حیات النبی ﷺ
مسئلہ۳۸:) ۱۔اگر کوئی شخص حیات انبیاء کے بارے میں دعویٰ کرے کہ میں حیات کوتومانتاہوں لیکن برزخی مانتاہوں یاروحانی مانتاہوں یاجسم مثالی مانتاہوں توکیا اس کا یہ عقیدہ درست ہے ؟ یااہل سنت والجماعت کے عقائد سے مماثلت رکھتاہے ؟
۲
برائے کرم یہ بتائیں کہ ایسے عقائد رکھنادرست ہے ؟
اگر نہیں تواصل حیات انبیاء کے بارے میں کیا عقیدہ ہے ؟اور کیا ہونا چاہیئے ؟ بالترتیب رقم فرمائیں۔
الجواب باسم الملک الوہاب
تمام اہل سنت والجماعت کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اور اسی طرح دیگر انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اپنے جسم کے ساتھ موجوداور حیات ہیں ،اور یہی عقیدہ درست ہے ، جب کہ چندحضرات قبرمیں زندگی کا انکار کرتے ہیں جودرست نہیں ہے ،اور اس عقیدہ والا آدمی بدعتی اور فاسق ہے۔
’’حیات الانبیاء والشہداء فی القبر کحیاتہم فی الدنیا ویشہد لہ صلاۃ موسی فی قبرہ فان الصلوۃ تستدعی جسدا حیا‘‘۔۔۔(الحاوی للفتاویٰ:۵۵۹)
’’ان الانبیاء احیاء فی قبورہم کماوردفی الحدیث ‘‘۔۔۔(رسائل ابن عابدین : ۲/۲۰۳)
’’فحصل من مجموع ھذاالکلام المنقول والاحادیث ان النبی ﷺ حی بجسدہ وروحہ وانہ یتصرف ویسیر حیث یشاء فی اقطار الارض وہوبہیئتہالتی کان علیہاقبل وفاتہ لم یتبدل منہ شیئ وانہ مغیب عن الابصار کما غیبت الملائکۃمع کونہم احیاء باجسادہم ‘‘۔۔۔(روح المعانی :۲۲/۳۷،۳۶)
’’وقال العلماء یکرہ رفع الصوت عندقبرہ ﷺ کمایکرہ فی حیاتہ ﷺ لانہ محترم حیا فی قبرہ صلوات اللہ وسلامہ علیہ دائما ‘‘۔۔۔(تفسیر ابن کثیر:۵/۶۴۶)
(ولا تقولوالمن یقتل فی سبیل اللہ اموات )قال القاضی محمد ثناء اللہ المظہری تحت ھذہ الآیۃ فذہب جماعۃ من العلماء الی۔۔۔ان ھذہ الحیاۃ مختص بالشہداء والحق عندہ عدم اختصاصہا بہم بل حیاۃ الانبیاء اقویٰ منہم واشد ظہورا آثارہا فی الخارج حتی لایجوز النکاح بازواج النبی ﷺ بعد وفاتہ بخلاف الشہید ‘‘۔۔۔( تفسیر مظہری : ۱/۱۷)
’’فاقول حیاۃ النبی ﷺ فی قبرہ ھووسائر الانبیاء معلومۃ عندنا علما قطعیا لماقام عندنا من الادلۃ فی ذلک وتواترت بہ الاخبار وقد الف البیہقی جزء اً فی حیاۃ الانبیاء فی قبورہم فمن الاخبار الدالۃ علی ذلک مااخرجہ مسلم عن انسؓ ان النبی ﷺ لیلۃ اسری بہ مربموسی علیہ السلام وہوقائم یصلی فی قبرہ واخرج ابونعیم فی الحلیۃ عن ابن عباس ان النبی ﷺ مربقبر موسیٰ علیہ السلام وہو قائم یصلی فیہ ‘‘۔۔۔(الحاوی للفتاویٰ : ۵۵۴)
’’عن سلیمان التیمی قال سمعت انسا یقول قال رسول اللہ ﷺ مررت علیٰ موسیٰ وہو یصلی فی قبرہ وزاد فی حدیث عیسیٰ مررت لیلۃ اسری بی ‘‘ ۔۔۔(الصحیح المسلم : ۲/۲۶۸)
’’عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ من صلی عندقبرہ سمعتہ ومن صلیٰ علی نائیا ابلغتہ رواہ البیہقی فی شعب الایمان ‘‘۔۔۔(مشکوٰۃ المصابیح : ۱/۸۸)
اس حدیث کے بارے میں ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
’’قال میرک نقلا عن الشیخ وابن حبان فی کتاب ثواب الاعمال بسند جید‘‘ ۔۔۔(مرقاۃ المفاتیح: ۳/۱۸)علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’وسندہ جید ‘‘ ۔۔۔(القول البدیع : ۱۱۶)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g