Thursday, April 26, 2018

عقیدہ حیات النبی ﷺ

عقیدہ حیات النبی ﷺاس بارے میں علماء دیوبند کاکیاعقیدہ ہے؟

(مسئلہ نمبر۱۰:) (۱)(الف )کیاحضور اقدس ﷺ موت کے وارد ہونے کے بعد قبر مبارک میں زندہ ہیں ؟ 
(ب)کیایہ زندگی روح مع الجسم ہے یاصرف روحانی یاصرف جسمانی؟ 
(ج)اگر روح مع الجسم ہے تو جسم عنصری دنیاوی مراد ہے یاجسم مثالی ؟ 
(د)قبرسے مراد کونسی قبر ہے علیین والی یااسی دنیامیں روضۃ الاطہر والی ؟
(۲)
 کیازائرین کاصلوۃ وسلام آپ ﷺ خود سماعت فرماتے ہیں ؟
(۳)
 اس کے بارے میں اہل سنت والجماعت کاکیاعقیدہ ہے ؟
اس بارے میں علماء دیوبند کاکیاعقیدہ ہے؟
الجواب باسم الملک الوہاب
۱۔ حضور ﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں۔
’’ نحن نؤمن ونصدق بانہ ﷺ حتی یرزق وان جسدہ الشریف لاتأکلہ الأرض والاجماع علی ھذا۔ ‘‘(القول البدیع:ص۱۲۵)
یہ زندگی روح مع الجسم ہے اور جسم عنصری دنیاوی مراد ہے اور قبر سے مراد روضہ اطہر ہے۔
’’ ولاتقولوالمن یقتل فی سبیل اللہ أموات بل أحیاء ولکن لاتشعرون‘‘(الآیۃ)
شہداء کی اس حیات کے بارے میں علامہ آلوسی فرماتے ہیں:
’’فذہب کثیر من السلف الی أنہاحقیقۃ بالروح والجسد ‘‘(روح المعانی:۲؍۲۰)
تو جب شہداکے لیے یہ حیات ثابت ہے تو انبیاء کے لیے تو بطریق اولی ثابت ہو نی چاہیے، شہداء کی حیات عبارۃ النص سے ثابت ہے جب کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات دلالۃ النص سے ثابت ہے۔
’’ مات واذاثبت أنہم أحیاء من حیث النقل فانہ یقویہ من حیث النظر کون الشہداء أحیاء بنص القرآن والأنبیاء أفضل من الشہداء‘‘ (۶؍۴۸۸)
اور ظاہر ہے اس سے جسم عنصری مراد ہے جیساکہ القول البدیع کی عبارت سے واضح طورپر معلوم ہوتاہے۔ 
۲۔ قریب سے زیارت کرنے والوں کاصلوۃ وسلام آپ ﷺ خود سماعت فرماتے ہیں۔
’’عن أبی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی علی عند قبری سمعتہ ومن صلی علی نائیاأبلغتہ ‘‘(مشکوۃ:۱؍۸۸)
۳۔ علماء اہل سنت والجماعت کابھی یہی عقیدہ ہے جو اوپر مذکور ہواہے اور علماء دیوبند اہل سنت والجماعت میں شامل ہیں، جیسے کہ المہند علی المفند میں مذکور ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب





No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g