Tuesday, May 8, 2018

کفریہ عقائدوالے شخص سے میل جول اور رشتہ داری کاحکم

کفریہ عقائدوالے شخص سے میل جول اور رشتہ داری کاحکم
مسئلہ نمبر۴۰) کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص درج ذیل عقائد کاحامل ہے ۔
(۱)
حدیث سے جوعلم حاصل ہوتاہے وہ کبھی درجہ یقین تک نہیں پہنچتا ،اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ وعمل کااضافہ بھی نہیں ہوتا۔
(۲)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اورنزول کابھی منکرہے ۔
(۳)
قیامت کے دن شفاعت بالاذن کے وقوع کابھی انکاری ہے ۔
(۴)
معراج جسمانی کابھی منکرہے ۔
(۵)
تقدیرالٰہی کابھی منکرہے ۔
(۶)
قرآن مجید کی ایک قراء ت کاقائل ہے باقی قراء ت متواترہ کا بھی منکرہے ۔
(۷)
تین طلاقوں کے وجود کابھی منکرہے صرف دوطلاقوں کے وجود کاقائل ہے ۔
(۸)
عورتوں کے پردے کابھی منکر ہے ۔
(۹)
مذکورہ نظریات کاحامل شخص آٹھ دس سال سے تقریر وتدریس کے ذریعے اپنے عقائد کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہے ایک معتدبہ جماعت اس کی ہمنوا ہوچکی ہے لہذا از روئے شرع بتائیں کہ مذکورہ بالاعقائد کے حامل وداعی اوراس کے متبعین کاکیاحکم ہے ؟کیاان کے ساتھ سلام کرنااوران سے نکاح کرنا اوران کی اقتداء میں نماز اداکرنا اوران کے درس میں شریک ہونااوران کے ہاتھ کاذبیحہ کھانااوران کی میت پرنماز جنازہ پڑھنا وغیرہ جائز ہے یانہیں؟نیز کچھ لوگ ایسے ہیں جو مذکورہ بالاعقائد کے حاملین کے ساتھ غمی وخوشی میں شریک ہوتے ہیں اور آٹھ دس سال سے ان کے درس وبیان میں شریک ہوتے ہیں اوران کی اقتداء میں نماز اداکرتے ہیں جب کہ قریب میں اہل حق کی مسجدبھی موجودہے لیکن ہمیں کہتے ہیں کہ ہم مذکورہ بالاعقائد کے حامل وداعی کے ہمنوا اورہم مذہب نہیں ہیں،جب ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ تم پھراس کی اقتداء میں نمازاوراس کے درس میں کیوں شریک ہوتے ہیںتوجواباً کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی اس کے نکاح میں ہے ہم اس کے درس اوراس کے پیچھے نماز اس لیے پڑھتے ہیں تاکہ ہماری بیٹی کوتکلیف یاطلاق نہ دے دے ،اوریہ نکاح مذکورہ عقائد کے اظہار سے پہلے ہواتھا لہذا ازروئے شرع تفصیل کے ساتھ بتائیں کہ اس ثانی قسم کے لوگوں کے ساتھ کیارویہ رکھناچاہیئے ،اس ثانی قسم کے لوگوں سے رشتہ لینااوردینا محض اس بناء پر رکاہواہے کہ ہمارے لیے لڑکی ان کے نکاح میں دینا اوران کی لڑکی اپنے نکاح میں لینا جائز ہے یانہیں؟لہذا حق بات کی طرف ہماری راہنمائی فرمائیں ۔
الجواب باسم الملک الوہاب
(۱)
