Tuesday, April 24, 2018

فتویٰ دینے میں احتیاط

فتویٰ دینے میں احتیاط
فتویٰ نویسی کاکام جہاں عظیم الشان اورباعث اجروثواب ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ انتہائی نازک بھی ہے، اگرمسئلہ درست بتایاتو اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآہوکر اجروثواب کا مستحق ہوگا اوراگرخدانخواستہ مسئلہ غلط بتایا تومستفتی کے عمل کاوبال بھی اسی پر ہوگا ،اسی بناء پر فتویٰ دینے میں احتیاط بہت ضروری ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جوشخص بغیر حجت اوردلیل کے فتویٰ دے گا اس پر عمل کرنے والے کاگناہ بھی اسی مفتی پر ہوگا ۔
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ علم کو(آخری زمانہ میں)اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں(کے دل ودماغ)سے اسے نکال لے بلکہ علم اس طرح اٹھالے گا کہ علماء کو (اس دنیاسے)اٹھالے گا ،یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا ،تولوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ،ان سے مسئلے پوچھنے جائیں گے اوروہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے ،لہذا وہ خودبھی گمراہ ہوں گے اورلوگوں کوبھی گمراہ کریں گے ۔
امام شعبی،حسن بصری اور ابوحسین تابعی رحمہم اللہ سے منقول ہے وہ لوگوں سے کہاکرتے تھے کہ تم لوگ بعض مرتبہ ایسے مسئلہ کے بارے میں فتوی دیتے ہو کہ اگراس جیسا مسئلہ حضرت عمربن الخطابؓ کے سامنے پیش آتاتو وہ اس کا جواب معلوم کرنے کے لیے تمام اہل بدر کو جمع فرماتے اوراکیلے اپنی رائے پر اعتماد نہ فرماتے۔
امام اعظم ابوحنیفہ ؒ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اگرعلم ضائع ہونے کا خوف اوراس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت کااندیشہ نہ ہوتا تومیں ہرگزفتویٰ نہ دیتا کہ وہ عافیت میں ہو اور بوجھ مجھ پر ہو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ منصب افتاء کی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے اس راہ میں پھونک پھونک کرقدم اٹھانا پڑتاہے۔
’’لاادری‘‘
تحقیق اورتتبع اور تلاش کے بعد اگرمسئلہ کا حکم معلوم نہ ہو یاحکم معلوم ہو لیکن اس پر تشفی اور شرح صدر نہیں تو مفتی پر اس کاجواب دینا ضروی نہیں بلکہ مفتی صاف کہہ دے کہ مجھے اس کا جواب معلوم نہیں ،اس طرح کہنے سے اس کی شان اور عزت ومرتبہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ،بلکہ اس سے شان اوربلند ہوگی ،اس لیے کہ یہ قلبی طہارت ،دینی قوت اور تقویٰ کی واضح دلیل ہے ۔
یہ اصطلاح خود سرورکائنات جناب نبی اکرم ﷺ اورحضرت جبرئیل علیہ السلام وفقہاء کرام سے مروی ہے ، لہذا مسئلہ معلوم نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے غلط سلط جواب دینے کی کوشش کرنا انتہائی غلط طریقہ بلکہ قرآن وسنت اور فقہاء کرام کے طرز عمل سے ناواقفیت بلکہ جہالت کی دلیل ہے ،کیونکہ اسلاف کا یہ طرز عمل تھا کہ اگرانہیں مسئلہ معلوم ہوتاتوسائل کے سوال کا جواب دیتے اوراگرمعلوم نہ ہوتاتوواضح طورپر کہہ
دیتے کہ ہمیں یہ مسئلہ معلوم نہیں ہے ۔

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g