Mufti Hamidullah jan Dars Bukhari Jamiatulhameedullah jan Sahib jamiatul Hameed Lahor
اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط عقائد رکھنے والے شخص کاحکم:
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ
ہمارے علاقہ ضلع بہاولنگر کے گاؤں
7R/175
میں زمان ولداحمدخان نام کاایک آدمی ہے
جوکہ اپنے آپ کو مقتدااورپیشواظاہرکرتاہے،جس کے عقائد اوردعوے درج ذیل ہیں۔
نوٹ:
یہ تمام عقائد اوردعوے ویڈیواورآڈیوسی ڈی میں محفوظ ہیں جن میں سے دوسی ڈیز استفتاء کے ساتھ
منسلک ہیں۔
میں اللہ کا امر ہوں،میں خالق کی رضاہوں،میں اللہ کی ڈیوٹی ہوں،میں سچاہوں،مالک کافرمان ہوں
اورمجھے لوگوں کوڈرانے کے لیے بھیجاگیاہے۔
(۲) ایک ولی سوالاکھ انبیاء سے اعلیٰ ہے،اعلیٰ ہے،اعلیٰ ہے۔
(۳) بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی بندہ ہے۔
(۴) حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺنے ابوتراب کہا،اورتراب مٹی کوکہتے ہیں اورتمام انبیاء علیہم السلام مٹی کے پتلے ہیں تومطلب یہ ہوا کہ تمام انبیاء حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولادہیں۔
(۵) جس نمازکوملانمازبتاتے ہیں میں اس نماز کونہیں مانتاکیونکہ یہ تومنہ کی بک بک ہے،نمازتودل کی نمازہے اورآنکھوں کی نمازہے۔
(۶) اویس قرنی کوبارگاہ رسول مانوکیونکہ نبوت ان کی طرف منتقل ہوگئی ہے۔
(۷) اللہ محمدکی صورت ہیں اورمحمداللہ کی صورت ہیں۔
(۸) اللہ کی ذات محمدی صورت میں سواچودہ سوسال پہلے ظاہر ہوچکی ہے۔
(۹) اللہ تعالیٰ سب سے پہلے آدم علیہ السلام کی صورت میں ظاہرہوئے۔
ّ(۰۱) ویڈیوسی ڈی کے اندرایک شخص ملعون زمان کے قدموں میں گرکرکہہ رہاہے،کہ تومیرارب ہے،رب میراتوہے،رب میراتوہے،توپھرمیں تجھے چھوڑکر جاؤں کہاں؟
(۱۱) وہ یہ کہتاہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے دوسجدے کیے، ایک سجدہ کعبہ کی طرف منہ کرکے کیا، اوردوسراسجدہ پیٹھ کرکے،صحابہ نے پوچھاکہ یہ دوسجدے اس طرح کیوں کیے؟توآپ ﷺ نے فرمایا کہ کعبہ کی طرف اس لیے سجدہ کیاکہ یہ کتابوں کے نزول کی اورانبیاء کے نزول کی سرزمین ہے،اورمشرق کی طرف اس لیے سجدہ کیا کہ یہ میری امت کے ولیوں کی سرزمین ہے۔
(۲۱) خداصرف بندے کی شکل میں موجودہے۔
(۳۱) اللہ کی کرسی،کرسی آسمان نہیں بلکہ بندے کاسینہ ہے۔
(۴۱) اللہ عاشق ہے اورگرم ہے، نبی معشوق ہے اورٹھنڈاہے۔
(۵۱) حضورﷺ کامقام محمود ہے،جہاں یہ صورت پوجاکے لائق اورسجدہ کے لائق ہوجائے اورحضورﷺ اب اس مقام پرہیں۔
(۶۱) یہی صورت محمدی پہلے بھی سجدے کے لیے تھی، آج بھی یہ صورت محمدی مقام محمودپر(یعنی سجدے کے لائق ہے)
اس تفصیل کے بعد امورمسؤلہ یہ ہیں۔
(۱) ایسے عقائد ونظریات رکھنے والے شخص کاشرعی حکم کیاہے؟اورشرعی سزاکیاہے؟
(۲) اس کو اس کے تمام عقائد ونظریات میں سچاماننے والے کاکیاحکم ہے؟
(۳) اس کو اللہ کاولی ماننے والوں کاکیاحکم ہے؟
(۴) اس کااوراس کے ماننے والوں کانکاح ودیگرمعاملات میں حکم شرعی کیاہے؟
(۵) مارکیٹ میں سچے مسلمانوں کے ہوتے ہوئے اس قسم کے لوگوں سے بیع وشراء کرناکیساہے؟
الجواب باسم الملک الوہاب
تحریرمیں ذکرکردہ تفصیل مبنی برحقیقت ہونے کی صورت میں مذکورہ عقائد کاحامل شخص کافراورزندیق ہے، اس کے تمام عقائد ونظریات قرآن وحدیث کے بالکل خلاف اورمتصادم ہیں،اسی طرح بعض فروعی مسائل نمازوغیرہ بھی اسلامی تعلیمات کے یکسرمخالف ہیں۔
”والکفرلغۃ الستر،وشرعاتکذیبہ ﷺ فی شیئ بماجاء بہ من الدین ضرورۃ“ ……(شامی:۳۲۲/۴)
لہٰذایہ شخص کافر بھی ہے اورزندیق بھی،کیونکہ زندیق اصطلاح شریعت میں ایسے آدمی کو کہتے ہیں جواسلام ظاہر کرتاہواورباطن میں عقائد کفریہ رکھتاہو،یاعقائد کفریہ رکھتاہواورغلط تاویلات سے اپنے ان کفریہ عقائدکو عقائداسلام قراردیتاہو۔
”وان کان مع اعترافہ بنبوۃ النبی ﷺ واظہار شعائرالاسلام یبطن عقائد ہ یکفربالاتفاق خص باسم الذندیق“……(شرح المقاصد:۹۶۲/۲)

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g