Thursday, October 20, 2022

اللہ تعالیٰ کے ہرجگہ موجودہونے کا کیامطلب ہے؟ What is the meaning of Allah Almighty's omnipresence?

 اللہ تعالیٰ کے ہرجگہ موجودہونے کا کیامطلب ہے؟

(مسئلہ نمبر۸۹) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تلبیس ابلیس میں فرقہ جہمیہ کی تیسری شاخ ملتزقہ کا عقیدہ بیان کیا اورفرمایا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ ہرجگہ موجودہے، ملتزقہ کے اس عقیدے کی وجہ سے ان کوگمراہ لکھاہے۔

(۱) دریافت طلب امریہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کااس بارے میں کہ (اللہ تعالیٰ ہرجگہ موجودہے)عقیدہ کیاہے؟

(۲) توپھراس آیت کا کیامطلب ہے؟

”الم تران اللہ یعلم مافی السموات ومافی الارض ط مایکون من نجوی ثلاثہ الاہورابعہم ولاخمسۃ الاہوسادسہم الخ“۔

(۳) اورامام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ہے جس میں وہ ایک دہری کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں،ان سوالوں میں ایک سوال یہ بھی تھاکہ اللہ تعالیٰ اس وقت کہاں ہیں؟توامام صاحب نے دودھ منگواکر اس دہری سے پوچھا کہ اس دودھ میں مکھن ہے تو دہری نے کہاکہ ہاں اس میں مکھن موجودہے تو امام صاحب نے پوچھا کہ کہاں ہے؟تودہری نے کہا کہ اس دودھ میں ہرجگہ موجودہے،توامام صاحب نے فرمایا کہ اللہ بھی ہرجگہ موجودہے الخ   تواس میں امام صاحب کے اس جواب (اللہ بھی ہرجگہ موجودہے)سے کیامراد ہے؟

الجواب باسم الملک الوہاب 

اہل السنۃ والجماعۃ کاعقیدہ یہ ہے کہ اللہ تبارت وتعالیٰ جس طرح اپنی ذات کے اعتبارسے کامل ہے اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ کی تمام صفات بھی کامل ہیں تواللہ تعالیٰ کے لیے ان صفات کو ثابت کیاجائے جواللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ثابت کی ہیں،اوران صفات کی نفی کی جائے،جن کی اللہ تعالیٰ نے نفی کی ہے صورت مسؤلہ میں ذکرکردہ صفت”کہ اللہ ہرجگہ موجودہے“اس بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کاعقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم وقدرت کے اعتبارسے ہرجگہ حاضروناظرہے، کوئی چیزکوئی جگہ اس کے علم وقدرت سے باہرنہیں ہے،وہ معنی ہرگزمرادنہیں جوملتزقہ نے لیاہے اورجس کی وجہ سے ان کو گمراہ کہاگیاہے اس لیے کہ اس صورت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے جسم اور مکان کوماننالازم آتاہے حالانکہ اللہ تعالیٰ مکان اورجسم دونوں سے پاک ومنزہ ہے۔

”اماالذاتیۃ فالحیاۃ والقدرۃ والعلم والکلام والسمع والبصروالارادۃ…………والعلم،ای من الصفات الذاتیۃ وہی صفۃ ازلیۃ تنکشف المعلومات عندتعلقہا بہافاللہ تعالیٰ عالم بجمیع الموجودات لایعزب عن علمہ مثقال ذرۃ فی العلویات والسفلیات وانہ تعالیٰ یعلم الجہر والسر ومایکون اخفی منہ من المغیبات بل احاط بکل شیء علما من الجزئیات والکلیات والموجودات والمعدومات والممکنات والمستحیلات فہوبکل شیء علیم من الذوات والصفات بعلم قدیم لم یزل موصوفابہ علی وجہ الکمال لایعلم حادث حاصل فی ذاتہ بالقبول والانفعال والتغیر والانتقال تعالی اللہ عن ذالک شانہ وتعظم عمانہاک برہانہ“……(شرح الفقہ الاکبر:۶۱،۷۱)

”ویاحاضریاناظرلیس یکفر،قولہ لیس یکفر فان الحضور بمعنی العلم شائع مایکون من نجوی ثلاثۃ الاہورابعہم والنظربمعنی الرؤیۃ الم یعلم بان اللہ یری فالمعنی یاعالم من یری بزازیۃ“……(ردالمحتارعلی درالمختار:۷۳۳/۳)

