عیسائیت کے فارم پر دستخط کرنا
مسئلہ نمبر۱۶:) زید بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہے چنانچہ بیرون ملک نیشنلٹی(شہریت) حاصل کر نے کے لیے کاغذی شادی(پیپر میرج)ضروری ہے ، اس لیے زید نے نیشنلٹی حاصل کرنے کے لیے ایک عیسائی لڑکی سے پیپر میرج کی ہے ، حال یہ ہے کہ زید پاکستان میں شادی شدہ ہے ،پیپر میرج کرتے ہوئے جس فارم پر دستخط دولہاسے کرواتے ہیں اس میں یہ شرط ہے کہ شادی کرنے والایہ اقرار کرتاہے کہ وہ عیسائی ہے۔
جواب طلب امور یہ ہے:
۱
جواب طلب امور یہ ہے:
۱
۔ کہ زیدکاسابقہ نکاح اس فعل سے برقرار ہے یانہیں ؟
۲
۲
۔ جب کہ زید کاکہناہے کہ اس کی نیت پیپر میرج پر دستخط کرتے وقت صرف نیشنلٹی حاصل کرناتھی ، اب بھی اس وقت بھی وہ مذہب اسلام کو دل سے اچھاسمجھتاہے؟
۳
۳
۔ زید کااس فعل کی وجہ سے اسلام باقی ہے یانہیں ؟
الجواب باسم الملک الوہاب
عیسائیوں کافارم پر کرنااپنے کفر وارتداد پر دستخط کرناہے ،جہاں تک معاشی مسئلے کا تعلق ہے تو معاش کی خاطر ایمان کو فروخت نہیں کیاجاسکتا،چونکہ یہ شخص عیسائیت کے فارم پر دستخط کر چکاہے اس لیے کفر پر راضی ہو چکاہے ، کیوں کہ یہاں کوئی شرعی اکراہ نہیں ، اس لیے اس کاسابقہ نکاح ٹوٹ چکاہے ،اس کے بیوی بچوں کو چاہیے کہ اس سے قطع تعلق کر لیں اور اگر یہ تائب ہو جائے تو اس کو اپنے ایمان کی بھی تجدید کرنی چاہیے اور نکاح بھی دوبارہ پڑھواناضروری ہے۔
’’لأنہ رضی بکفر نفسہ والرضابکفر نفسہ کفر بلانزاع‘‘۔۔۔(البزازیۃ علی ہامش الہندیۃ: ۶؍۳۲۶) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g