کفریہ عقائد رکھنے والے شخص کاحکم
مسئلہ نمبر۲۶:) کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایسے شخص کے بارے میں جو مندرجہ ذیل عقائد رکھتاہو۔
(۱)
اسلام جناب نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی شخص کایہ مقام تسلیم نہیں کرتا کہ اس کی بات حرف آخر ہے وہ خلفائے راشدین کوبھی مجتہد کے درجہ میں تسلیم کرتاہے جن کی ہر بات میں خطااور ثواب دونوں کا احتمال موجود ہے اور ان کے کسی بھی فیصلے اور رائے سے اختلاف کی گنجائش موجودہے ۔
(۲)
ہمارا مذہب اسلام صرف رسومات کامجموعہ ہے اس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اسلام کا تعلق روحانی دنیاسے ہے عملی دنیاسے نہیں ہے،یہ ذاتی معاملہ ہے اس کی جزاء وسزا کااختیار صرف اللہ کو ہے ۔
(۳)
اسلام مذہبی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے معبودوں کے خلاف بولنے سے روکتاہے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری اور احترام کے رویے کی خصوصی تلقین کرتاہے اگر چہ یہودی ہی کیوں نہ ہوں ۔
(۴)
علاقائی رسومات پر شریعت کے منافی ہونے کا فتوی نہیں لگانا چاہیئے ۔
(۵)
ایک غیر مسلم چیف جسٹس اگرچہ سکھ ہو اسلامی قانون ،اسلامی نظام عدالت کا دفاع کرسکتاہے اور دینی حلقوں کے دلوں میں جگہ بھی بناسکتاہے ۔
(۶)
شیعہ سنی دونوں مومن بھی ہیں ،مسلمان بھی ،شیعہ سنی ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں ،ایک دوسرے سے ہرگز جدانہیں ہوسکتے ،شیعہ سنی ایک جسم کی دوآنکھیں ہیں ،ایک گاڑی کے دوپہیے ہیں ،شیعہ مسلمان ہیں جو ان کو کافر کہیں وہ شرک کے مرتکب ہورہے ہیں ،شیعہ اسلام کی تبلیغ کرسکتاہے ،شیعہ مسلمان کی اصلاح بھی کرسکتاہے اور عقائد کی اصلاح بھی کرسکتاہے ۔
(۷)
جمہوریت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر موجود ہے۔
(۸)
ایسے گروہ کے بارے میں جو اپنے آپ کو سنی کہلائے لیکن شیعہ امام کے پیچھے نمازپڑھنے کوجائز سمجھے ،مشرک اور کافر کے لیے دعائے مغفرت کو جائز سمجھے ۔
الجواب باسم الملک الوہاب
بشرط صحت سوال مذکورہ بالاعقائد کا مجموعہ رکھنے والا شخص زندیق کافر ومرتد ہے جو شریعت کو اپنے تابع کرنا چاہتاہے ،اس کے بعض عقائد نصوص قطعیہ کے خلاف ہیں ۔
’’قلت الزندیق من یحرف فی معانی الالفاظ مع ابقاء الاسلام ۔۔۔فہذا ھوالزندقۃ حقا ای التغییر فی المصادیق وتبدیل المعانی علی خلاف ماعرفت عنداہل الشرع وصرفہا الی اہواۂ مع ابقاء اللفظ علی ظاہرہ والعیاذ باللہ ‘‘ ۔۔۔(فیض الباری :۴/۴۷۲)
’’یایہاالذین آمنوا لاتتخذوا الیہود والنصاری اولیاء بعضہم اولیاء بعض ،وفی ہذہ الآیۃ دلالۃ علی ان الکافر لایکون ولیا للمسلم لافی التصرف ولافی النصرۃ ویدل علی وجوب البراء ۃ من الکفار والعداوۃ لہم لانالولایۃضدالعداوۃ فاذا امرنا بمعاداۃ الیہود والنصاری لکفرہم فغیرہم من الکفار بمنزلتہم ویدل علی الکفر کلہ ملۃ واحدۃ ‘‘۔۔۔(احکام القرآن للجصاص:۲/۶۲۲)
’’والاسلام ہو القیام بالاقرار وعمل الابرار فی مقام التوفیق ‘‘۔۔۔(شرح الفقہ الاکبر :۹۰)
’’والحاصل ان الایمان محلہ القلب والاسلام موضعہ القلب والجسد الکامل منہما یترکب اوالدین اسم واقع علی الایمان والاسلام والشرائع کلہا ای الاحکام جمیعہا والمعنی ان الدین اذا اطلق فالمرادبہ التصدیق والاقرار وقبول الاحکام للانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ‘‘۔۔۔(شرح الفقہ الاکبر:۹۰)
’’ویجب اکفارالروافض فی قولہم برجعۃ الاموات الی الدنیا وبتناسخ الارواح وبانتقال روح الالہ الی الائمۃ وبقولہم فی خروج امام باطن وبتعطیلہم الامر والنہی الی ان یخرج الامام الباطن ‘‘۔۔۔(الھندیۃ :۲/۲۶۴)
’’ماکان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوکانوا اولی قربی من بعد ماتبین لہم انہم اصحاب الجحیم۔۔۔ الایۃ )
’’ویکفر اذا انکر آیۃ من القرآن اوسخر بایۃ منہ‘‘۔۔۔(البحرالرائق :۵/۲۰۵)
’’ومن اعتقدالحرام حلالااوعلی القلب یکفر ‘‘۔۔۔(الھندیۃ :۲/۲۷۴)

No comments:
Post a Comment
Thanks u
visit my blog
https://www.youtube.com/channel/UCBu2b4oQ0htyHCtsIcTJK8g