صورت مسؤلہ میں اگران الفاظ سے مراد اس کی انکارحدیث ہے تووہ کافر ہے اوراگر اس سے مقصدتاویلیں کرناہے توپھروہ تاویل مسلمات دینیہ میں ہوگی یامسلمات دینیہ میں نہیں ہوگی اگرمسلمات دینیہ میں کرے توپھربھی کافر ہے اوراگرمسلمات دینیہ میں نہیں توکافرنہیں ہے ۔

’’یاایہاالذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول ‘‘۔۔۔(النساء :۵۹)
’’ومااتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتہوا‘‘(الحشر :۷)
’’وماینطق عن الہویٰ ان ہوالاوحی یوحیٰ‘‘(النجم:۳)
’’من یطع الرسول فقد اطاع اللہ‘‘(النساء :۸۱)
’’فلاوربک لایؤمنون حتیٰ یحکموک فیماشجربینہم ثم لایجدوا فی انفسہم حرجامماقضیت ویسلموا تسلیما ،وفی ہذہ الآیۃ دلالۃ علی من ردشیئا من اوامراللہ تعالی اواوامر رسول اللہ ﷺ فہوخارج من الاسلام سواء ردہ من جہۃ الشک فیہ اومن جہۃ ترک القبول والامتناع من التسلیم وذلک یوجب صحۃ ماذہب الیہ الصحابۃ فی حکمہم بارتداد من امتنع من اداء الزکاۃ وقتلہم وسبی ذراریہم لان اللہ تعالیٰ حکم بان من لم یسلم للنبی ﷺ قضاء ہ وحکمہ فلیس من اہل الایمان ‘‘۔۔۔(احکام القرآن :۳۰۲/۲)
(۲،۵)
حیات عیسیٰ علیہ السلام اورنزول عیسیٰ علیہ السلام کامنکراورتقدیر الٰہی کامنکر کافراوردائرہ اسلام سے خارج ہے ۔
’’عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ من انکرخروج المہدی فقدکفر بماانزل علی محمد ﷺ ومن انکرنزول عیسی ابن مریمعلیہ السلام فقدکفر ومن انکرخروج الدجال فقدکفر ومن لم یؤمن بالقدر خیرہ وشرہ من اللہ عزوجل فقدکفر فان جبریل اخبرنی بان اللہ تعالی یقول من لم یؤمن بالقدرخیرہ وشرہ من اللہ فلیتخذ رباغیری‘‘۔۔۔(مجموعہ رسائل کشمیری:۲۴۲/۳)
’’عن کعب الاحبار رضی اللہ عنہ قال لمارأی عیسیٰ علیہ السلام قلۃ من اتبعہ وکثرۃ من کذبہ شکاذلک الی تعالی فاوحی اللہ الیہ انی متوفیک ورافعک الی ولیس من رفعتہ عندی میتا وانی سأبعثک علی الاعور الدجال فتقتلہ ثم تعیش بعدذلک اربعاوعشرین سنۃ ثم امیتک میتۃ الحی ،قال کعب وذلک یصدق حدیث رسول اللہ ﷺ حیث قال ’’کیف تہلک امۃ انا فی اولہا وعیسیٰ فی آخرہا ‘‘۔۔۔(مجموعہ رسائل کشمیری:۲۴۶/۳)
(۳)
قیامت کے شفاعت بالاذن کتاب اللہ اوراحادیث صحیحہ سے ثابت ہے جن کاقدرمشترک تواتر کو پہنچتا ہے لہذا اس کامنکر کافرہے ۔
’’وشفاعۃ الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام حق ای عموما فی المقصود وشفاعۃ نبینا ﷺ ای خصوصا فی المقام المحمود واللواء الممدود والحوض المورود للمؤمنین المذنبین ای من اہل الصغائر المستحقین للعقاب ولاہل الکبائر منہم ای من المؤمنین المستوجبین للعقاب حق ثابت فقدورد’’شفاعتی لاہل الکبائر من امتی ‘‘رواہ احمد وابوداؤد والترمذی وابن حبان والحاکم عن انس