فقہ حنفی بطورقانون
خلفاء عباسیہ کے دور سے لے کر گذشتہ صدی کے شروع ہونے تک اکثر اسلامی ممالک میں فقہ حنفی قانون اسلامی کے طور پر نافذ اور رائج رہی ہے ،اوریوں تقریباً ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک فقہ حنفی بطور اسلامی قانون نافذرہی ہے ، برصغیرمیں اسلام لانے والے حکمرانوں اورمجاہدین کا تعلق بھی فقہ حنفی سے تھا اس لیے یہاں اسلام کا تعارف فقہ حنفی کی شکل میں ہواہے ،یہی وجہ ہے قضاء وافتاء کا سلسلہ فقہ حنفی سے جڑاہواتھا،پھرسلطنت مغلیہ کے دورمیں فقہ حنفی ہی اسلام قانون کے طور پر نافذ رہی ہے ۔
فتویٰ کی اہمیت :
افتاء ایک عظیم الشان منصب ہے،اس کی فضیلت واہمیت ہر شخص پر روزروشن کی طرح عیاں ہے اورفقہاء کرام اور مفتیان عظام کی وہ جماعت جنہوں نے اپنے آپ کو استنباط احکام اور استخراج مسائل کے لئے مختص کیا اور حلال وحرام کو معلوم کرنے کے لیے قواعد وضوابط مرتب کیے وہ تاریک رات میں ستاروں کی مانند ہیں اوریہی لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کے حقیقی وارث ہیں،نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ۔
’’العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولادرہما وانما ورثوا العلم فمن اخذبہ فقداخذ بحظ وافر‘‘۔۔۔(رواہ الترمذی فی کتاب العلم ،باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ )
قرآن کریم میں اولوالامر کی اطاعت اور فرمانبرداری کو واجب اورضروری قراردیاگیاہے’’یایہاالذین آمنوا اطعیوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم‘‘(اے ایمان والو! اطاعت کرواللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اوراولی الامرکی) ایک تفسیر کے مطابق ’’اولوالامر‘‘سے مراد حضرات علماء اور فقہاء ہیں ۔
علامہ ابوبکرجصاص حنفی فرماتے ہیں
فتویٰ کی اہمیت :
افتاء ایک عظیم الشان منصب ہے،اس کی فضیلت واہمیت ہر شخص پر روزروشن کی طرح عیاں ہے اورفقہاء کرام اور مفتیان عظام کی وہ جماعت جنہوں نے اپنے آپ کو استنباط احکام اور استخراج مسائل کے لئے مختص کیا اور حلال وحرام کو معلوم کرنے کے لیے قواعد وضوابط مرتب کیے وہ تاریک رات میں ستاروں کی مانند ہیں اوریہی لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کے حقیقی وارث ہیں،نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ۔
’’العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولادرہما وانما ورثوا العلم فمن اخذبہ فقداخذ بحظ وافر‘‘۔۔۔(رواہ الترمذی فی کتاب العلم ،باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ )
قرآن کریم میں اولوالامر کی اطاعت اور فرمانبرداری کو واجب اورضروری قراردیاگیاہے’’یایہاالذین آمنوا اطعیوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم‘‘(اے ایمان والو! اطاعت کرواللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اوراولی الامرکی) ایک تفسیر کے مطابق ’’اولوالامر‘‘سے مراد حضرات علماء اور فقہاء ہیں ۔
علامہ ابوبکرجصاص حنفی فرماتے ہیں
اختلف فی تاویل اولی الامر فروی عن جابر بن عبداللہ وابن عباس روایۃ والحسن وعطاء ومجاہد انہم اولوالفقہ والعلم ‘‘۔۔۔(احکام القرآن للجصاص :۲۱۰/۲)
اسی طرح بعض آیتوں میں علماء کی اتباع اورامورشرعیہ کے معلوم کرنے میں ان کی طرف مراجعت کو ضروری قراردیاگیاہے ،قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتے ہیں ۔
’’فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لاتعلمون ‘‘
’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگرتم نہیں جانتے ‘‘
اسی اہمیت اور عظمت کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ امت کا ایک طبقہ قرآن وسنت اور تفقہ فی الدین میں مہارت حاصل کرکے امت کے باقی طبقات کی رہنمائی کے فرائض انجام دے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں ’’فلولانفرمن کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ‘‘اس آیت کا تقاضابھی یہی ہے کہ قرآن وسنت اور فقہ پر مہارت تامہ رکھنے والے حضرات کے ایک طبقے کا وجودضروری ہے جوہر زمانے میں امت کی صحیح راہنمائی کرتارہے ۔

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g