Saturday, May 19, 2018

تنظیم فکرشاہ ولی اللہی کے عقائد اوران کاحکم

تنظیم فکرشاہ ولی اللہی کے عقائد اوران کاحکم
مسئلہ نمبر۵۰) بخدمت جناب مفتی صاحب زیدمجدکم 
ہماری مسجدمیں ایک صاحب تشریف لاتے ہیں وہ اپنا تعلق تنظیم فکرشاہ ولی اللہی سے بتاتے ہیں اورنوجوانوں کوترغیب دیتے ہیں کہ وہ اس تنظیم اوران کے ادارہ میں آئیں اوران کا ادارہ لاہورمیں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ٹرسٹ (رجسٹرڈ)رحیمیہ ہاؤس اے 33کوئنز روڈشاہراہ فاطمہ جناح لاہور کے نام سے ہے اورمختلف شہروں میں ان کے کیمپس ہیں ،آپ سے یہ دریافت کرناہے کہ
(۱)
 تنظیم فکرشاہ ولی اللہی کے عقائد کیاہیں؟
(۲)
 کیاان کا تعلق علماء دیوبندسے ہے؟
(۳)
 کیاان کے عقائد ونظریات سے علماء دیوبند کااختلاف بھی ہے ؟اگراختلاف ہوتوبراہ کرم اختلاف بتایاجائے تاکہ نوجوان نسل کوگمراہی سے بچایاجاسکے ،اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیرعطافرمائے
الجواب باسم الملک الوہاب

تنظیم فکرولی اللہی کی کتابوں میں معاشی مساوات کانظریہ درج ہے اوریہ سوشلسٹوں کانظریہ ہے جوکہ قرآن وسنت اورعملاً مشاہدات کے خلاف ہے اورجوبھی یہ نظریہ رکھتاہو وہ گمراہ ہے ،چاہے وہ جس تنظیم سے تعلق رکھتاہواورجس نسبت سے اپنے آپ کو منسوب کرتاہو
’’نحن قسمنا بینہم معیشتہم اسباب معیشتہم وقرء عبداللہ ابن عباس والاعمش وسفیان معایشہم علی الجمع فی الحیاۃ الدنیا قسمۃ تقضیہا مشیئتنا المبنیۃ علی الحکم والمصالح ولم نفوض امرہا الیہم علمامنابعجزہم عنتدبیرہابالکلیۃ واطلاق المعیشۃ یقتضی ان یکون حلالہا وحرامہا من اللہ تعالیٰ،ورفعنا بعضہم فوق بعض فی الرزق وسائرمبادی المعاش درجات متفاوتۃ بحسب القرب والبعد حسبما تقتضیہ الحکمۃ فمن ضعیف وقوی وغنی وفقیر وخادم ومخدوم وحاکم ومحکوم لیتخذ بعضہم بعضا سخریالیستعمل بعضہم بعضافی مصالحہم ویستخدموہم فی مہنہم ویسخروہم فی اشغالہم حتی یتعایشوا ویترافدوا ویصلوا الی مرافقہم لالکمال فی الموسع علیہ اھ ‘‘۔۔۔(تفسیرروح المعانی :۷۸/۲۵)
’’نحن قسمنا بینہم معیشتہم فی الحیاۃ الدنیا ای افقرنا قوما واغنینا قوما ۔۔۔ ورفعنابعضہم فوق بعض درجات ای فاضلنا بینہم فمن فاضل ومفضول ورئیس ومرء وس قالہ مقاتل وقیل بالحریۃ والرق فبعضہم مالک وبعضم مملوک وقیل بالغنی والفقر فبعضہم غنی وبعضہم فقیروقیل بالامر بالمعروف والنہی عن المنکر،لیتخذ بعضہم بعضاسخریا قال السدی وابن زید خولا وخداما یسخر الاغنیاء الفقراء فیکون بعضہم سببالمعاش بعض ‘‘۔۔۔(الجامع لاحکام القرآن :۸۳/۸،الجزء ۱۶)
’’نحن قسمنا بینہم معیشتہم فی الحیاۃ الدنیا ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات وفیہ مسائل المسئلۃ الاولی ،انا اوقعنا ہذا التفاوت بین العباد فی القوۃ والضعف والعلم والجہل والحذاقۃ والبلاہۃ والشہرۃ والخمولوانما فعلنا ذلک لانالوسوینا بینہم فی کل ہذہ الاحوال لم یخدم احداحدا ولم یصر احدمنہم مسخرا لغیرہ ،وحینئذٍ یفضی ذلک الی خراب العالم وفساد نظام الدنیاوالمسئلۃ الثانی قولہ تعالیٰ نحن قسمنا بینہم معیشتہم فی الحیوۃ الدنیا یقتضی ان تکون کل اقسام معایشہم انماتحصل بحکم اللہ وتقدیرہ‘‘۔۔۔(التفسیر الکبیر للامام الفخرالرازی:۶۳۰/۹الجزء ۲۷)
واللہ تعالی اعلم بالصواب

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g