Saturday, October 15, 2022

غلط کام کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنے کاحکم: Commandment of doing wrong deeds to Allah Ta'ala:

 Commandment of doing wrong deeds to Allah Ta'ala

غلط کام کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنے کاحکم

محترم ومکرم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

آپ سے ایک اہم سوال پوچھنے کی جسارت کررہاہوں، جواب دیکرمشکورفرمائیں۔

بحیثیت مسلمان ہماراعقیدہ ہے کہ ہرشیئ کاخالق اورہرشیئ پرقادراللہ تعالیٰ ہے،اس عقیدے کی بنیاد پرغلط کام کواللہ تعالی کی طرف منسوب کرنا درست سمجھاجاسکتاہے؟ اگریہ درست ہے تو کیایہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہیں ہے؟اس سوال کاجواب وقت کی اہم ضرورت ہے،مہربانی فرماکر مفصٓل جواب دیں۔

الجواب باسم الملک الوہاب 

صورت مذکورہ میں سائل کاہرغلط کام کوحق تعالی شانہ کی طرف منسوب کرنے کے معنی میں خلط ہوگیا ہے،  اس لیے ذہن کے شبہ کاشکارہے،غلط کام کو خداتعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کے دومعانی ہیں۔

(۱) ایک یہ ہے کہ غلط کام کی طرف داعی ہونا یاغلط کام کو خودسرانجام دینا (یعنی کسب کرنا)

(۲) دوسرایہ ہے کہ غلط اورخراب کام کو بحیثیت خالق پیدافرمانا۔

پہلے معنی کے لحاظ سے برے اورکاموں کی نسبت خداتعالیٰ کی طرف کسرشان اوربڑی گستاخی ہے، اس لیے فرمان رب العالمین واضح ہے ”ان اللہ لایؤمر بالسوء والفحشاء“۔

دوسرے معنی کے لحاظ سے نسبت درست ہے اوراس میں نہ کسرشان ہے اورنہ ہی گستاخی،کیونکہ اچھے،برے اورصحیح غلط کی مثال ظلمت اورنورجیسی ہے، اگرخداتعالیٰ کارات اوردن،حسین وبدشکل اورسردی اورگرمی راحت وغم کوپیداکرنا عیب نہیں ہے،اوریقینا عیب نہیں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کاظہور ہوتاہے کہ اس کو ضدین کے پیداکرنے پر پوری قدرت ہے اورواقعی اضدادپرقادرہوناغایت کمال ہے،تواللہ تعالیٰ کااچھے اوربرے صحیح اورغلط کوپیداکرنا اوران کی تخلیق کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی گستاخی اورکسرشان نہیں ہےاورنہ ہی یہ سب اللہ کے لیے عیب ہے، البتہ فقہاء کرام نے لکھاہے کہ یہ نسبت اجمالاً بولنادرست ہے مگرمخصوص گندی چیزکانام لے کر خالق کہنا درست نہیں ہے، اگرچہ نفس الامر کے لحاظ سے یہ درست ہے، عرفاً سوء ادب ہے۔

”لوکان الکفر بقضاء اللہ تعالیٰ لوجب الرضاء بہ لان الرضا بالقضاء واجب واللازم باطل لان الرضا بالکفرکفر فثبت ان الکفر لیس بقضاء اللہ تعالی فلم تکن جمیع افعال العباد بقضاء اللہ تعالی علی ماذہب الیہ اہل السنۃ والجماعۃ فمدفوع بان الکفر مقضی لاقضاء والرضی انمایجب بالقضاء دون المقضی،وتوضیحہ ان الکفر لہ نسبۃ الیہ سبحانہ وہی کونہ خلقہ علی مقتضی حکمتہ ولااعتراض علیہ فی مشیتہ فانہ مالک الملک یتصرف فیہ کیف یشاء لایتضرربشیئ کمالاینتفع بہ ولہ نسبۃ اخری الی المکلف وہی وقوعہ صفۃ لہ بکسبہ واختیارہ والاعتراض واقع علیہ فی فعلہ لانہ اسخط مولاہ واستحق العقوبۃ الدائمۃ فی عقباہ“……(شرح فقہ الاکبر:۱۴)

واللہ تعالی اعلم بالصواب 

https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g

Dear Mr. Mufti, peace be upon him

I dare to ask you an important question, thank you for your reply.

As Muslims, we believe that Allah Almighty is the creator of everything and is capable of everything. If this is true, is it not an insult to the glory of Allah Ta'ala? The answer to this question is the urgent need of the hour, please give a detailed answer.

Answer by Basim al-Mulk al-Wahhab

In the above situation, the questioner has confused the meaning of attributing every wrongdoing to the Almighty, so there is a doubt in the mind, there are two meanings of attributing the wrongdoing to the Almighty.

(1) One is to be advocating wrongdoing or doing wrongdoing oneself (i.e. acquisition).

(2) The second is to create wrong and bad work as a creator.

In terms of the first meaning, there is greater arrogance towards Allah than the bad deeds, so the statement of the Lord of the Worlds is clear: "In Allah, do not live with evil and obscenity".In terms of the other meaning, the comparison is correct and there is no shame or arrogance in it, because the example of good, bad and right and wrong is darkness and darkness. The power of Allah is perfect, that He has full power over the creation of the opposites, and indeed He has the power over the opposites, and His purpose is perfect. Therefore, there is no arrogance or disrespect of Allah in creating the good and the bad, the right and the wrong.Nor is this all a fault for Allah, although the jurists have written that it is correct to speak of this relation in general, but it is not correct to call a particular dirty thing as the creator, although it is correct in terms of the self, aka bad manners.”لوکان الکفر بقضاء اللہ تعالیٰ لوجب الرضاء بہ لان الرضا بالقضاء واجب واللازم باطل لان الرضا بالکفرکفر فثبت ان الکفر لیس بقضاء اللہ تعالی فلم تکن جمیع افعال العباد بقضاء اللہ تعالی علی ماذہب الیہ اہل السنۃ والجماعۃ فمدفوع بان الکفر مقضی لاقضاء والرضی انمایجب بالقضاء دون المقضی،وتوضیحہ ان الکفر لہ نسبۃ الیہ سبحانہ وہی کونہ خلقہ علی مقتضی حکمتہ ولااعتراض علیہ فی مشیتہ فانہ مالک الملک یتصرف فیہ کیف یشاء لایتضرربشیئ کمالاینتفع بہ ولہ نسبۃ اخری الی المکلف وہی وقوعہ صفۃ لہ بکسبہ واختیارہ والاعتراض واقع علیہ فی فعلہ لانہ اسخط مولاہ واستحق العقوبۃ الدائمۃ فی عقباہ“……(شرح فقہ الاکبر:۱۴)

واللہ تعالی اعلم بالصواب 

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g