Saturday, May 19, 2018

نشے کی حالت میں مرنے والے کے ایمان کاحکم:

نشے کی حالت میں مرنے والے کے ایمان کاحکم
مسئلہ نمبر۵۲) کیافرماتے ہیں مفتیان کرام علماء عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جوشخص شراب پی کر نشے کی حالت میں مرجائے وہ ایمان کی حالت میں مرتاہے یابے ایمان مرتاہے ،اس کی بخشش ہوسکتی ہے یانہیں ؟بخشش کی امیدہے یانہیں؟
الجواب باسم الملک الوہاب
شراب پیناگناہ کبیرہ ہے اورگناہ کبیرہ سے آدمی کافرنہیں ہوتاجب تک کہ حلال نہ سمجھتاہو۔

’’اماالخمر فلہااحکام ستۃ احدہا انہ شرب قلیلہا وکثیرہا‘‘۔۔۔(الہندیۃ:۵۱۰/۵)
’’وحرم قلیلہاوکثیرہا بالاجماع قولہ وحرم قلیلہا ای شرب قلیلہا لئلایتکرر الآتی من حرمۃ الانتفاع والتداوی‘‘۔۔۔(الدرالمختارعلی ہامش ردالمحتار:۳۱۹/۵’’حرم شرب القلیل من الخمرعلیناکرامۃ من اللہ علینا لئلایؤدی الی المحظور بان یدعوالقلیل الی الکثیر‘‘۔۔۔(البحرالرائق :۸۹۹/۸)

’’والکبیرۃ وقداختلف الروایات فیہافروی ابن عمر رضی اللہ انہا تسعۃ الشرک باللہ وقتل النفس بغیرحق وقذف المحصنۃ والزناوالفرار عن الزحف والسحر واکل مال الیتیم وعقوق الوالدین المسلمین والالحاد فی الحرم وزادابوہریرۃ رضی اللہ عنہ آکل الربوا وزادعلی رضی اللہ عنہ السرقۃ وشرب الخمر‘‘۔۔۔(شرح العقائد:۱۳۵،۱۳۴)
’’وبالجملۃ المرادہہنا ان الکبیرۃ التی ہی غیرالکفر لاتخرج العبدالمؤمن من الایمان لبقاء التصدیق الذی ہوحقیقۃ الایمان الثانی الآیات والاحادیث الناطقۃ باطلاق المؤمن علی العاصی کقولہ تعالیٰ یایہاالذین آمنوکتب علیکم القصاص فی القتلیٰ وقولہ تعالی یایہاالذین آمنواتوبوا الی اللہ توبۃ نصوحا،وقولہ تعالیٰ وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا الآیۃ وہی کثیرۃ الثالث اجماع الامۃ من عصرالنبی ﷺ الی یومنا ہذا بالصلوٰۃ علی من مات من اہل القبلۃ من غیرتوبۃ والدعاء والاستغفار لہم مع العلم بارتکابہم الکبائر بعدالاتفاق علی ان ذلک لایجوزلغیرالمؤمن‘‘۔۔۔(شرح العقائد :۱۳۷)
’’واللہ تعالی لایغفران یشرک بہ باجماع المسلمین الی قولہ ویغفرمادون ذلک لمن یشاء من الصغائر والکبائر مع التوبۃ اوبدونہا‘‘۔۔۔(شرح العقائد:۱۴۰،۱۴۱)
واللہ تعالی اعلم بالصواب


No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g