Sunday, October 2, 2022

Mufti Hamidullah jan Dars Bukhari Jamiatulhameed #mufti

Mufti Hamidullah jan Dars Bukhari Jamiatulhameedullah jan Sahib jamiatul Hameed Lahor




 اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط عقائد رکھنے والے شخص کاحکم:

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ 

ہمارے علاقہ ضلع بہاولنگر کے گاؤں

 7R/175

میں زمان ولداحمدخان نام کاایک آدمی ہے 

جوکہ اپنے آپ کو مقتدااورپیشواظاہرکرتاہے،جس کے عقائد اوردعوے درج ذیل ہیں۔

نوٹ: 

یہ تمام عقائد اوردعوے ویڈیواورآڈیوسی ڈی میں محفوظ ہیں جن میں سے دوسی ڈیز استفتاء کے ساتھ

 منسلک ہیں۔

میں اللہ کا امر ہوں،میں خالق کی رضاہوں،میں اللہ کی ڈیوٹی ہوں،میں سچاہوں،مالک کافرمان ہوں

 اورمجھے لوگوں کوڈرانے کے لیے بھیجاگیاہے۔

(۲) ایک ولی سوالاکھ انبیاء سے اعلیٰ ہے،اعلیٰ ہے،اعلیٰ ہے۔

(۳) بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی بندہ ہے۔

(۴) حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺنے ابوتراب کہا،اورتراب مٹی کوکہتے ہیں اورتمام انبیاء علیہم السلام مٹی کے پتلے ہیں تومطلب یہ ہوا کہ تمام انبیاء حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولادہیں۔

(۵) جس نمازکوملانمازبتاتے ہیں میں اس نماز کونہیں مانتاکیونکہ یہ تومنہ کی بک بک ہے،نمازتودل کی نمازہے اورآنکھوں کی نمازہے۔

(۶) اویس قرنی کوبارگاہ رسول مانوکیونکہ نبوت ان کی طرف منتقل ہوگئی ہے۔

(۷) اللہ محمدکی صورت ہیں اورمحمداللہ کی صورت ہیں۔

(۸) اللہ کی ذات محمدی صورت میں سواچودہ سوسال پہلے ظاہر ہوچکی ہے۔

(۹) اللہ تعالیٰ سب سے پہلے آدم علیہ السلام کی صورت میں ظاہرہوئے۔

ّ(۰۱) ویڈیوسی ڈی کے اندرایک شخص ملعون زمان کے قدموں میں گرکرکہہ رہاہے،کہ تومیرارب ہے،رب میراتوہے،رب میراتوہے،توپھرمیں تجھے چھوڑکر جاؤں کہاں؟

(۱۱) وہ یہ کہتاہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے دوسجدے کیے، ایک سجدہ کعبہ کی طرف منہ کرکے کیا، اوردوسراسجدہ پیٹھ کرکے،صحابہ نے پوچھاکہ یہ دوسجدے اس طرح کیوں کیے؟توآپ ﷺ نے فرمایا کہ کعبہ کی طرف اس لیے سجدہ کیاکہ یہ کتابوں کے نزول کی اورانبیاء کے نزول کی سرزمین ہے،اورمشرق کی طرف اس لیے سجدہ کیا   کہ یہ میری امت کے ولیوں کی سرزمین ہے۔

(۲۱) خداصرف بندے کی شکل میں موجودہے۔

(۳۱) اللہ کی کرسی،کرسی آسمان نہیں بلکہ بندے کاسینہ ہے۔

(۴۱) اللہ عاشق ہے اورگرم ہے، نبی معشوق ہے اورٹھنڈاہے۔

(۵۱) حضورﷺ کامقام محمود ہے،جہاں یہ صورت پوجاکے لائق اورسجدہ کے لائق ہوجائے اورحضورﷺ اب  اس مقام پرہیں۔

(۶۱) یہی صورت محمدی پہلے بھی سجدے کے لیے تھی، آج بھی یہ صورت محمدی مقام محمودپر(یعنی سجدے کے لائق ہے)

اس تفصیل کے بعد امورمسؤلہ یہ ہیں۔

(۱) ایسے عقائد ونظریات رکھنے والے شخص کاشرعی حکم کیاہے؟اورشرعی سزاکیاہے؟

(۲) اس کو اس کے تمام عقائد ونظریات میں سچاماننے والے کاکیاحکم ہے؟

(۳) اس کو اللہ کاولی ماننے والوں کاکیاحکم ہے؟

(۴) اس کااوراس کے ماننے والوں کانکاح ودیگرمعاملات میں حکم شرعی کیاہے؟

(۵) مارکیٹ میں سچے مسلمانوں کے ہوتے ہوئے اس قسم کے لوگوں سے بیع وشراء کرناکیساہے؟

الجواب باسم الملک الوہاب 

تحریرمیں ذکرکردہ تفصیل مبنی برحقیقت ہونے کی صورت میں مذکورہ عقائد کاحامل شخص کافراورزندیق ہے، اس کے تمام عقائد ونظریات قرآن وحدیث کے بالکل خلاف اورمتصادم ہیں،اسی طرح بعض فروعی مسائل نمازوغیرہ بھی اسلامی تعلیمات کے یکسرمخالف ہیں۔

”والکفرلغۃ الستر،وشرعاتکذیبہ ﷺ فی شیئ بماجاء بہ من الدین ضرورۃ“ ……(شامی:۳۲۲/۴)

