نظریہ ڈارون اور دیگر غلط نظریات کو ترویج دینے والے شخص کاحکم
مسئلہ نمبر۱۸) ان عبارات کاقائل اوررضامندی کے ساتھ پڑھنے پڑھانے والے شخص شرع میں کیاحکم رکھتاہے، نیز ان عبارات کی ترویج واشاعت کی کوشش کرنے والاعندالشرع کیساہوگا؟
۱
۔ آثار یہ بھی ظاہر کررہے ہیں کہ طبی تحقیقات کانتیجہ ایک دن موت کے حتمی خاتمہ کی شکل میں نمودار ہوگا۔
۲
۔ کبھی کئی کئی خاندان اکٹھے رہاکرتے تھے ،وہ زمانہ بھی آیاجب خاندان سے مرادخاوند بیوی سے آزاد اور بیوی ،خاوند سے لاپرواہ ہو، کوئی اپنی حال میں مست نظر آنے لگا،مستقبل میں ان رجحان میں تیزی سے تبدیلی آنے
کاامکان ہے ،ممکن ہے آہستہ آہستہ ہم ہی لوگ نوری مخلوق،جن یافرشتہ بن جائیں گے ،آخر انسان کی موجودہ شکل بھی تو صدیوں کافاصلہ طے کرکے یہاں تک پہنچی ہے،ایسامعلوم ہوتاہے کہ حیاتیاتی ارتقاء کے بارے میں ڈارون کانظریہ جاری وساری رہے گا(ڈارون کے نزدیک انسان بندر کی ارتقائی شکل ہے)
۳
۔ جس طرح ماضی کے مقابلے میں آج کاجدید معاشرہ زیادہ علم رکھتاہے اسی طرح مستقبل میں معرض وجود میں آنے والے معاشروں میں علم اور بھی زیادہ وسیع ہوگا۔
۴
۔ عالمی معاشرہ میں جنسی تفریق کومعتبر نہیں سمجھاجاتا،مرداور عورت ہر لحاظ سے برابر حیثیت کے مالک قرار دئے گئے ہیں۔
۵
۔ اقوام متحدہ خوش قسمتی سے عالمی معاشرہ کو ترقی وفلاح کے لیے ایک ایسے ادارے کی مرکزی قیادت بھی میسرآگئی ہے جودو سابقہ صدیوں کے معاشروں کو دستیاب نہیں تھی۔
۶
۔ موجودہ معاشرہ میں وحدت ،فکر وعمل بین الاقوامی سطح پر موجود آج اقوام متحدہ کاوجود بہت بڑی نعمت ہے۔
۷
۔ سائنسدان نے اپنے علم اور صوفیوں نے اپنے عرفان میں دوسرں کو شریک کیاتو عوام الناس میں انہوں نے گھر کیاان کے خیالات بدلے ،دقیانوسیت ختم ہوئی ،جدیدیت پیداہوئی، گمراہی تمام ہوئی علم وعرفان کانور پھیلا،ظلمت دم توڑگئی ایمان کاپھر یراالہرایااور لمحہ بہ لمحہ ہر طرف یہ احساس دلوں میں جاگزیں ہواکہ میں شہادت دیتاہوں کہ اللہ ایک ہے شہادت کے ذریعے اور تجربہ کی وساطت سے اللہ تک پہچننے کازمانہ یہی موجودہ زمانہ ہے گزشتہ زمانوں میں ولی مرشد کامل اور نبی لوگوں کو اللہ پر ایمان بالغیب کی تلقین کرتے تھے۔
۸
۔ موجودہ دور کاانسان خواہ وہ کہیں پر رہائش رکھتاہے بہر حال تمام گزشتہ تمدنوں کے باسیوں سے کہیں زیادہ باعلم ہے ،باعلم ہونے کی یہی خاصیت موجودہ عالمی معاشرہ کاپہلاوصف ہے۔
۹
۔ آج کاانسان قناعت پسندی کو ایک دقیانوسی تصور خیال کرتاہے۔ تقدیر کانصب العین اپنی افادیت کھو چکاہے،اب موجودہ معاشر ہ اسی بات کاقائل ہے کہ انسان خود اپنی تقدیر کامالک ہے، گزشتہ معاشروں میں انسان نے خواب دیکھاتھاجو کچھ کہ دیکھاجو سناافسانہ تھا،مگر آج کاانسان خوابوں کی تعمیر کاقائل ہے۔
۱۰
۔ موجودہ معاشرے میں رہنے والاانسان ماضی کے ہر معاشرہ میں رہنے والے ہر انسان سے زیادہ باعلم ہے۔
۱۱
۔ ایک زمانہ تھاکہ حق وباطل میں حد امتیاز قائم کرنے کے لیے مجاہدین شمشیر بکف ہو کر میدن کارزارمیں اترتے تھے یہ طریقہ کار اس زمانہ کی روح عصر تھا، یہ عصر آج کی دنیامیں فرسودہ قرار پائے گی حق وباطل میں تمیز کامعیار موجودہ دور میں دلائل کی قوت ہے ،دلائل کے دور میں شمشیر زنی جہالت کی نشانی تصور ہوگی۔