”وہو شیء لاکالاشیاء قال الشارح ویعلم من قولہ شیء لاکالاشیاء انہ سبحانہ لبس فی مکان من الامکنۃ ولافی زمان من الازمنۃ لان المکانوالزمان من جملۃ المخلوقات وہوسبحانہ کان موجودا فی الازل ولم یکن معہ شیء من الموجودات“……(شرح ملاعلی القاری علی الفقہ الاکبر: ۵۳)

اس آیت کریمہ کا مطلب بھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ باعتبارعلم کے بندوں کے ساتھ ہوتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی معیت بندوں کے ساتھ ذات اور مکان کے اعتبارسے نہیں بلکہ ایسی ہے کہ جیسی معیت انسان کے سایے کی انسان کے ساتھ یادریاکی موجوں کی دریاکے پانی کے ساتھ اوراسی طرح شکل کی آدمی کے ساتھ معیت ہے۔

”تستبعدشہاتہ سبحانہ وحضورہ عندعموم مظاہرہ ومصنوعاتہ                  (الم تر)ایہاالمعتبرالرائی ولم تعلم (ان اللہ)المحیط بالکل بالالوہیۃ والظہور (یعلم)بعلمہ الحضوری عموم (مافی السموات)ای الکائنات العلویۃ (ومافی الارض)ای الکائنات السفلیۃ کلیاتہا وجزئیاتہا          محسوسا تھا  ومعقولاتہا بحیث (مایکون)ویقع(من نجویٰ)وسرمعہودبین(ثلاثۃ)یسرون بہاویضمرونہافی نفوسہم (الاہو)سبحانہ(رابعہم)بل ہواعلم منہم بنجواہم واعرف بمافی ضمائرہم منہم بل ہوالعالم حقیقۃ (ولاخمسۃ)ای وکذالایقع نجوی من خمسۃ مکنونۃ فی ضمائرہم مصونۃ عن غیرہم (الاہو)سبحانہ (سادسہم)بل علمہ بہااتم واکمل من علمہم (و)بالجملۃ (لا)یقع (ادنی من ذلک) الجمع(ولااکثر)منہ (الاہو)سبحانہ (معہم)بل العالم العارف ہوسبحانہ بذاتہ ووحدتہ الاانہ ظہر فی اثباتہم وہویأتیہم لاعلی سبیل المقارنۃ الذاتیۃ والزمانیۃ ولاعلی سبیل الحلول والاتحاد بل علی طریق معیۃ الظل مع ذی الظل ومعیۃ الامواج مع الماء والصورمع ذی الصورۃ ولایقید ایضا معینۃ بالمکان بل (این ماکانوا)کان معہم لاستواء عموم الامکنۃ دونہ سبحانہ وتنزہہ عن المکان مطلقا“……(تفسیرالجیلانی:۶۵۱/۵)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

٭٭٭٭٭٭٭



What is the meaning of Allah Almighty's omnipresence?

(Problem No. 89) Peace be upon you and may God's mercy and blessings be upon you

What do the muftis say about this problem that Imam Ibn Al-Jawzi, may God have mercy on him, described the belief of the third branch of the Jahmiyyah sect, Mutzaqa, in his book Talbis Iblis and said that their belief is that "Allah is present everywhere, this belief of Mutzaqa" Because of this, they have been written in a misleading way.

(1) It is important to inquire that what is the belief of Ahl as-Sunnat wal-Jamaat about (Allah is present everywhere)?

(2) Then what is the meaning of this verse?

”الم تران اللہ یعلم مافی السموات ومافی الارض ط مایکون من نجوی ثلاثہ الاہورابعہم ولاخمسۃ الاہوسادسہم الخ“۔

(3) And there is a famous incident of Imam Azam Abu Hanifah, may God have mercy on him, in which he answers the questions of a Dahri, one of these questions was that where is Allah at this time? Imam Sahib ordered milk and asked this Dahri. If there is butter in the milk, then Dahri said yes, there is butter in it, then Imam Sahib asked where is it? Then Dahari said that it is present everywhere in this milk, then Imam Sahib said that Allah is also present everywhere etc. What is meant by Allah is also present everywhere?

Answer by Basim al-Mulk al-Wahhab

The belief of Ahl al-Sunnah wal Jama’ah is that just as Allah Tabarak wa Ta’ala is perfect in terms of Himself, in the same way all the attributes of Allah Ta’ala Tabarak and Ta’ala are also perfect. To be negated, which Allah has negated is the attribute mentioned in the form of misulah "that Allah is present everywhere". is not out ofThat meaning is not at all what is taken by Multazqa and because of which they are called misguided, because in this case it is necessary to accept the body and the house for Allah Tabarak wa Taala, although Allah Ta'ala is pure and free from both the house and the body.

