Thursday, May 10, 2018

تنظیم انجمن سرفروشان اسلام کے عقائداوراحکام

تنظیم انجمن سرفروشان اسلام کے عقائداوراحکام

مسئلہ نمبر۴۵) کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ تنظیم انجمن سرفروشان اسلام کاسرغنہ ریاض احمدگوہرشاہی کے عقائد قرآن وسنت کے مسلمہ عقائد کے خلاف اوراللہ تعالیٰ ،حضورنبی کریم ﷺ انبیاء کرام واولیاء کرام کی شان میں توہین آمیز عبارتیں موجودہیں،تمام علماء کرام نے متفقہ طورپر ریاض احمدگوہرشاہی کی کتابوں کامطالعہ کرنے کے بعد پچاس سے زائدمفتی حضرات نے فتوے صادرکردیے ہیں کہ ریاض احمدگوہرشاہی دجال،کذاب، مرتداوردائرہ اسلام سے خارج ہے اوراسلام کے خلاف عظیم فتنہ ہے،ملک کی چارعدالتوں میں حالات اورواقعات کی روشنی میں مختلف سزائیں تین مرتبہ سزائے عمرقید ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ سترہ سال سزا ایک لاکھ جرمانہ کتابوں کے شائع کرنے والوں اورپریس کی ضبطی اورسولہ افراد کے خلاف توہین رسالت توہین قرآن کی ایف آئی آردرج ہوچکی ہے،اورایک انکوائری رپورٹ میں 295C.295B.298Cکے تحت پرچہ درج کرنے کی رپورٹ ہوکر پرچہ درج کرنے کے آرڈرہوچکے ہیں ،قصورشہرمیں تنظیم کے 90کارکنوں کے خلاف کاروائی کے لیے درخواست دی گئی جس پر ریاض احمدگوہرشاہی کے ایک ایک کفر کو ثابت کردیا 2.4.2000کوتنظیم کے کارکنوں نے دوقسم کے پمفلٹ تقسیم کیے جس پر سات ملزموں کے خلاف 295Aکاپرچہ درج ہوگیا اوردوماہ سے جیل میں ہیں ، اوردہشت گردی کی عدالت میں گواہان کی شہادت دینے کی تاریخ پیشی 9.6.2000مقررہے اب ملزمان کومکملیقین ہوچکاہے کہ توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت ہوسکتی ہے ،پرچہ درج ہونے سے پہلے وہ اپنے ریاض احمدگوہرشاہی کے کفریہ عقائد کی تبلیغ اورتنظیم سے مکمل وابستگی کااظہار کرتے اورقائم تھے،لیکن اب حالات کومدنظررکھتے ہوئے سزائے موت سے بچنے کے لیے ملزمان اوران کے لواحقین اس بات پر آمادہ ہوگئے ہیں کہ ہم معافی مانگتے ہیں اورتنظیم سے لاتعلقی اورریاض احمد گوہرشاہی کوکافردجال اورکذاب کہنے کے لیے تیارہیں اورمسلمانوں کے مسلمہ عقائد پرایمان لانے کوتیارہیں اورتنظیم کے ساتھ کسی قسم کاتعلق نہیں رکھیں گے اورنہ ہی تنظیم کی تبلیغ کریں گے ،ایسی صورت میں کیامرتکب توہین رسالت توہین قرآن توہین اسلام کرنے والے شخص یااشخاص کومعافی دینے کے مجازہیں ،اگرمعافی دی جاتی ہے توکن شرائط پر ؟
نوٹ: رسالت مآب ﷺ کے زمانہ اقدس میں 9توہین رسالت کرنے والوں کوقتل کیاگیا اورابن خطل کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اگریہ گستاخ خانہ کعبہ کے غلافوں میں بھی لپٹاپایاجائے تواس کو قتل کردیاجائے، لہذا قرآن وسنت کی روشنی میں فتویٰ صادرفرمایاجاوے ،ریاض احمدگوہرشاہی کے کفریہ عقائد کی کتابوں کے حوالہ جات کی فوٹوکاپی سوال نامے کے ساتھ لف ہے ۔

