مسئلہ نمبر۶۰) کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب کوئی آدمی کسی کی قبرپر جاتاہے تو السلام علیکم یااہل القبور کہتاہے،کیامردے لوگ اس کاجواب دیتے ہیں ؟اوراگروہ سنتے نہیں توپھرالسلام علیکم کہنے کاکیامقصدہوتاہے ؟ حدیث شریف کی روسے باحوالہ جواب دیں۔
جب قبرستان میں جاکرکوئی مردوں کو سلام کرتاہے تووہ سنتے ہیں،کیونکہ جملہ مردے قبروں میں زندہ ہیں ، حدیث شریف میں آتاہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشادفرمایا کہ جوشخص اپنے بھائی کی قبرکی زیارت کرتاہے اور اس کے پاس بیٹھتاہے تووہ صاحب قبر اس سے مانوس ہوتاہے۔
’’فروی ابن ابی الدنیا فی کتاب القبور عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول اللہ ﷺ مامن رجل یزورقبراخیہ ویجلس عندہ الااستأنس فیہ وردعلیہ حتی یقوم ،وروی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال اذا مرالرجل بقبریعرفہ فسلم علیہ ردعلیہ السلام ‘‘۔۔۔(تفسیرابن کثیر:۹۵/۵)
’’واخرجہ العقیلی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال ابورزین یارسول اللہ ان طریقی علی الموتیٰ فہل من کلام اتکلم بہ اذامررت علیہن قال قل السلام علیکم یااہل القبور من المسلمین (قولہ لایستطیعون) ان یجیبوا ای جوابا سمعہ الحی والافہم یردون حیث لاتسمع،عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ مامن احد یمربقبراخیہ المؤمن کان یعرفہ فی الدنیا فیسلم علیہ الاعرفہ وردعلیہ السلام ‘‘۔۔۔(مرقاۃ المفاتیح:۲۲۱/۴)
واللہ تعالی اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g