منکرین حیات الانبیاء کے احکام
مسئلہ نمبر۴۲) بخدمت مفتیان کرام جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن لاہور
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں
(۱)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں
(۱)
کیامنکرین حیاۃ الانبیاء فی القبور کی اقتداء میں نمازہوجاتی ہے یانہیں؟
(۲)
(۲)
کیامنکرین حیاۃ الانبیاء اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں یانہیں؟
(۳)
(۳)
کیامنکرین حیاۃ الانبیاء کااپنے آپ کودیوبندی کہلانادرست ہے؟
قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
الجواب باسم الملک الوہاب
انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبورشریفہ میں حیات اورزندہ ہیں اورنماز بھی پڑھتے ہیں،کماوردفی الحدیث ’’الانبیاء احیاء فی قبورہم یصلون ،رواہ ابویعلی فی مسندہ عن انس ‘‘(ص ۱۴۷،ج ۶)اوراہل سنت والجماعت کااس عقیدہ پراجماع ہے کہ انہی اجسادعنصریہ مطہرہ کے ساتھ بتعلق روح حیات ہیں، اوراس کے خلاف عقیدہ رکھنے والابدعتی ہے ،لہذا اس کو امام بنانامکروہ ہے،ایسے عقیدے والے کااکابرین دیوبندرحمہم اللہ کے متفقہ عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔
’’حیاۃ النبی ﷺ فی قبرہ ہووسائرالانبیاء معلومۃ عندناعلماقطعیا لماقام عندنامن الادلۃ فی ذالک وتوارت بہ الاخبار وقدالف البیہقی جز ءً ا فی حیاۃ الانبیاء فی قبورہم فمن الاخبار الدالۃ علی ذالک مااخرجہ مسلم عن انس ان النبی ﷺ لیلۃ اسری بہ مربموسیٰ علیہ السلام وہوقائم یصلی فی قبرہ ‘‘۔۔۔(الحاوی للفتاویٰ:۵۵۴)
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی علی عندقبری سمعتہ ومن صلیٰ علی نائیاابلغتہ‘‘۔۔۔( مشکوٰۃ :۸۸/۱’’وکرہ امامۃ العبد والاعرابی والفاسق والمبتدع والاعمی وولدالزنا‘‘۔۔۔(البحرالرائق :۶۱۰،۶۰۷/۱)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی علی عندقبری سمعتہ ومن صلیٰ علی نائیاابلغتہ‘‘۔۔۔( مشکوٰۃ :۸۸/۱’’وکرہ امامۃ العبد والاعرابی والفاسق والمبتدع والاعمی وولدالزنا‘‘۔۔۔(البحرالرائق :۶۱۰،۶۰۷/۱)
واللہ تعالی اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g