لہٰذایہ شخص کافر بھی ہے اورزندیق بھی،کیونکہ زندیق اصطلاح شریعت میں ایسے آدمی کو کہتے ہیں جواسلام ظاہر کرتاہواورباطن میں عقائد کفریہ رکھتاہو،یاعقائد کفریہ رکھتاہواورغلط تاویلات سے اپنے ان کفریہ عقائدکو عقائداسلام قراردیتاہو۔

”وان کان مع اعترافہ بنبوۃ النبی ﷺ واظہار شعائرالاسلام یبطن عقائد ہ یکفربالاتفاق خص باسم الذندیق“……(شرح المقاصد:۹۶۲/۲)

”وقال الشاہ ولی اللہ ان المخالف للدین الحق ان لم یعترف بہ ولم یدعی بہ لاظاہراولاباطنا فہوکافر وان اعترف بلسانہ وقلبہ علی الکفر فہوالمنافق وان اعترف بہ ظاہرا لکنہ یفسربعض ماثبت من الدین ضرورۃ بخلاف مافسرہ الصحابۃ والتابعون واجتمعت علیہ الامۃ ہذا الذندیق“……(المسوی:۰۳۱/۲)
اس بدبخت نے اپنامذہب خودایجادکیاہے اورکئی لحاظ سے کفریہ اورگمراہ کن عقائد رکھتاہے،اورختم نبوت کامنکربھی ہے،اوراس کایہ کہنا کہ ”رسالت اویس قرنی کی طرف منتقل ہوگئی ہے“ختم نبوت کاانکارہے اورعقیدہ    ختم نبوت بنص قرآن وحدیث فرض ہے،رسول اللہ ﷺ کوخاتم الانبیاء والمرسلین اورآپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو خاتم الادیان سمجھنافرض ہے،آپ ﷺ کی ختم نبوت کامنکر اورآپ ﷺ کے بعدکسی نئے نبی آنے کامعتقدکافراوردائرہ اسلام سے خارج ہے۔
”ماکان محمدابااحدمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“……(سورۃ الاحزاب:۰۴)
”عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ مثلی ومثل الانبیاء کمثل قصراحسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الاموضع تلک اللبنۃ فکنت انافسددت موضع اللبنۃ ختم بی البنیان وختم بی الرسل وفی روایۃ فانااللبنۃ واناخاتم النبیین۔                    متفق علیہ“……(مشکوٰۃ:۱۲۵/۳)
”دعوی النبوۃ بعدالنبی ﷺ کفربالاجماع“……(شرح الفقہ الاکبر:۴۶۱)
اگریہ شخص پہلے مؤمن تھاپھرکافرہواتویہ مرتدہے،مرتدکاحکم یہ ہے کہ اس کوتین دن مہلت دینامستحب ہے اگریہ توبہ، استغفارکرکے تجدیدایمان کرلے توٹھیک ہے،ورنہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کوقتل کرے اوراللہ کی زمین کواس کے ناپاک وجودسے پاک کرے۔
چونکہ یہ لوگ کافراورمرتدہیں لہٰذا ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے تعلقات جیسے مناکحت اوران کے ساتھ کھاناپینا،ان کی تقریبات میں آناجانا یاان کوبلاناناجائز اورحرام ہے،لقولہ تعالی
”ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار“……(سورۃ ہود:۳۱۱)
اوراس بدبخت کو پیربناکراس کے عقائد کی پیروی کرناکفرہے،لہٰذاجوشخص اس کے عقائد جاننے کے باوجوداسکودرست سمجھ کر اس کی پیروی کرے تووہ خارج ازاسلام ہے،اوراگریہ عقیدہ اسلام کے بعداختیارکرے تومرتدکہلائے گا۔
”من ارتد عرض الحاکم علیہ الاسلام استحبابا علی المذہب لبلوغہ الدعوۃ وتکشف شبہتہ بیان لثمرۃ العرض ویحبس وجوبا وقیل ندباثلاثۃ ایام الی قولہ ان استمہل ان طلب المہلۃ والاقتلہ من ساعتہ الااذارجیٰ اسلامہ بدائع……وفی الشامیۃ قولہ وقیل ندباای وان استمہل وظاہرالروایۃ الاول وہوانہ لایمہل بدون استمہال کمافی البحر“…… (فتاویٰ شامی:۳۱۳،۲۱۳/۳)
”اطلقہ مشتمل قتل الامام وغیرہ ولکن ان قتل غیرہ اوقطع عضوامنہ بغیراذن الامام ادب بہ الامام فقط“……(۸۲۱/۵)
”ویحبس ثلاثۃ ایام فان اسلم والاقتل وفی الجامع الصغیر المرتدیعرض علیہ الاسلام حراکان اوعبدا فان ابی قتل الی قولہ وعن ابی حنیفۃ وابی یوسف انہ یستحب ان یؤجل ثلاثۃ ایام طلب ذلک اولم یطلب (الی قولہ)ولناقولہ تعالیٰ فاقتلوا المشرکین من غیرقید الامہال وکذا قولہ علیہ السلام من بدل دینافاقتلوہ ولانہ کافرحربی بلغتہ الدعوۃ فیقتل للحال من غیراستمہال وہذا لانہ لایجوز تاخیرالواجب لامرموہوم“……(ہدایہ:۰۰۶/۲)
واللہ تعالی اعلم بالصواب 






 


No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g