والترمذی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن جابروالطبرانی عن ابن عباس والخطیب عن ابن عمروعن کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہم فہوحدیث مشہورفی المبنی بل الاحادیث فی باب الشفاعۃ متواترۃ المعنی ومن الادلۃ علی تحقیق الشفاعۃ قولہ تعالی واستغفرلذنبک وللمؤمنین والمؤمنات ومنہ قولہ سبحانہ وتعالیٰ فماتنفعہم شفاعۃ الشافعین اذ مفہومہ انہاتنفع المؤمنین ‘‘۔۔۔(شرح فقہ اکبر :۹۴)
(۴)
معراج جسمانی کاانکارکرنے والا اگرمکہ سے بیت المقدس تک کاانکارکرنے والاہے تووہ کافرہے اوراگروہ بیت المقدس سے آسمان تک کی معراج 
کامنکرہے تووہ مبتدع اورگمراہ ہے 
’’وخبرالمعراج ای بجسدالمصطفی ﷺ یقظۃ الی السماء ثم الی ماشاء اللہ تعالی من المقامات العلی حق ای حدیثہ ثابت بطرق متعددۃ فمن ردہ ای ذلک الخبر ولم یؤمن بمقتضی ذلک الاثر فہوضال مبتدع ای جامع بین الضلالۃ والبدعۃ وفی کتاب الخلاصۃ من انکرالمعراج ینظر ان انکرالاسراء من مکۃ الی بیت المقدس فہوکافر ولوانکرالمعراج من بیت المقدس لایکفر وذلک لان الاسراء من الحرم الی الحرم ثابت بالآیۃ وہی قطعیۃ الدلالۃ والمعراج من بیت المقدس الی السماء ثبت بالسنۃ وہی ظنیۃ الروایۃ والدرایۃ‘‘۔۔۔(شرح فقہ اکبر:۱۱۲،
(۶)
قرآن کریم کی جوقرأتیں تواترکے ساتھ ثابت ہیں توان میں سے کسی ایک کایاسب کاانکارکرناکفرہے۔

’’من انکرالمتواترفقدکفر ومن انکرالمشہور یکفرعندالبعض ‘‘ ۔۔۔ (ہندیہ:۲۶۵/۲)
’’تتمہ ،القرآن الذی تجوز بہ الصلاۃ بالاتفاق ہوالمضبوط فی مصاحف الائمۃ التی بعث بہاعثمان رضی اللہ عنہ الی الامصار وہوالذی اجمع علیہ الائمۃ العشرۃ وہذا ہوالمتواتر جملۃ وتفصیلا فمافوق السبعۃ الی العشرۃ غیرشاذ وانماالشاذ ماوراء العشرۃ وہوالصحیح وتمام تحقیق ذلک فی فتاوی العلامۃ قاسم ‘‘۔۔۔(شامی :۳۵۸/
(۷)
جوآدمی تین طلاق کا علی الاطلاق منکرہوکہ طلاقیں صرف دوہی ہیں یعنی تیسری کے وجود کاہی منکرہے تویہ آدمی قرآن کی نص قطعی کامنکر ہے اورقرآن کی ایک آیت کا انکاربھی کفرہے ،اوراگردفعۃً تین طلاق کوایک ہی قراردیتے ہیں تویہ گمراہ ہیں کافرنہیں ہیں۔
’’اذا انکرآیۃ من القرآن اوسخربآیۃ من القرآن وفی الخزانۃ اوعاب فقدکفر‘‘۔۔۔(تاتارخانیہ:۳۳۳/۵)
’’الطلاق مرتان اشارۃ الی الطلاق المفہوم من قولہ تعالی وبعولتہن احق بردہن وہوالرجعی وہوبمعنی التطلیق الذی ہوفعل الرجل کالسلام بمعنی التسلیم لانہ الموصوف بالوحدۃ والتعدد دون ماہووصف المرء ۃ ویؤیدذلک ذکرماہومن فعل الرجل ایضاً بقولہ تعالیٰ فامساک بمعروف ای بالرجعۃ وحسن المعاشرۃ اوتسریح باحسان ای اطلاق مصاحب لہ من جبرالخاطر واداء الحقوق وذلک امابان لایراجعہا حتی تبین اویطلقہا الثالثۃ وہو المأثور فقداخرج ابوداؤد وجماعۃ عن ابی رزین الاسدی ان رجلاقال یارسول اللہ انی اسمع اللہ تعالیٰ یقول الطلاق مرتان فاین الثالثۃ فقال اوتسریح باحسان ہوالثالثۃ‘‘۔۔۔(روح المعانی :۱۳۵/
