کیاجہاد نہ کرنے والاکافرہے؟
مسئلہ نمبر۱۵:) کیاایساشخص جس نے زندگی میں کبھی جہاد نہیں کیاباوجود اس کے کہ جہاد فرض عین ہو چکاہے لیکن اس نے اس بات کو یعنی ترک جہاد کو سخت گناہ سمجھااور اپنی کمزوری سمجھا،کیاصحابہ کرام(رضی اللہ عنہم)،مجتہدین ، آئمہ کرام کے نزدیک ایساشخص دوزخ سے نکل کر ایک دن جنت میں جائے گایہ سوال اس شخص کے بارے میں ہے جس نے کسی شرعی حکم کاانکار نہیں کیااور سچے دل سے حضور ﷺ کی رسالت اور باتوں کی تصدیق کی جو ضروری تھیں۔
الجواب باسم الملک الوہاب
صورت مرقومہ میں یہ شخص چونکہ مسلمان ہے اور جہاد کاانکار بھی نہیں کرتااور جہاد میں شریک نہ ہونے پرنادم بھی ہے لہذااس شخص کااگر خاتمہ بالایمان ہواتو ایک وقت جنت میں ضرور داخل ہو گا۔
’’و ماکان من السیئات دون الشرک والکفر و لم یتب عنھاحتیٰ مات مؤمنافانہ فی مشیءۃ اللہ تعالیٰ ان شاء عذبہ و ان شاء عفاعنہ و لم یعذبہ بالنار ابدا(و ماکان من السیئات)أی المعاصی جمیعا(دون الشرک)أی الاشراک خصوصا(و الکفر)أی عموما(و لم یتب عنھا) أی عن السیئات صغیرھا و کبیرھادون مااستثنیٰ منھا(حتیٰ مات مؤمنا) أی غیر تائب(فانہ فی مشیءۃ اللہ تعالیٰ) أی تحت تعلق ارادتہ سبحانہ بعذابہ علیھاأو عفوہ عنہاکمابینہ بقولہ(ان شاء عذبہ) أی بعد لہ علی قدر استحقاق عقابہ(و ان شاء عفاعنہ) أی بفضلہ و لو وقع شفاعۃ فی بابہ(ولم یعذبہ بالنار ابدا) بل یدخلہ الجنۃ و یجعلہ فیھامخلدا‘‘۔۔۔(شرح ملاعلی القاری علی الفقہ الأکبر:۸ ۷)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g