مفتی کی شرائط
افتاء ایک نازک ذمہ داری ہے جس کے لیے رسوخ فی الدین رسوخ فی العلم اور فقہ میں مہارت کاملہ کاہونا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ مفتی کے لیے حضرات علماء کرام نے چندشرائط بیان کی ہیں ،جن کا مفتی میں پایاجانا ضروری ہے ،وہ شرائط درج ذیل ہیں ۔
(۱)
مکلف یعنی عاقل وبالغ ہو ۔
(۲)
ثقہ ہو ۔
(۳)
گناہ اور منکرات سے پوری طرح اجتناب کرنے والاہو ۔
(۴)
بداخلاق اور بے مروت نہ ہو ۔
(۵)
فقیہ النفس ہو (یعنی فقہ پر عبوراورمہارت تامہ رکھنے والا)۔
(۶)
مسائل میں غوروفکرکی کامل صلاحیت رکھتاہو۔
(۷)
ذہین وفطین اور بیدارمغزہو۔
(۸)
متقی اور پرہیزگارہو۔
(۹)
اس کی دیانت داری مشہور ومعروف ہو ۔
(۱۰)
مسائل غیرمنصوصہ میں استنباط وتخریج پر قادرہو۔
امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’لایجوزالفتیا الالرجل عالم بالکتاب والسنۃ ‘‘(اعلام الموقعین : ج،۲،ص۲۵۲)فتویٰ دینا اس آدمی کے لیے جائز ہے جو کتاب وسنت کا عالم(ماہر)ہو۔
اسی طرح مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس نے ایک عرصہ تک کسی ماہر فقیہ اور مفتی کے زیرنگرانی رہ کر فتویٰ نویسی کا کام سیکھا ہو قواعد فقہ ،زمانہ کے عرف اوراس کے احوال سے بخوبی واقف ہو اوراپنے امام کے مذہب پر پوراعبوررکھتاہو۔

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g