۱۲
۔ ہمارے غیر مسلم بھائی مسلمانوں کے تہواروں کی خوشی میں شریک ہوئے ہیں ان کے اپنے تہوار بھی ہوتے ہیں مثلاً عیسائی ۲۵؍دسمبر کو حضرت عیسی کایوم ولادت مناتے ہیں اس کے علاوہ الیسٹرکاتہوار کافی مشہور ہے ، ہندوؤں اورسکھوں کے بھی اپنے مذہبی تہوار ہوتے ہیں مسلمان اپنے غیر مسلم بھائیوں کی خوشیوں میں برابر شریک ہوئے ہیں۔
۱۳
۔ چارٹر کی رو سے اقوام متحد ہ کے بنیادی مقاصد کالب لباب یہ ہے کہ نسل ،رنگ یامذہب کی بناپر تفریق کو ختم کرنا۔
۱۴
۔ درحقیقت انسان سب سے کمترجانور ہے اور بندر اعلی مخلوق میں شامل ہے۔
الجواب باسم الملک الوہاب
ان عبارت کاقائل اور تبلیغ وترویج کرنے والاشخص ضال ومضل ہے ،یعنی خود بھی گمرہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والاہے؍اور اگر ان عبارات پر بغیر کسی تاویل کے یقین رکھتاہو تو اسلام سے خارج ہے۔
’’قال اللہ تبارک تعالی :واذقال ربک للملئکۃ انی خالق بشراً من صلصال من حماٍ مسنون‘‘۔۔۔(الآیۃسورہ حجر ۲۸)
’’خلق الانسان من صلصال کالفخار oوخلق الجان من مارج من نارo
(سورۃ الرحمن:آیت ۱۴،۱۵)
’’اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشراً من طین فاذاسویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوالہ سجدین o (سورۃ ص:آیت ۷۱،۷۲)
’’قال یاابلیس مامنعک ان تسجد لماخلقت بیدی‘‘(سورہ ص:آیت۷۵)
’’عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ قال خلق اللہ اٰدم علی صورتہ طولہ ستون ذراعافلماخلقہ قال اذہب فسلم علی اولئک نفر من الملئکۃ جلوس فاستمع مایحیونک فانہاتحیتک وتحیۃ ذریتک فقال السلام علیکم فقالواالسلام علیکم ورحمۃ اللہ فزادوہ ورحمۃ اللہ وکل من یدخل الجنۃ علی صورۃ اٰدم فلم یزل الخلق ینقص بعد حتی الاٰن‘‘۔۔۔(بخاری شریف:۲؍۹۱۹،۹۲۰)
’’ثم ان کانت نیۃ القائل الوجہ الذی یمنع التکفیر فہو مسلم ،وان کانت نیۃ الوجہ الذی یوجب التکفیر لاتنفعہ فتوی المفتی ویؤمر بالتوبۃ والرجوع عن ذلک وتجدید انکاح بینہ وتین امرأتہ‘‘۔۔۔(الفتاوی التتارخانیۃ:۵؍۳۱۲)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
’’خلق الانسان من صلصال کالفخار oوخلق الجان من مارج من نارo
(سورۃ الرحمن:آیت ۱۴،۱۵)
’’اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشراً من طین فاذاسویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوالہ سجدین o (سورۃ ص:آیت ۷۱،۷۲)
’’قال یاابلیس مامنعک ان تسجد لماخلقت بیدی‘‘(سورہ ص:آیت۷۵)
’’عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ قال خلق اللہ اٰدم علی صورتہ طولہ ستون ذراعافلماخلقہ قال اذہب فسلم علی اولئک نفر من الملئکۃ جلوس فاستمع مایحیونک فانہاتحیتک وتحیۃ ذریتک فقال السلام علیکم فقالواالسلام علیکم ورحمۃ اللہ فزادوہ ورحمۃ اللہ وکل من یدخل الجنۃ علی صورۃ اٰدم فلم یزل الخلق ینقص بعد حتی الاٰن‘‘۔۔۔(بخاری شریف:۲؍۹۱۹،۹۲۰)
’’ثم ان کانت نیۃ القائل الوجہ الذی یمنع التکفیر فہو مسلم ،وان کانت نیۃ الوجہ الذی یوجب التکفیر لاتنفعہ فتوی المفتی ویؤمر بالتوبۃ والرجوع عن ذلک وتجدید انکاح بینہ وتین امرأتہ‘‘۔۔۔(الفتاوی التتارخانیۃ:۵؍۳۱۲)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g