(۸)
اگرعورتوں کے مطلق پردے کامنکرہے تو کافرہے اوراگرصرف چہرے کے پردے کا منکرہے توفاسق اورگمراہ ہے ۔
’’یاایہاالنبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیہن من جلابیبہن، خرج نساء من الانصار کان علی رؤوسہن الغربان من اکسیۃ سودیلبسنہا قال ابوبکر فی ہذہ الآیۃ دلالۃ علی ان المرء ۃ الشابۃ مامورۃ بستروجہہاعن الاجنبیین واظہار الستر والعفاف عندالخروج لئلایطمع اہل الریب فیہن‘‘۔۔۔(احکام القرآن للجصاص:۵۴۵/۳)
(۹)
مذکورہ عقائد کا حامل شخص ان عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوچکاہے اس لیے اسے سلام کرنا،اس کے پیچھے نماز پڑھنااوراس کے درس میں شریک ہوناجائزنہیں ہے۔
’’قال المرغینانی تجوزالصلوۃ خلف صاحب ہوی وبدعۃ ولاتجوزخلف الرافضی والجہمی والقدری والمشبہۃ ومن یقول بخلق القرآن وحاصلہ ان کان ہوی لایکفربہ صاحبہ تجوز الصلوۃ خلفہ مع الکراہۃ والافلاہکذا فی التبیین والخلاصۃ وہوالصحیح ہکذا فی البدائع ‘‘۔۔۔(ہندیہ:۸۴
(۱۰)
ایسے عقائد رکھنے والوں کے ہاتھ کاذبیحہ کھاناجائزنہیں ہے اوران کے ساتھ میل جول رکھنا بھی جائزنہیں ہے۔
’’واما شرائط الزکاۃ فانواع ومنہا ان یکون مسلما اوکتابیافلاتؤکل ذبیحۃ اہل الشرک والمرتد‘‘۔۔۔(ہندیۃ:۲۸۵
(۱۱)
ایسے عقائد رکھنے والوں کاجنازہ پڑھناجائزنہیں ہے 
’’فنقول لایصلی علی الکافر ۔۔۔لان الصلوۃ علی ا لمیت دعاواستغفار لہ والاستغفار للکافر حرام‘‘۔۔۔(محیط برہانی :۸۲
(۱۲)
جن لوگوں نے مذکورہ عقائد کے حامل شخص کواپنی لڑکی نکاح میں دی ہوئی ہے توان عقائد کی وجہ سے اس لڑکی سے نکاح خودبخود ختم ہوگیا اوران عقائد کے اظہارکے بعداس کے پیچھے پڑھی ہوئی نمازیں واجب الاعادہ ہیں 
’’وحرم نکاح الوثنیۃ ۔۔۔۔۔۔ویدخل فی عبدالاوثان عبدالشمس والنجوم والصورالتی استحسنوہا والمعطلۃ والزنادقۃ والباطنیۃ والاباحیۃ فی شرح الوجیز وکل مذہب یکفربہ معتقدہ‘‘۔۔۔(فتاویٰ شامی:۲۱۴،۲۱۳
(۱۳)
مذکورہ عقائد کے حامل شخص سے میل جول رکھنا اوران کی خوشی غمی میں شریک ہونا اس کی اعانت کرنا ہے جوکہ جائزنہیں ہے ،اورثانی قسم کے لوگ اگرمذکورہ عقائد کی تردید کرتے ہیں اوران کے عقائد مسلمانوں والے ہیں توان سے نکاح میں لڑکی لینااوردینا دونوں جائزہیں۔
’’الاعانۃ علیٰ مالایجوز وکل ماادی الی مالایجوز لایجوز‘‘۔۔۔(درعلی الرد : ۲۵۴/۵)
واللہ تعالی اعلم بالصواب

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g