الجواب باسم الملک الوہاب
بشرط صحت سوال مذکورہ بالااشخاص کی توبہ اس وقت قبول ہے جب کہ وہ تجدیدایمان کرلیں اوراگرارتداد باربارپایاجائے توقضاءً توبہ بصورت تجدید ایمان مقبول ہوگی ،البتہ تکرارکی صورت میں توبہ کے ہوتے ہوئے بھی قاضی تعزیراً سخت سزادے گا یہاں تک کہ اس کو ان کا اخلاص محسوس ہوجائے ، ابن خطل پران لوگوں کوقیاس کرناقیاس مع الفارق ہے ۔
’’من سب النبی ﷺ یکفر ولاتوبۃ لہ سوی تجدیدالایمان انتہیٰ ،فہذہ النقول عن اہل المذہب صریحۃ فی ان حکم الساب المذکور اذاتاب قبلت توبتہ فی حق القتل وقدمنا نقول غیراہل المذہب عن مذہبنا وہی صریحۃ فیماذکرنا ولم یحکی احدمنہم خلافافثبت اتفاق اہل المذہب علی الحکم المذکور ۔۔۔ثم رأیت فی حاوی الزاہدی برمزالاسرار مانصہ ولوسب النبی ﷺ یکفرولاتوبۃ لہ سوی تجدیدالایمان وقال بعض المتأخرین لاتوبۃ لہ اصلا فیقبل حدا استدلالاً بقول ﷺ حین نصربفتح مکۃ من سب النبی ﷺ فاقتلوہ لکن الاصح لایقتل بعدتجدیدالایمان لانہ علیہ الصلوۃنہی علیارضی اللہ عنہ عن قتل من قال لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ من اہل مکۃ الذین امرہبقتلہم بماروی عنہ آنفا لسبتہم النبی ﷺ قبلہ وہذا لان موجب سببہ الکفر فموجبہ القتل وتجدیدالایمان یرفع ہذا الکفر فیرفع موجبہ ایضا وہوالقتل انتہی عنہ ‘‘۔۔۔(رسائل ابن عابدین :۳۲۵)
’’(وتمامہ فی الدرر) حیث قال نقلاعن البزازیۃ وقال ابن سحنون المالکی اجمع المسلمون ان شاتمہ کافروحکمہ القتل ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفراھ قلت وہذہ العبارۃ مذکورۃ فی الشفاء للقاضی عیاض المالکی نقلہا عنہالبزازی واخطأ فی فہمہا لان المراد بہاقبل التوبۃ والالزم تکفیر کثیر من الائمۃ المجتہدین القائلین بقبول توبتہ وسقوط القتل بہاعنہ علی ان من قال یقتل وان تاب بقول انہ اذاتاب لایعذب فی الآخرۃ کماصرحوا بہ وقدمناہ آنفافعلم ان المراد ماقلناہ قطعا ‘‘۔۔۔(فتاویٰ شامی: ۳۱۷/۳)
’’یعنی ان قول مالک بعدم التوبۃ اشہر واظہر ممارواہ عنہ الولید ہذا کلام الشفاء صریحا فی ان مذہب ابی حنیفۃ واصحابہ القول بقبول التوبۃ کماہوروایۃ الولید عن مالک وہوایضا قول الثوری واہل الکوفۃ والاوزاعی فی المسلم‘‘۔۔۔(شامی:۳۱۸/۳)
’’وکذا لوارتد ثانیالکنہ یضرب وفی الثالثۃ یحبس ایضا حتی تظہر علیہ التوبۃ فان عاد فکذلک تتارخانیۃ قولہ لکنہ یضرب ای اذا ارتد ثانیاثم تاب ضربہ الامام وخلی سبیلہ وان ارتدثالثا ثم تاب ضربۃ ضربا وجیعا وحبسہ حتی تظہر علیہ آثار التوبۃ ویری انہ مخلص ثم خلی سبیلہ فان عاد فعل بہ ہکذابحر عن التتارخانیہ وفی الفتح فان ارتد بعداسلامہ ثانیاقبلنا توبتہ ایضا وکذا ثالثا ورابعا الاان الکرخی قال فان عاد بعدالثالثۃ یقتل ان لم یتب فی الحال ولایؤجل فان تاب ضربہ ضرباوجیعا ولایبلغ بہ الحد ثم یحبسہ ولایخرجہ حتی یری علیہ خشوع التوبۃ وحال المخلص فحینئذٍ یخلی سبیلہ الخ‘‘۔۔۔(فتاویٰ شامی:۳۱۳/۳)
واللہ تعالی اعلم بالصواب

No comments:

Post a Comment

Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g