”اماالذاتیۃ فالحیاۃ والقدرۃ والعلم والکلام والسمع والبصروالارادۃ…………والعلم،ای من الصفات الذاتیۃ وہی صفۃ ازلیۃ تنکشف المعلومات عندتعلقہا بہافاللہ تعالیٰ عالم بجمیع الموجودات لایعزب عن علمہ مثقال ذرۃ فی العلویات والسفلیات وانہ تعالیٰ یعلم الجہر والسر ومایکون اخفی منہ من المغیبات بل احاط بکل شیء علما من الجزئیات والکلیات والموجودات والمعدومات والممکنات والمستحیلات فہوبکل شیء علیم من الذوات والصفات بعلم قدیم لم یزل موصوفابہ علی وجہ الکمال لایعلم حادث حاصل فی ذاتہ بالقبول والانفعال والتغیر والانتقال تعالی اللہ عن ذالک شانہ وتعظم عمانہاک برہانہ“……(شرح الفقہ الاکبر:۶۱،۷۱)

”ویاحاضریاناظرلیس یکفر،قولہ لیس یکفر فان الحضور بمعنی العلم شائع مایکون من نجوی ثلاثۃ الاہورابعہم والنظربمعنی الرؤیۃ الم یعلم بان اللہ یری فالمعنی یاعالم من یری بزازیۃ“……(ردالمحتارعلی درالمختار:۷۳۳/۳)

”وہو شیء لاکالاشیاء قال الشارح ویعلم من قولہ شیء لاکالاشیاء انہ سبحانہ لبس فی مکان من الامکنۃ ولافی زمان من الازمنۃ لان المکانوالزمان من جملۃ المخلوقات وہوسبحانہ کان موجودا فی الازل ولم یکن معہ شیء من الموجودات“……(شرح ملاعلی القاری علی الفقہ الاکبر: ۵۳)

اس آیت کریمہ کا مطلب بھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ باعتبارعلم کے بندوں کے ساتھ ہوتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی معیت بندوں کے ساتھ ذات اور مکان کے اعتبارسے نہیں بلکہ ایسی ہے کہ جیسی معیت انسان کے سایے کی انسان کے ساتھ یادریاکی موجوں کی دریاکے پانی کے ساتھ اوراسی طرح شکل کی آدمی کے ساتھ معیت ہے۔

”تستبعدشہاتہ سبحانہ وحضورہ عندعموم مظاہرہ ومصنوعاتہ                  (الم تر)ایہاالمعتبرالرائی ولم تعلم (ان اللہ)المحیط بالکل بالالوہیۃ والظہور (یعلم)بعلمہ الحضوری عموم (مافی السموات)ای الکائنات العلویۃ (ومافی الارض)ای الکائنات السفلیۃ کلیاتہا وجزئیاتہا          محسوسا تھا  ومعقولاتہا بحیث (مایکون)ویقع(من نجویٰ)وسرمعہودبین(ثلاثۃ)یسرون بہاویضمرونہافی نفوسہم (الاہو)سبحانہ(رابعہم)بل ہواعلم منہم بنجواہم واعرف بمافی ضمائرہم منہم بل ہوالعالم حقیقۃ (ولاخمسۃ)ای وکذالایقع نجوی من خمسۃ مکنونۃ فی ضمائرہم مصونۃ عن غیرہم (الاہو)سبحانہ (سادسہم)بل علمہ بہااتم واکمل من علمہم (و)بالجملۃ (لا)یقع (ادنی من ذلک) الجمع(ولااکثر)منہ (الاہو)سبحانہ (معہم)بل العالم العارف ہوسبحانہ بذاتہ ووحدتہ الاانہ ظہر فی اثباتہم وہویأتیہم لاعلی سبیل المقارنۃ الذاتیۃ والزمانیۃ ولاعلی سبیل الحلول والاتحاد بل علی طریق معیۃ الظل مع ذی الظل ومعیۃ الامواج مع الماء والصورمع ذی الصورۃ ولایقید ایضا معینۃ بالمکان بل (این ماکانوا)کان معہم لاستواء عموم الامکنۃ دونہ سبحانہ وتنزہہ عن المکان مطلقا“……(تفسیرالجیلانی:۶۵۱/۵)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

٭٭٭٭٭٭٭


No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g