قبر میں کیاکیاسوال کئے جائیں گے؟
مسئلہ نمبر۱۴:) ہمارے محلے کے مسجد کاامام اپنی تقریر میں یہ کہتاہے کہ قبر میں صرف یہ سوال کیاجائے گا’’من نبیک‘‘ کہ تمہارانبی کون ہے ،اس کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں ہوگا،جو اس کاجواب دے گاوہ کامیاب ہوگا،ایسے امام کے متعلق کیاحکم ہے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ قبر میں کیاکیاسوال کئے جائیں گے۔
الجواب باسم الملک الوہاب
اس مسئلہ میں دونوں طرح کی روایات کتب احادیثِ صحاح وغیرہ میں بکثرت موجود ہیں ،بعض میں اختصار ہے ان میں قبر کے اندر منکرنکیر کاسوال نبی کے متعلق مذکور ہے ، جبکہ دوسری روایات میں تفصیل ہے ان میں’’من ربک من نبیک ، مادینک ‘‘وغیر ہ کے الفاظ مذکورہے ،اس دوسری قسم کی روایات کو دیکھتے ہوئے اہلسنت والجماعت کاعقیدہ یہی ہے کہ قبر میں سوال تینوں کے بارے میں ہوگااور جب ان تینوں کاجواب صحیح طور پر دیاجائے گاتو چھٹکاراہوگا،لہذااس عقیدہ کی مخالفت کرنے والے کایہ عقیدہ اہل سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف اور کم علمی پر مبنی ہے ،۔
’’وفی الحدیث عن أنس عن النبی ﷺ قال العبد اذاوضع فی قبرہ وتولی وذہب أصحابہ حتی أنہ لیسمع قرع نعالہم أتاہ ملکان فأقعداہ فیقولان لہ ماکنت تقول فی ہذاالرجل محمدالخ۔‘‘۔۔۔(بخاری:۱؍۱۷۸)
’’ وہذاالحدیث قدورد أیضاً فی کثیر من کتب الحدیث بألفاظ مختلفۃ اختلافاقلیلامنہا‘‘(البخاری:۱؍۱۸۴)(ومنہاالمشکوۃ
’’ وہذاالحدیث قدورد أیضاً فی کثیر من کتب الحدیث بألفاظ مختلفۃ اختلافاقلیلامنہا‘‘(البخاری:۱؍۱۸۴)(ومنہاالمشکوۃ
المصابیح:۱/ص۲۵)( ومنہا الترمذی:۱؍۳۳۲ )(والنسائی :۱؍۲۸۸)
’’ وذکر الشیخ العلامۃ الآلوسی فی تفسیرہ تحت قولہ تعالیٰ یثبّت اللہ الذین آمنوا۔(الحدیث)وأخرج ابن أبی شیبۃ عن البراء بن عازب أنہ قال فی الآیۃ التثبیت فی الحیوۃ الدنیااذجاء الملکان الی الرجل فی القبر فقالالہ من ربک قال ربی اللہ قالاومادینک قال دینی الاسلام قال و من نبیک قال نبیی محمدﷺ(تفسیر روح المعانی:۱۳؍۲۱۷)
’’ وذکر الشیخ العلامۃ الآلوسی فی تفسیرہ تحت قولہ تعالیٰ یثبّت اللہ الذین آمنوا۔(الحدیث)وأخرج ابن أبی شیبۃ عن البراء بن عازب أنہ قال فی الآیۃ التثبیت فی الحیوۃ الدنیااذجاء الملکان الی الرجل فی القبر فقالالہ من ربک قال ربی اللہ قالاومادینک قال دینی الاسلام قال و من نبیک قال نبیی محمدﷺ(تفسیر روح المعانی:۱۳؍۲۱۷)
’’ وہذاالحدیث قد ورد أیضافی الکتب الآتیۃ‘‘
(منہاالتفسیر المسمی بالجامع لأحکام القرآن:۹؍۳۶۲)
( النسائی:۱؍۲۹۰) (المشکوۃ:۱/۱۴۴)( التر مذی:۲؍۶۱۳)
(منہاالتفسیر المسمی بالجامع لأحکام القرآن:۹؍۳۶۲)
( النسائی:۱؍۲۹۰) (المشکوۃ:۱/۱۴۴)( التر مذی:۲؍۶۱۳)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g