کی بناء پر اجتہادی غلطی ہی قراردیاجاسکتاہے ؟
الجواب باسم الملک الوہاب 
(۱)
ایسے لوگوں کو مشرک اس لیے قرارنہیں دے سکتے کہ ان کے اقوال کی تاویل ہوسکتی ہے نیزوہ نبی پاک ﷺ کے علم غیب کوذاتی نہیں بلکہ عطائی خیال کرتے ہیں ،ایسے عقائد سے صرف فسق ثابت ہوتاہے نہ کہ شرک۔
(۲)
 نمازفسق کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہوگی۔
(۳)
چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لیے دعائے مغفرت کرنااورنمازجنازہ پڑھنادرست ہے ۔
(۴)
 مماتی حضرات کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ نبی پاک ﷺ کی حیات برزخی مثل حیات دنیوی اہل السنۃ والجماعۃ کے اجماعی عقیدہ کے خلاف عقیدہ رکھنے کی وجہ سے فسق کے مرتکب ہوئے ہیں ،اجتہادی غلطی اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ وہ مجتہدنہیں ہیں۔
(۱)
’’قولہ قیل یکفر لانہ اعتقد ان رسول اللہ ﷺ عالم الغیب قال فی التتارخانیۃ وفی الحجہ ذکرفی الملتقط انہ لایکفر لان الاشیاء تعرض علی روح النبی ﷺ وان الرسول یعرفون بعض الغیب قال تعالیٰ عالم الغیب فلایظہرعلیٰ غیبہ احدا الامن ارتضیٰ من رسول اھ قلت بل ذکروافی کتب العقائد ان من جملۃ کرامات الاولیاء الاطلاع علی بعض المغیبات وردوا علی المعتزلۃ المستدلین بہذہ الآیۃ علی نفیہا بان المراد الاظہار بلاواسطۃ والمراد من الرسول الملک ای لایظہر علی غیبہ بلاواسطۃ الاالملک اماالنبی والاولیاء فیظہرہم علیہ بواسطۃ الملک اوغیرہ وقدبسطنا الکلام علی ہذہ المسئلۃ فی رسالتنا المسماۃ سل الحسام الہندی لنصرۃ سیدنا خالد النقشبندی فراجعہا فان فیہا فوائد نفسیۃ واللہ تعالیٰ اعلم ‘‘۔۔۔(فتاویٰ شامی:۳۰۰/۲)
(۲،۳)
’’وکرہ امامۃ العبد والاعمیٰ والاعرابی وولدالزناو الجاہل والفاسق والمبتدع بارتکابہ مااحدث علی خلاف الحق الملتقیٰ عن رسول اللہ ﷺ من علم اوعمل اومال بنوع شبہۃ اواستحسان وروی محمد عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ وابی یوسف ان الصلاۃ خلف اہل الہواء لاتجوزوالصحیح انہاتصح مع الکراہۃ خلف لاتکفرہ بدعتہ لقولہ ﷺ صلوا خلف کلبروفاجر وصلوا علی کل بروفاجر وجاہدوامع کل بروفاجر رواہ الدارقطنی کمافی البرہان وقال فی مجمع الروایات واذا صلی خلف فاسق اومبتدع یکون محرزا ثواب الجماعۃ لکن لاینال ثواب من یصلی خلف امام تقی‘‘۔۔۔(مراقی الفلاح علی نورالایضاح :۳۰۲)
(۴)
’’اماالاول فالدلیل علی فرضیتہا ماروی عن النبی ﷺ انہ قال صلوا علی کل بروفاجر وروی عنہ ﷺ انہ قال للمسلم علی المسلم ست حقوق وذکر من جملتہا انہ یصلی علی جنازتہ وکلمۃ علی للایجاب وکذا مواظبۃ النبی ﷺ واصحابہ رضی اللہ عنہم والامۃ من لدن رسول اللہ ﷺ الی یومنا ہذا علیہا دلیل الفرضیۃ والاجماع منعقد علی فرضیتہا ایضاً الاانہا فرض کفایۃ اذاقام بہ البعض یسقط عن الباقین لان ماہوالفرض وہوقضاء حق ا لمیت یحصل بالبعض ولایمکن ایجابہا علی کل واحد من آحادالناس فصار بمنزلۃ الجہاد لکن لایسع الاجتماع علی ترکہا کالجہادواللہ اعلم ‘‘ ۔۔۔(بدائع الصنائع:۴۶/۲)
واللہ تعالی اعلم بالصواب

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g