تابعین کے دورمیں فتویٰ
تعلیم وتربیت اورفقہ وفتویٰ کا سلسلہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے بعدبھی جاری رہا چنانچہ حضرات صحابہ کرام کے شاگردوں یعنی تابعین نے اس کام کو احسن طریقے سے سنبھالا ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دورمبارک میں بفضل خداوندی بہت فتوحات حاصل ہوئیں ،اس وجہ سے حضرات تابعین مختلف بلاداسلامیہ میں دین متین کی خدمت سرانجام دے رہے تھے،اکثربلاد اسلامیہ میں ایسے حضرات مقررتھے جولوگوں کی رہنمائی کرتے،مدینہ منورہ میں حضرت سعیدبن المسیب ،حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ،حضرت عروہ بن الزبیر،حضرت عبیداللہ ،حضرت قاسم بن محمد،حضرت سلیمان بن یسار اورحضرت خارجہ بن زید انہیں کو فقہاء سبعہ بھی کہاجاتاہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دورمبارک میں بفضل خداوندی بہت فتوحات حاصل ہوئیں ،اس وجہ سے حضرات تابعین مختلف بلاداسلامیہ میں دین متین کی خدمت سرانجام دے رہے تھے،اکثربلاد اسلامیہ میں ایسے حضرات مقررتھے جولوگوں کی رہنمائی کرتے،مدینہ منورہ میں حضرت سعیدبن المسیب ،حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ،حضرت عروہ بن الزبیر،حضرت عبیداللہ ،حضرت قاسم بن محمد،حضرت سلیمان بن یسار اورحضرت خارجہ بن زید انہیں کو فقہاء سبعہ بھی کہاجاتاہے۔
ان کے علاوہ حضرت حسن بصریؒ ،حضرت ابراہیم نخعیؒ ، حضرت مسروق ؒ ،حضرت علقمہ ؒ بھی افتاء کی خدمات سرانجام دیتے تھے ،اس کے بعددوسری صدی ہجری میں فقہ وافتاء کے بڑے بڑے ائمہ اور مجتہدین پیداہوئے ، جنہوں نے فقہ وفتاویٰ اوراجتہاد واستنباط کے حوالے سے کارہائے نمایاں انجام دیے،چنانچہ انہی مجتہدین میں سے چارحضرات امام اعظم ابوحنیفہؒ ،امام مالک ؒ ، امام شافعی ؒ اورامام احمدبن حنبل ؒ کی تدوین کردہ فقہ کو امت کے سواداعظم نے قبول کیا ہے ۔
امام اعظم ابوحنیفہ ؒ :
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ بھی تابعین میں سے ہیں آپ کی پیدائش کے وقت کچھ صحابہ کرام کوفہ میں موجودتھے ،اور وہ حضرات صحابہ کرام یہ ہیں ،حضرت ابن نفیل ،حضرت واثلہ ،حضرت عبداللہ بن عامر ،حضرت ابن ابی اوفی،حضرت عتبہ ، حضرت مقداد،حضرت ابن بسر ،حضرت سہل بن سعد ،حضرت انس ،حضرت عبدالرحمن ابن یزید،حضرت محمود بن لبید،حضرت محمود بن الربیع ،حضرت ابوامامہ ،حضرت ابوالطفیل ،حضرت عمروبن حریث ، حضرت عمرو بن سلمہ ،حضرت ابن عباس ،حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ۔
آٹھ صحابہ کرام ایسے ہیں جن سے امام صاحب نے روایت نقل کی ہے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
(۱)حضرت انس رضی اللہ عنہ (۲)حضرت جابر رضی اللہ عنہ(۳)حضرت ابی اوفی رضی اللہ عنہ(۴)حضرت عامر رضی اللہ عنہ(۵)حضرت ابن انیس رضی اللہ عنہ(۶)حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ (۷)حضرت ابن جزء رضی اللہ عنہ (۸)حضرت عائشہ بنت عجرد رضی اللہ تعالی عنہم وعنہن ۔
