Thursday, May 3, 2018

مرتد کاحکم ؟

مرتد کاحکم ؟
مسئلہ نمبر۳۱:) عرض ہے کہ ہمارے گاؤں میں چندماہ پہلے ایک غیر مسلم مذہباعیسائی تھا، اس نے اسلام قبول کیا،اسلام لانے سے پہلے اس کو مسجد میں لایاگیا اور اس کے والدین کو بھی مسجد میں لاکرآگاہ کیاگیا ،یہ اپنی مرضی اور خوشی سے مسلمان ہوا اس پرکوئی زبردستی نہیں کی گئی، پھر اس کا مکمل تعاون بھی کیاگیا ،ہماری آپ سے گزارش ہےکہ ایسے شخص کے متعلق جو دین اسلام قبول کرنے کے بعد منحرف ہوجائے کیاحکم ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے، آپ کی عین نواز ش ہوگی ۔
الجواب باسم الملک الوہاب
بشرط صحت سوال اگر یہ شخص اسلام قبول کرکے پھر عیسائی ہوگیا تو مرتدہے ،اورمرتداگرتین دن سمجھانے کے باوجودبازنہ آیاتواس کی شرعی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کردیاجائے لیکن یہ سزادینا عوام الناس کا کام نہیں ہے بلکہ اسلامی حکومت کاکام ہے لہذا عدالت کے ذریعے اس کو سزادلوائی جائے ۔
’’اذا ارتدالمسلم عن الاسلام والعیاذباللہ عرض علیہ الاسلام فان کانت لہ شبہۃ ابداھاکشفت الاان العرض علی ماقالوا غیرواجب بل مستحب کذا فی فتح القدیر ویحبس ثلاثۃ ایام فان اسلم والاقتل ھذا اذااستمہل فاما اذالم یستمہل قتل من ساعتہ ولافرق فی ذلک بین الحروالعبد کذا فی السراج الوہاج‘‘۔۔۔(الھندیۃ:۲/۲۵۳)
’’منہا اباحۃ دمہ اذاکان رجلا حراکان اوعبدا لسقوط عصمتہ بالردۃ قال النبی ﷺ من بدل دینہ فاقتلوہ ،وکذا العرب لما ارتدت بعدوفاۃ رسول اللہ ﷺ اجمعت الصحابۃ رضی اللہ عنہم علی قتلہم‘‘۔۔۔(بدائع الصنائع : ۶/۱۱۸)
واللہ تعالی اعلم بالصواب


No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g