متقدمین اور متاخرین فقہاء امت نے تفقہ فی الدین کے سلسلہ میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کی جلالت وعظمت شان کا اعتراف کیا ہے ،آپ ؒ کا عظیم الشان کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے فقہ حنفی کو قرآن وسنت اورتعامل امت کی روشنی میں شورائی طریقے پرمدون فرمایاہے ،کیونکہ آپ نے اپنی تدوین فقہ کی مجلس میں وقت کے بڑے بڑے فقہاء کو شامل کیاتھا ۔
امام صاحب کے شاگرد :
اللہ تعالی نے امام صاحب کو ایسے شاگردعطافرمائے تھے کہ جنہوں نے شاگردی کا حق اداکیا اور امام صاحب کے علوم کو دنیاکے چاروں اطراف تک پہنچادیا ،ان اطراف میں امام صاحب کے علاوہ کسی دوسرے امام کے مسلک سے لوگ واقف نہیں تھے ۔
امام اعظم ابوحنیفہ ؒ :
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ بھی تابعین میں سے ہیں آپ کی پیدائش کے وقت کچھ صحابہ کرام کوفہ میں موجودتھے ،اور وہ حضرات صحابہ کرام یہ ہیں ،حضرت ابن نفیل ،حضرت واثلہ ،حضرت عبداللہ بن عامر ،حضرت ابن ابی اوفی،حضرت عتبہ ، حضرت مقداد،حضرت ابن بسر ،حضرت سہل بن سعد ،حضرت انس ،حضرت عبدالرحمن ابن یزید،حضرت محمود بن لبید،حضرت محمود بن الربیع ،حضرت ابوامامہ ،حضرت ابوالطفیل ،حضرت عمروبن حریث ، حضرت عمرو بن سلمہ ،حضرت ابن عباس ،حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ۔
آٹھ صحابہ کرام ایسے ہیں جن سے امام صاحب نے روایت نقل کی ہے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
(۱)حضرت انس رضی اللہ عنہ (۲)حضرت جابر رضی اللہ عنہ(۳)حضرت ابی اوفی رضی اللہ عنہ(۴)حضرت عامر رضی اللہ عنہ(۵)حضرت ابن انیس رضی اللہ عنہ(۶)حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ (۷)حضرت ابن جزء رضی اللہ عنہ (۸)حضرت عائشہ بنت عجرد رضی اللہ تعالی عنہم وعنہن ۔
متقدمین اور متاخرین فقہاء امت نے تفقہ فی الدین کے سلسلہ میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کی جلالت وعظمت شان کا اعتراف کیا ہے ،آپ ؒ کا عظیم الشان کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے فقہ حنفی کو قرآن وسنت اورتعامل امت کی روشنی میں شورائی طریقے پرمدون فرمایاہے ،کیونکہ آپ نے اپنی تدوین فقہ کی مجلس میں وقت کے بڑے بڑے فقہاء کو شامل کیاتھا ۔
امام صاحب کے شاگرد :
اللہ تعالی نے امام صاحب کو ایسے شاگردعطافرمائے تھے کہ جنہوں نے شاگردی کا حق اداکیا اور امام صاحب کے علوم کو دنیاکے چاروں اطراف تک پہنچادیا ،ان اطراف میں امام صاحب کے علاوہ کسی دوسرے امام کے مسلک سے لوگ واقف نہیں تھے ۔
’’حسبک من مناقبہ اشتہار مذہبہ ‘‘
’’قولہ اشتہار مذہبہ ای فی عامۃ بلاد الاسلام بل فی کثیر من الاقالیم والبلاد لایعرف الامذہبہ کبلاد الروم والہند والسند وماوراء النہر وسمرقند‘‘۔۔۔(ردالمحتار :۱۴۰/۱)
علامہ شامی کی تحقیق کے مطابق امام اعظم ؒ کے شاگردوں کی تعداد چارہزار ہے ۔
’’وروی انہ نقل مذہبہ نحومن اربعۃ آلاف نفر‘‘۔۔۔(بحوالہ بالا)
علامہ شامی کی تحقیق کے مطابق امام اعظم ؒ کے شاگردوں کی تعداد چارہزار ہے ۔
’’وروی انہ نقل مذہبہ نحومن اربعۃ آلاف نفر‘‘۔۔۔(بحوالہ بالا)

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g